ایران اور اسرائیل کے درمیان تادمِ تحریر ایک دوسرے پر فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ اسرائیل ایران کے اہم شہروں، فوجی مراکز اور اعلیٰ عسکری عہدیداروں اور جوہری توانائی کے مراکز نشانہ بنانے میں کامیاب رہا ہے تو ایران بھی جوابی اقدامات کے طور پر اسرائیل کے مختلف مقامات کو بلاسٹک میزائلوں کے حملوں سے ملبے ڈھیروں میں تبدیل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ شروع شروع میں اسرائیل کا پلڑا کچھ بھاری رہا ہے تو اب ایران بھی بڑی حد تک اُس کو مسکت جواب دے کر اس پلڑے کو کم از کم برابر یا اپنے حق میں کرنے میں کامیاب ہوچکا ہے۔ یہ درست ہے کہ اسرائیل کے مقابلے میں ایران کا زیادہ جانی نقصان ہوا ہے ۔ اب تک اُس کے 244 افراد شہید اور 1300 زخمی ہو چکے ہیں ۔ بلا شبہ ان میں زیادہ تعداد سویلین افراد کی ہے لیکن ان میں ایران کے اعلیٰ عسکری اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈرز اور مایہ ناز ایٹمی سائنسدان بھی شامل ہیں۔ ایران نے ان کی فہرست جاری کر کے ان کی شہادت کو تسلیم کر رکھا ہے ۔ اس کے ساتھ اسرائیل ، ایران کے تہران، اصفہان، شیراز اور مشہد جیسے اہم شہروں اور ان میں مختلف طرح کی فوجی اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہا ہے۔ اگلے دن ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد کاظمی اسرائیلی حملے کا نشانہ بنے تو اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے دھمکی آمیز لہجے میں بیان دیا کہ ہمیں جو کرنے کی ضرورت ہے ، کرتے ہیں اور کوئی ہمیں اس سے روک نہیں سکتا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل کو ایران کے خلاف کھلی جارحیت اور کامیاب فضائی حملوں میں امریکہ، برطانیہ اور فرانس بالخصوص امریکہ کی ہر طرح کی حمایت حاصل ہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ امریکہ اسرائیل ، ایران جنگ میں شریک (براہ راست) ہو سکتا ہے لیکن امریکہ چاہتا ہے کہ دونوں ممالک میں معاہدہ طے پا جائے ۔ خلیج کی قطر اور عمان جیسی ریاستیں بھی اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے کوشاں ہیں تاہم ایران نے اُن کو جواب دیا ہے کہ وہ امریکہ سے بات کریں۔ ایران اُس وقت تک کوئی معاہدہ نہیں کرے گا جب تک وہ اپنے اوپر کیے جانے والے اسرائیلی حملوں کا جواب نہ دے دے۔ ایران کہاں تک اپنے اوپر حملوں کا جواب دینے میں کامیاب رہا ہے اس کی تفصیل بڑی حد تک میڈیا میں آ چکی ہے اور مسلسل آ رہی ہے۔ یہاں اس کا ایک اجمالی سا خاکہ پیش کیا جاتا ہے اور اس میں دئیے گئے اعداد و شمار یا اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات حتمی نہیں ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ایرانی جوابی اقدامات اور بلاسٹک میزائل حملوں کے نتیجے میں ان میں مسلسل تبدیلی آ رہی ہے۔
میرے سامنے موقر قومی روزنامے ’’نئی بات‘‘ کا پیر 16 جون کا تازہ ترین شمارہ (پرچہ) رکھا ہوا ہے اس کے صفحہ اول کے اوپر والے تقریباً ایک تہائی حصے میں ایرانی بلاسٹک میزائلوں کے حملوں کے نتیجے میں
