واشنگٹن: سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں امریکی مداخلت پر اپنے پہلے دور صدارت کے بیانیے سے انحراف کرتے ہوئے، حالیہ صورت حال میں اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا ہے۔
یاد رہے کہ 2019 میں بطور صدر، ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کی جنگوں کو "امریکہ کی بدترین پالیسی غلطی" قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان تنازعات میں شامل ہو کر امریکا نے 80 کھرب ڈالر کا نقصان اٹھایا، ہزاروں امریکی فوجی مارے گئے اور خطے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ، انہوں نے ان جنگوں کی بنیاد کو "جعلی دعوؤں" پر مبنی قرار دیا تھا۔
صدارتی انتخاب کے بعد بھی ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ وہ نئی جنگوں سے گریز کریں گے اور دنیا بھر میں جاری تنازعات کا پرامن حل نکالیں گے، لیکن حالیہ دنوں میں ان کا رویہ اس سے مختلف نظر آ رہا ہے۔
ٹرمپ نے غزہ پر اسرائیلی بمباری کے خلاف کسی قسم کا مؤثر ردعمل نہیں دیا، جبکہ امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ میں جنگ بندی کی قرارداد کو ایک مرتبہ پھر ویٹو کر دیا۔
اب، جب کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے، ٹرمپ نے نہ صرف اسرائیل کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا بلکہ جی-7 اجلاس ادھورا چھوڑ کر واشنگٹن واپس آ گئے۔ واپسی پر انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا:
"واشنگٹن واپسی کا مقصد صرف جنگ بندی نہیں، بلکہ ہمیں اس بڑے مسئلے کا پائیدار حل تلاش کرنا ہے۔"
تجزیہ کاروں کے مطابق، ٹرمپ کا حالیہ موقف ان کے سابقہ دعوؤں سے نمایاں تضاد رکھتا ہے، اور ان کی انتخابی مہم میں دیے گئے بیانات سے ہٹ کر ایک نئی خارجہ پالیسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