اداکارہ نیلی… شہرت سے گمنامی تک…! (پہلا حصہ)

09:45 AM, 17 Jun, 2025

یادوں کے حوالے سے پاکستان فلم انڈسٹری کی ایک بہت طویل داستان ہے۔ وہ کہتے ہیں ناں کہ ایک سے بڑھ کر ایک وہ دور ہیرو اور ہیروئن کا تھا، چہروں کی چمک دمک نے ہر ایک کو اپنے حصار میں جکڑ رکھا تھا۔ دور دور اور وقت وقت کی بات ہوتی ہے۔ آج کے دور کے شوبز کے لوگوں کی بات کروں تو آج جدیدیت میں ایک بٹن کی دوری پر ہر اداکار اور اداکارہ آپ کے موبائل پر آ جاتی ہے مگر ان کو وہ عزت اور شہرت نہ مل سکی جو اخبارات کے دور میں ان کا مقدر بنی۔ آج بھی زمانہ انہی کو یاد کرتا ہے یا ان کی یادوں کے حوالے سے بہت دلچسپی رکھتا ہے۔ آج اپنی انہی یادوں کے حوالے سے ذکر ہوگا اداکارہ نیلی کا… تیکھے نینو والی، سفید رنگت بغیر میک اپ بھی لگے پریوں کی پری، بولے تو دل کرے کہ اسی کو ہی سنتے جائیں۔ شادی کے حوالے سے سب سے زیادہ سکینڈل بھی نیلی ہی کے بنے جاوید شیخ سے شادی پھر طلاق ایک بڑی کہانی رہی۔ نیلی جب کسی فلم کے لئے سٹوڈیو آتی تو ہر کوئی اس سے ملنے کا مشاق دکھائی دیتا۔ پاکستانی فلموں میں بحیثیت اداکارہ جو عروج و مقام اداکارہ نیلی کو ملا اس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ بطور صحافی اداکارہ نیلی سے میری ملاقاتیں بہت ہوئیں مگر ایک ملاقات جو اداکار سلطان راہی مرحوم نے اس کے ساتھ کرائی وہ بہت یادگار اس لحاظ سے ہے کہ مجھے سلطان راہی کا ایک عرصہ دراز سے زیر التوا انٹرویو کرنا تھا جو سلطان راہی کی مصروفیات کی بنا پر ہو نہیں پا رہا تھا۔ ایک دن ان کے سیکرٹری شہباز نے فون کیا کہ کل صبح 6بجے راہی جی کے گھر آ جائیں… انہوں نے شباب سٹوڈیوز میں اداکارہ نیلی کے ساتھ ایک گانا پکچرائز کرنا ہے… سلطان راہی کا انٹرویو تو ہونا ہی تھا خوشی اس بات کی کہ اگلے دو تین دن اداکارہ نیلی سے ملاقات رہے گی۔ یاد رہے ان دنوں ایک فلمی گیت کی ریکارڈنگ تین دن میں ہوا کرتی تھی۔ کوئی گیارہ بجے دن شباب سٹوڈیو پہنچے اور وہیں سلطان راہی نے میرا تعارف اداکارہ نیلی سے یوں کرایا… اے اسد پتری اے جنگ اخبار دا لکھاری اے… سلطان راہی ہر عمر کے بندے یا بندی کو پتری کہہ کر پکارتے تھے۔ اس سے پہلے کہ بات کو آگے لے کر چلوں۔ اس وقت کی نامور اداکارہ نیلی کون تھی… کہاں سے آئی، کس طرح اس نے خود کو منوایا۔ اس کی شہرت سے اس کی گمنامی تک کی داستان کو مختصر لفظوں میں بیان کرتا چلوں۔ 
