طارق عزیز کو بچھڑے پانچ سال گزر گئے، لیکن اُن کی آواز آج بھی دلوں میں زندہ ہے

04:18 PM, 17 Jun, 2025

اسلام آباد :"دیکھتی آنکھوں، سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام" — یہ جملہ آج بھی ذہن میں گونجتا ہے۔ پاکستان ٹیلی ویژن کی پہچان، بے مثال میزبان، اداکار، شاعر اور سیاستدان طارق عزیز کو دنیا سے رخصت ہوئے آج پانچ سال ہو چکے ہیں، مگر ان کی یادیں مداحوں کے دلوں میں آج بھی تازہ ہیں۔

طارق عزیز 28 اپریل 1936 کو جالندھر میں پیدا ہوئے۔ فنی سفر کا آغاز ریڈیو پاکستان لاہور سے کیا اور پھر جب 1964 میں پاکستان ٹیلی ویژن کا آغاز ہوا، تو وہ پہلے مرد اناؤنسر کے طور پر اسکرین پر نمودار ہوئے۔ یہ ایک ایسا لمحہ تھا جس نے تاریخ رقم کی۔

ان کا مشہور پروگرام "نیلام گھر" کئی دہائیوں تک ہر گھر میں دیکھا جاتا رہا، اور پھر یہ "طارق عزیز شو" کہلایا۔ ان کی آواز، انداز، معلومات اور گفتگو کا سلیقہ ہر عمر کے ناظرین کو متاثر کرتا رہا۔

انہوں نے فلموں میں بھی کام کیا اور کئی فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے، جن میں "انسانیت"، "سالگرہ" اور "چراغ کہاں روشنی کہاں" شامل ہیں۔ صرف اداکار ہی نہیں، طارق عزیز ایک اچھے شاعر بھی تھے اور اردو و پنجابی دونوں زبانوں میں شاعری کی۔

1992 میں حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں "تمغہ حسنِ کارکردگی" سے نوازا۔ وہ 1997 سے 1999 تک قومی اسمبلی کے رکن بھی رہے۔

17 جون 2020 کو طارق عزیز نے ہمیشہ کے لیے دنیا کو الوداع کہا، لیکن اُن کی محبت، اُن کی آواز اور اُن کا انداز ہمیشہ زندہ رہے گا۔

مزیدخبریں