اسرائیل کے مختلف شہروں میں تباہی کے مناظر کی تصاویر لگی ہوئی ہیں تو ان پر ’’ایران کے میزائل حملے، اسرائیل میں غزہ جیسے مناظر ‘‘ کی جو آٹھ کالمی لیڈ(شہ سرخی) جمائی گئی ہے وہ بھی کمال کی ہے ۔ ذیلی سُرخیوں کے طور پر جو تین لائنیں لکھی گئی ہیں ان میں اسرائیل اور ایران دونوں میں حملوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی تفصیل کا ذکر ہے تو اس کے ساتھ امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے ایران کو دی جانے والی دھمکی اور یوکرین سے امریکی میزائل سسٹم مشرقِ وسطیٰ منتقل کرنے کے حوالے بھی موجود ہیں ۔ قومی معاصرروزنامہ ’’نئی بات‘‘صفحہ اول کی شہ سُرخی (لیڈ) اور اس کی ذیلی سُرخیاںبلاشبہ بڑی چشم کشا ہیں تاہم یہاں اسرائیل کے مقابلے میں ایران کی فضائی قوت کے کمزور ہونے کا ذکر کیا جاسکتا ہے۔ اسرائیل کی فضائیہ میں جہاں تعداد میں زیادہ لڑاکا طیارے موجود ہیں وہاں جدید ترین امریکی ساختہ F-35 جنگی طیارے بھی اُس کی فضائیہ کا حصہ ہیں۔ اسرائیل نے اپنے ان جنگی طیاروں کے ذریعے ایران پر کئی فضائی حملے کیے ہیں اسرائیل کے بقول اُن میں سے ایک حملے میں 70 اسرائیلی طیارے شامل تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل نے اپنے ان طیاروں کے ذریعے حملوں سے ایران کی کئی تنصیبات کو نقصان پہنچایا ہے لیکن اس کے جواب میں ایران نے اسرائیل کے کم از کم 13 لڑاکا طیارے جن میں تین F-35 طیارے بھی شامل ہیں اب تک مار گرائے ہیں اور اس کے ساتھ اسرائیل کے دو پائلٹ بھی زندہ گرفتار کر رکھے ہیں۔ یقینا یہ ایران کی نمایاں عسکری کامیابی سمجھی جاسکتی ہے جس سے اسرائیل کی ایران پر جنگی برتری کا شروع شروع میںجو تاثر اُبھرا تھا اُس کو زائل کرنے میں مدد ملی ہے۔
یہاں میں معروف دانشور، تجزیہ نگار، سینئر صحافی اور کالم نگار محترم ڈاکٹر فاروق عادل جو سابق صدر ِ مملکت ممنون حسین کے دورِ صدارت میں اُن کے پریس سیکریٹری بھی رہے ہیں کی ایک تجزیاتی تحریر کا حوالہ دینا چاہوں گا جس سے بھی ایران کے مقابلے میں اسرائیل اور اُس کے امریکہ جیسے حلیف مغربی ممالک کی ایران پر جو واضح برتری حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کے ناکام ہونے کا جوازسامنے آتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں ’’جنگ کے تیسرے روز اسرائیل کے دو حلیفوں یعنی امریکہ اور برطانیہ نے بہ اندازِ دیگر اسرائیل کی گلو خلاصی کے لیے آواز بلند کی ہے۔ برطانیہ نے کہا ہے کہ اب تحمل اور سفارت کاری کے ذریعے مسئلے کے حل وقت آ گیا ہے ۔ عین اس وقت ڈیل ایکسپرٹ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران اور اسرائیل کے درمیان ڈیل کرا سکتے ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ کی طرف سے اس نوعیت کے بیانات میں حالیہ پاکستان بھارت جنگ کی یاد تازہ کر دی ہے۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف جارحیت کی تو اس موقع پر امریکی صدر نے مکمل طور پر لا تعلقی ظاہر کی اُن کا کہنا تھا کہ دونوں ملک کشمیر پر ڈیڑھ ہزار سال سے لڑتے جھگڑتے چلے آ رہے ہیں اب بھی خود ہی جھگڑا چکا لیں گے۔ اگلے ایک ڈیڑھ دن میں پاکستان نے جب بھارت کی اچھی طرح پٹائی کر دی تو اس تنازع سے لاتعلقی اختیار کرنے والے ٹرمپ ڈیل ماسٹر بن کر تنازع میں کود گئے اور جنگ بندی کرا دی۔ اس سے معلوم ہوا کہ ٹرمپ اور اُن کے امریکہ کی اصل دلچسپی پاکستان سے نہیں بھارت کی سلامتی سے تھی۔ ایران، اسرائیل جنگ میں بھی یہی ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ اس معاملے کے دو پہلو ہیں ایک کا تعلق میدانِ جنگ سے ہے اور دوسرے کا ایران کے فطری حلیفوں یعنی مسلم دنیا سے ہے‘‘۔