1986ء میں حسین و جمیل اداکارہ نیلی نے فلمی دْنیا میں آئی تو اس زمانے میں تو اردو فلموں کا وہ سنہرا دور ختم ہوچکا تھا، جو 70ء کی دہائی اور 1984ء تک عروج پر رہا۔ نیلی نے اس مشکل دور میں اپنے فن اداکاری کے ایسے جوہر دکھائے کہ اس کی شہرت اردو اور پنجابی فلموں کے حوالے سے ہر عام و خاص تک پہنچ گئی۔حیدرآباد سے گریجویشن کرنے والی نیلوفر جب اپنی فیملی کیساتھ لاہور گئی تو معروف ہدایت کار یونس ملک سے ایک تقریب میں اس کو دیکھا اور تعارف ہوا، ان دِنوں وہ اپنی پنجابی فلم ’’آخری جنگ‘‘ کے لیے دو نئی لڑکیوں کی تلاش میں تھے، نیلوفر کی صورت میں انہیں اپنا مطلوبہ چہرہ مل گیا۔ اس طرح وہ پہلی بار فلم ’’نیلی‘‘ کے نام سے اداکار غلام محی الدین کے ساتھ کاسٹ ہوگئی۔ اس کے ساتھ اداکارہ نادرہ کی بھی یہ پہلی فلم تھی۔ اس کے بعد 1987ء میں ہدایت کارہ سنگیتا نے اپنی اردو فلم ’’منے کی قسم‘‘ میں نیلی کو ایک اہم کردار میں کاسٹ کیا۔ فلم میں محمد علی اور بابرہ شریف جیسے وراسٹائل فن کار بھی شامل تھے جبکہ فلم میں نیلی کے ہیرو اداکار فیصل تھا۔ اس فلم میں بہترین اداکاری کرنے پر اس کو سال کی بہترین معاون اداکارہ کا نگار ایوارڈ دیا گیا۔ اس فلم کی کامیابی کے ساتھ ہی اردو باکس آفس پر نیلی کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہوگیا۔ ہدایت کار اقبال کشمیری کی سپرہٹ میوزیکل ایکشن فلم ’’چوروں کی بارات‘‘ میں وہ ڈبل رول میں بھرپور انداز میں جلوہ گر ہوئی، اس فلم کی کاسٹ میں ندیم، ششما شاہی اور شیوا، جس کا تعلق نیپال سے تھا، وہ بھی شامل تھی۔ نیلی کی گہری آنکھیں، تیکھے نقوش خاص طور پر ان کی شیریں آواز، اور چال ڈھال نے دیکھنے والوں پر سحر طاری کردیا۔ حسن و جمال کے ساتھ اس کی شخصیت میں ایک وقار کی جھلک نظر آتی تھی۔ وہ بے حد سلیس اردو بولتی، جو کوئی ان سے ایک بار مل لیتا، ان کا گرویدہ ہوجاتا۔ جہاں تک اس کی خود اعتمادی کی بات ہے، تو رات کو دو بجے شوٹنگ سے فارغ ہوکر اکیلی اپنی گاڑی لے کر گھر جاتی۔ بعض لوگوں سے فاصلہ بھی رکھتی، ایسے لوگ اس کے بارے میں منفی پروپیگنڈا بھی کرتے کہ وہ نک چڑی، جھگڑا لو اور ضدی ہے لیکن وہ ایسے پروپیگنڈے کی پروا کئے بغیر اپنا کام جبکہ سینئر اور لیجنڈ ہدایت کار ان کے بارے میں بے حد اچھی رائے کا اظہار کرتے، ان کی نظر میں وہ کردار نگاری کے حوالے سے بہت بڑی پرفارمر تھی۔ اکثر لوگ اس کے بارے میں یہ کہتے تھے کہ بابرہ شریف کے بعد اگر صحیح معنوں فلم انڈسٹری کو کوئی اداکارہ ملی تو وہ نیلی ہے۔ یاد رہے نیلی نے اپنی پہلی فلم ’’آخری جنگ‘‘ سے آخری فلم ’’صنم‘‘ کی ریلیز تک تقریباً 104فلموں میں اداکاری کی اور مختلف نوعیت کے کرداروں میں خود کو اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔    (جاری ہے)

مزیدخبریں