پانچ دہائیوں کے صحافتی تجربہ میں کئی مشاہدات ہوئے۔ بہت اہم مشاہدہ سیاسی مخالف کی کامیابی کا دکھ محسوس کیا ہے۔اس کی تازہ ترین زندہ مثال سندھ حکومت کے عہدیداروں کی جانب سے مریم نواز کی پنجاب کے خلاف جلاپے کی آتش سے سلگتا ردعمل ہے۔ اگرچہ پنجاب میں مریم نواز نے اس سے بیسوں گنا زیادہ کارکردگی کا عملی مظاہرہ کر دیا ہے جو پیپلز پارٹی کی سولہ سالہ حکومت ، ن لیگ کی ایک سالہ حکومت کے مقابلے میں نہیں کر سکی تو اس کی ستائش نہ سہی اس سے بہتر کارکردگی کی عملی کوششوں کا آغاز زیادہ بہتر مثبت اور عوام دوست ردعمل سمجھا جا سکتا ہے۔ کیونکہ بہتری اور اعلیٰ کارکردگی میں مسابقت کسی صورت منفی رویہ نہیں ہے۔ مثلاً ہر امیر، غریب کی ضرورت روٹی، مریم نے بیس روپے سے کم کر کے بارہ روپے کر دی۔ سندھ حکومت بیس روپے سے کم کر کے دس روپے کر دے۔ مریم نے پنجاب کے ہر غریب کے گھر رمضان المبارک میں دس ہزار روپے بھجوائے۔ سندھ حکومت سندھ کے ہر غریب کے گھر پندرہ ہزار روپے بھجوادے۔ اسی طرح دیگر بہت سے شعبوں اور طبقات کی فلاح و بہبود کے عملی اقدامات کا معاملہ ہے۔ سندھ حکومت اس حوالے سے پنجاب حکومت سے آگے نکل جائے۔
یہ ذاتی مشاہدہ ہے ضلع سجاول کے ایک دیہی علاقہ میں جے یو آئی کے مولانا جمیل کے بلدیاتی الیکشن کا ماحول دیکھا۔ ایک شخص مولانا سے کہہ رہا تھا آپ کو ووٹ دیا تو بی بی جو پیسے (بے نظیر انکم سپورٹ) دیتی ہے بند کر دے گی۔ پولنگ سے ایک روز قبل لوگوں سے شناختی کارڈ لے لئے گئے۔ پیپلزپارٹی کے امیدوار کے نشان پر مہر لگاؤ اور اپنا کارڈواپس لیتے جاؤ۔ کراچی کے ایک حلقہ میں ن لیگ کے دیرینہ کارکن نے متعلقہ ایس پی کو درخواست دی فلاں پولنگ سٹیشنوں پر ایس ایچ او پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دلوا رہا ہے۔ اسے انکوائری کے نام پر طلب کر کے ایس پی نے ڈانٹ ڈپٹ کی اور ایک اہلکار کو حکم دیا ، اسے ساتھ کمرے میں بٹھاؤ، متعلقہ ایس ایچ کو بلاؤ اور اس کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج کر کے اندر کرو۔ کارکن کا موبائل لے لیا گیا تھا۔ اتفاق سے جیب میں موجود پیسے نہیں لئے گئے۔ کمرہ کا دروازہ بھی کھلا تھا اس نے ایک اہلکارکو اشارے سے بلایا۔ اسے دو ہزار روپے دے کر اس کے فون پر بھائی کو صورتحال سے مطلع کیا جس کے پیر پگاڑو کے بھائی سے قریبی تعلقات ہیں۔ ان کے اثر و رسوخ استعمال کرنے پر کارکن سے یہ لکھوا کر کہ ایس ایچ او کے خلاف بے بنیاد درخواست دی تھی، گلو خلاصی کر دی گئی۔ ایس پی سطح کا پولیس آفیسر جس پارٹی کا کارکن بن جائے اسے کون شکست دے سکتا ہے۔ یہ میرے اس مشاہدہ کی سچائی کی دلیل ہے کہ سندھ کے نوجوانوں کی اکثریت پیپلزپارٹی سے دور ہو رہی ہے۔ ن لیگ لگتا ہے پیپلزپارٹی کیلئے سندھ سے دستبردار ہو گئی ہے۔ مدمقابل واحد سیاسی قوت ہونے کے باعث سندھی نوجوانوں کی اکثریت عمران خان کی پی ٹی آئی کا اسیر ہوگئی۔ لیکن اب عمران خان کی نہایت ناقص کارکردگی اور جس رفتار سے سوشل میڈیا کے جھوٹے پروپیگنڈے کے اثرات کم ہو رہے ہیں اسی رفتار سے سندھی نوجوان پی ٹی آئی سے مایوس ہو کر دور ہو رہے ہیں اور اس سے جو خلا پیدا ہو رہا ہے ، سندھ اسمبلی کا ایک ممبر بھی نہ ہونے کے باوجود ن لیگ کی قیادت اس خلا کو پر کرتی نظرنہیں آرہی۔
سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے طنز کیا ہے مریم نواز وزیر اعلیٰ ہو کر نالیاں اور گٹر صاف کراتی پھر رہی ہیں۔ یہ طنز نہیں ستائش کی بات ہے کہ وزیر اعلیٰ کو صوبے کی نالیوں اور گٹروں تک کا دھیان ہے۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کہیں گئی نہیں اور میڈیا پورے پنجاب میں صفائی دکھا رہا ہے۔ صفائی ہے تو دکھا رہا ہے کیمرہ کی آنکھ جو ہوتا ہے وہی دیکھتی ہے۔ سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے دعویٰ کیا سندھ میں بہترین سسٹم بنا لیا گیا ہے۔ پنجاب کسی کی جاگیر نہیں پنجاب میں ہماری بھرپور سیاسی نمائندگی موجود ہے۔ پنجاب کے گلی کوچوں میں ہمارے کارکن سرگرم ہیں۔
جواب آں غزل کے طور پر پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا اگر سندھ حکومت سندھ میں اچھا سسٹم لے آئی ہے تو شاباش، اب کراچی کا کوڑا تو اٹھوا لیں۔ شرجیل میمن نے پنجاب حکومت کے رویہ کو متکبرانہ اور سیاسی حق تلفیوں پر مبنی قرار دیا۔ اس کے جواب میں عظمیٰ بخاری نے کہا، تکبر اور غرور سے بھرے وہ لوگ ہیں جو دو ٹرم، تین ٹرم سے اقتدار کو انجوائے کر رہے ہیں مگر کارکردگی زیرو ہے۔ مریم نواز پہلی وزیر اعلیٰ ہیں جنہوں نے عاجزی اور خدمت کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہے۔ یہی ان کی مقبولیت کی وجہ ہے۔ سندھ کے لوگ بھی مریم کے طرز حکومت کے دیوانے ہیں یہی آپ کا مسئلہ ہے۔ کارکردگی سے مقابلہ کریں۔ جلنے ،کڑھنے، بیان بازی کا کوئی فائدہ نہیں۔ شرجیل میمن کے اس دعویٰ کہ پنجاب میں ہماری بھرپور سیاسی نمائندگی موجود ہے، کارکن سرگرم ہیںکے جواب میں عظمیٰ بخاری نے نشاندہی کی ، اس لئے پنجاب میں صوبائی حلقوں میں چار سو اور یونین کونسل کے انتخاب میں 50 ووٹ نکلتے ہیں۔ آپ صرف کراچی صاف کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اپنی ناکامی کا غصہ پنجاب پر نہ اتاریں۔
مجھے حیدر آباد اور جامشورو کے تعلیمی اداروں ، حیدر آباد ، کراچی، ٹھٹھہ، ٹنڈو محمد خان، سجاول، بدین اور دیگر شہروں میں نوجوانوں اور عام شہریوں سے بات چیت کا موقع ملا۔ بلا خوف تردید عظمیٰ کی اس بات کی تائید کرتا ہوں کہ سندھ کے عوام کی بڑی اکثریت سندھ میں مریم نواز کی کارکردگی جیسی کارکردگی کی خواہاں ہے۔
اس حوالے سے سندھ کے عوام بالخصوص نوجوانوں کے قدیم احساس محرومی کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کے دور میں سندھ سے مطالعاتی دورے پر آنے والے طلباء و طالبات پنجاب دیکھ کر اس خواہش کا اظہار کیا کرتے تھے ، شہباز شریف ہمیں دے دو۔ اور اب مریم نواز نے تو کارکردگی کے حوالے سے شہبازشریف کے دور میں پنجاب میں ہونے والی کارکردگی کو کہیں پیچھے چھوڑدیا ہے اور بہت سے ایسے منفرد اقدامات کئے ہیں جن کی پنجاب کیا پورے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ یہ میری دیانتدارانہ رائے ہے کہ مریم نواز نے پنجاب میں سیاست برائے خدمت کی لائق تحسین مثال قائم کی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ گزشتہ پانچ سال سے کراچی اور اندرون سندھ بالخصوص حیدر آباد میں زیادہ وقت گزرا اس لئے غیر ارادی طورپر پنجاب اور سندھ حکومتوں کی کارکردگی کا موازنہ ہو جاتا ہے۔ کیونکہ دونوں صوبوں میں دعوؤں اور عملی اقدامات کی عینی شاہد بن چکا ہوں۔
عظمیٰ بخاری کی سندھ حکومت کو شاباش
09:44 AM, 17 Jun, 2025