جان کیٹس کی شاعری سے بات آگے نکلتے ہوئے تصوف و وفا ہجر وصال، خود کلامی و بقا تک چلی گئی۔کیٹس لکھتے ہیں:
اے سپاہی! تجھے کیا دکھ ہے؟
کیوں تنہا اور زرد چہرہ لیے
اس جھاڑ جھنکار میں بھٹکتا ہے؟
جھیل کے کنارے سبزہ مرجھا گیا ہے
اور پرندے خاموش ہیں۔
تیرے ماتھے پر درد کی لکیریں ہیں
اور پسینے کے قطرے موت کی مانند
تُو لاغر، اُداس، اور بے جان سا لگتا ہے…
جیسے محبت میں مارا گیا ہو۔
میں نے ایک پری جیسی عورت دیکھی،
میدانوں میں، جنگلی پھولوں کے بیچ۔
اس کی آنکھیں جادو سے بھری تھیں…
وہ بڑی حسین اور نازک تھی۔
میں نے اس کے لیے ہار بنائے،
اس کے ہاتھ تھامے، اور وہ مسکرائی۔
مجھے لگا وہ بھی مجھ سے پیار کرتی ہے،
کیونکہ اس نے آہیں بھریں اور گیت گائے۔
وہ مجھے اپنے جادوئی غار میں لے گئی،
اور مجھے شہد، عجیب جڑیں، اور میٹھا کھانا کھلایا۔
پھر وہ مجھ پر جھکی، میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں…
اور میں سو گیا، گہری نیند میں۔
خواب میں میں نے کئی بادشاہوں اور شہزادوں کو دیکھا،
سب زرد چہرے، چیختے ہوئے، ’’بچ! یہ بے رحم ہے!‘‘
انہوں نے مجھے خبردار کیا، ان کی آنکھیں کھلی تھیں
اور مجھے دکھ ہوا، مگر تب جاگ چکا تھا … اکیلا۔
اب میں یہاں ہوں، اس ویران جگہ،
جہاں سب کچھ مرجھایا ہوا ہے،
اور کوئی پرندہ نہیں گاتا…
محبت میں شکست کھایا ایک سپاہی۔
جان کیٹس کی شاعری سے بات نکلتی ہے، تو صرف رومانوی گمشدگی تک محدود نہیں رہتی۔ وہ عشق جو ابتدا میں صرف ایک پری جیسی عورت کے حسن سے وابستہ نظر آتا ہے، وہ درحقیقت کائناتی بے قراری اور باطنی تلاش کا استعارہ بن جاتا ہے۔
اسی تلاش کے سفر میں ایک مقام وہ بھی آتا ہے جہاں تصوف و وفا، ہجر و وصال، خودکلامی و بقا سے ہوتے ہوئے انسان فنا فی العشق کی سرحدوں تک جا پہنچتا ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے جہاں شخصیت، عبدیت میں ڈھل جاتی ہے اور محبتِ مجازی، عشقِ حقیقی کا روپ اختیار کر لیتی ہے۔ جیسے کوئی سپاہی محاذِ عشق پر زخمی ہو کر، اندر ہی اندر فنا ہو چکا ہو۔
عبدالقادر بیدلؒ کے ہاں یہی سپاہی کسی بیرونی جنگ کا زخمی نہیں بلکہ خودی کے محاذ پر لڑنے والا مجاہد ہے۔ وہ کہتا ہے:
من نہ آنم کہ دگر گویم و دگر اندیشم
من ھمان عاشقم و عشق ھمان است کہ بود
(میں وہ نہیں ہوں جو کچھ اور کہے اور کچھ اور سوچے … میں وہی عاشق ہوں، اور عشق وہی ہے جو ہمیشہ تھا)
یہ عشق بیدل کے ہاں ایک مسلسل جنگِ باطن ہے … جس میں عاشق ہر لمحہ فنا ہوتا ہے اور ہر سانس میں اپنی ہستی کو لاہوت کے سپرد کرتا ہے۔
سپاہی کا زرد چہرہ، مرجھایا سبزہ، خاموش پرندے … یہ سب باطنی ویرانی کے استعارے ہیں۔ دنیا نے اپنا رنگ کھو دیا کیونکہ دلِ عاشق میں وہ روشنی باقی نہ رہی جو وصل کے گمان سے پیدا ہوئی تھی۔
مرزا غالبؒ کی شاعری میں یہ عشق ایک وجودی بحران بن کر ابھرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ محبت کوئی سہل کھیل نہیں، اور وہ سپاہی جو اس راہ کا راہی بنے، اسے نہ صرف دل ہارنا ہے بلکہ خودی بھی مٹانی ہے:
عشق پر زور نہیں، ہے یہ وہ آتش غالب
کہ لگائے نہ لگے، اور بجھائے نہ بنے
یہ وہی آگ ہے جو کیٹس کے سپاہی کو جلائے جا رہی ہے، اور غالب کو بھی۔ غالب کے ہاں وہ سپاہی تنہا بھی ہے اور خود سے ہمکلام بھی۔ یہ خودکلامی ہی صوفیانہ تجربے کی بنیاد بنتی ہے … جہاں عاشق اپنے آپ سے سوال کرتا ہے، اور جواب میں خاموشی یا نور حاصل کرتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں ’’سپاہی‘‘ محض محبوب کی بے وفائی کا نہیں، بلکہ روحانی فراق کا مارا نظر آتا ہے۔ محبت اب کسی عورت یا چہرے کی گرفت میں نہیں، بلکہ کائناتی لاشعور سے جڑی ہوئی ایک طلب ہے۔ یہ وہی کیفیت ہے جو ابن عربی اور حلاج جیسے صوفیوں کے ہاں ’’عشقِ مطلق‘‘ کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔
سید محمد حسین تائبؒ کی شاعری میں تو جیسے ہر سطر میں روحانی کائنات کا دروازہ کھلتا ہے۔ ان کے ہاں سپاہی محض زخمی نہیں، بلکہ ایک ساجد ہے، ایک واصل ہے، ایک عبدِ کامل ہے جو فانی دنیا کے ہنگاموں سے کٹ کر روحانی تسلیم و رضا کی منزل پر کھڑا ہے:
غبارِ راہ کو مقصودِ منزل جان لیتے ہیں
کہ تائب رہروانِ شوق کی پہچان ایسی ہے
یہاں سپاہی کی زردی … فنائیت کا پرچم ہے۔ اس کا تنہائی میں جھاڑ جھنکار میں بھٹکنا … سلوک کی وادیاں ہیں، جہاں ہر موڑ پر ذات کے پردے اٹھتے ہیں۔ وہ اب کسی محبوب کی راہ تکنے والا مسافر نہیں، بلکہ خودی سے نکل کر عبدیت کے خیمے میں داخل ہونے والا سجدہ گزار ہے۔
شخص سے شخصیت، شخصیت سے عبدیت، اور عبدیت سے وحدت و الا اللہ یہ وہی روحانی تسلسل ہے جو تصوف میں ’’فنا‘‘ اور ’’بقا‘‘ کے درمیان طے ہوتا ہے۔ جیسے جیسے سپاہی، اپنی شکست کو قبول کرتا ہے … وہ وجود کی اصل حقیقت سے قریب ہوتا جاتا ہے۔ ’’الا اللہ‘‘ … یہ وہ آخری نکتہ ہے جہاں عاشق، محبوب میں فنا ہو کر عبد بن جاتا ہے۔ اب وہ خود کچھ نہیں، فقط ’’ھُو‘‘ رہ جاتا ہے۔
پہچان
09:43 AM, 17 Jun, 2025