ڈاکٹر فاروق عادل آگے چل کر لکھتے ہیں ،’’امریکہ کی طرف سے ڈیل اور برطانیہ کی طرف سے تحمل اور سفارت کاری کو موقع دینے کی اپیل واضح کرتی ہے کہ ان تین دنوں میں ایران نے جتنا بھرپور جواب دے دیا ہے عالمی طاقتیں اُس کی توقع نہیں رکھتی تھیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایران کی طرف سے ایسا کیا ہوا ہے جس نے مغرب کو پریشان کر دیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل اور اُس کے حلیف یا سرپرست اس مفروضے کے ساتھ جنگ میں کودے تھے کہ ایران عالمی تنہائی کا شکار ہے جس کے نتیجے میں ایران کی فوجی طاقت کسی بڑی جنگ کا سامنا کرنے کے قابل نہیں رہی… یہ مفروضہ وزن رکھتا ہے ۔ ایران کی فضائی قوت پر خاص طور پر تحفظات تھے ۔ حالیہ تین روزہ جنگ کے دوران میں اس کا ثبوت بھی مل گیا ہے ۔ اسرائیل کے سیکڑوں جہاز ایران کی فضائوں میں اُڑتے دیکھے گئے جن کے خلاف ایرانی فضائیہ تاحال حرکت میں نہیں دیکھی گئی‘‘۔ڈاکٹر فاروق عادل نے ایران کے اس کمزور پہلو کے جواب میں ایران کو طاقت بخشنے والے مثبت پہلو کا حوالہ ایران کیطرف سے میزائل سازی کی صلاحیت کا ذکر کر کے دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں،’’ایران نے اس جنگ کے دوران میں سیکڑوں میزائلوں سے اسرائیل پر حملے کیے ہیں ۔ اسرائیل دُنیا کا واحد ملک ہے جس کے پاس میزائل حملوں سے بچائو کا نظام موجود ہے جسے آئرن ڈوم کہتے ہیں۔ جنگ کے دوران میں یہ نظام مکمل طور پر فعال ہے لیکن اس کے باوجود تل ایبب سمیت اسرائیل کے مختلف حساس علاقوں میں ان میزائلوں نے تباہی مچائی ہے … اس جنگ کا ایک اور پہلو اسرائیلی طیاروں کی تباہی ہے ۔ ایران نے اب اسرائیل کے 13 طیارے تباہ اور دو پائلٹ گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ اسرائیل نے پائلٹوں کی گرفتاری کی تردید کی ہے لیکن طیاروں کی تباہی کے معاملوں پر وہ خاموش ہے ۔ یہ خاموشی معنی خیز ہے‘‘۔
ڈاکٹر فاروق عادل آگے چل کر لکھتے ہیں،’’اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اب مسلم دنیا کیا کر رہی ہے؟ ایران کے خلاف جارحیت کرتے ہوئے اسرائیل کے پیشِ نظر مسلم دنیا کے ساتھ ایران کے تعلقات کا پہلو ضرور رہا ہو گا کہ حالیہ دنوں میں ہونے والی نارملائزیشن کے باوجود ممکن ہے کہ طاقتور مسلم ملک لاتعلقی اختیار کیے رکھیں۔ اگر ایسی کوئی توقع تھی بھی تو وہ پوری نہیں ہو سکی‘‘۔ ڈاکٹر فاروق عادل اس ضمن میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ وغیرہ کی طرف سے ایران کی حمایت کے اعلانات کا حوالہ دے کر بتاتے ہیں کہ اسرائیل کو اس بارے میں بھی منہ کی کھانا پڑی اور ایران مسلم ممالک کی حمایت کے ساتھ مضبوط ہو کر اُس کے مقابلے میں جم کر کھڑا ہے اور پوری اُمتِ مسلمہ اُس کی پشت پناہی کر رہی ہے۔
اسرائیل کا حملہ ، ایران سنبھل چکا ہے… !
09:44 AM, 17 Jun, 2025