اسلام آباد: پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور دیگر 18 اسلامی ممالک نے ایران کے خلاف اسرائیلی حملوں کی سخت مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
یہ مؤقف ایک مشترکہ اعلامیے میں سامنے آیا ہے جو پاکستانی دفتر خارجہ نے جاری کیا۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ ایران پر اسرائیل کی طرف سے کیا جانے والا حملہ بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے اصولوں اور جینیوا کنونشنز کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
اعلامیے میں زور دیا گیا ہے کہ خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے فوری طور پر کشیدگی ختم کی جائے اور تمام فریقین کو سفارتی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران کی جوہری تنصیبات، جو عالمی ایجنسی (IAEA) کی نگرانی میں ہیں، ان پر حملہ عالمی اصولوں کے خلاف ہے۔
20 ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ مشرق وسطیٰ کو جوہری ہتھیاروں سے پاک خطہ بنایا جائے اور تمام ممالک ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT) میں شامل ہوں تاکہ مستقبل میں ایسے خطرات سے بچا جا سکے۔
مشترکہ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام قائم رکھنے کے لیے سفارت کاری، بات چیت اور ہمسائیگی کے اصولوں کی پاسداری ضروری ہے۔ فوجی طاقت کا استعمال کبھی پائیدار حل نہیں بن سکتا۔