استور سے واپسی

09:42 AM, 17 Jun, 2025

منی مرگ اور ڈومیل سے واپسی ہوتے ہوتے کئی دن لگے مگر آخر کار ہم نکل آئے۔ شہر کو چھوڑا تو وادی میں بادل تھے، بارش تھی اور ہوائیں تھیں۔ ہم دریائے استور کے ساتھ ساتھ سندھ ساگر کی جانب اترنے لگے جیسے پانی اتر رہا تھا۔ راستے میں پڑے ہوئے نظارے سفارش پر ملنے والے ایوارڈ کی طرح بے وقعت تھے کہ اب واپسی پر ہم انہیں نظرانداز کرتے آ رہے تھے۔ خشک منظر، سنگلاخ چٹانیں اور کہیں کہیں سرسبز وادی ہمارے قدم نہ روک سکی۔ پوری وادی ایک طرح سے بارش میں بھیگی ہوئی تھی اور ہم پُرامید تھے کہ زیرو پوائنٹ سے بابوسر کا راستہ کھل چکا تھا۔ چند روز پہلے تو ہم ایک طویل سفر کر کے بشام اور کوہستان سے ہوتے ہوئے چلاس پہنچے تھے، جب ہمارے گلے خشک اور سانس اکھڑے ہوئے تھے۔ اب یہ حوصلہ بھی غنیمت تھا کہ بابوسر کی برف ہماری راہوں کی رکاوٹ بننے والی نہ تھی۔
واپسی پر اسرار احمد کی گاڑی مناسب ساتھ دے رہی تھی۔ حجاب پوچھتی تھی کہ کیا ہم ناران میں رکنے والے ہیں یا کہیں اور؟ اسی ادھیڑ بن میں ہم عین اسی مقام پر قراقرم پر چڑھ گئے جہاں دریائے استور اباسین میں اترتا تھا۔ ترشنگ، دیوسائی، برزل اور گوری کوٹ کے پانی یہاں پر غذر، گلگت، ہنزہ، نگر، مناپن، راکا پوشی، شمشال، خنجراب اور نلتر سے آنے والے پانی سے مل رہے تھے۔ پل عبور کرتے ہی دریائے سندھ ہماری بائیں جانب آ گیا اور ہم چلاس کی طرف چلنے لگے جہاں نانگا پربت کا معبد ہمارے سامنے تھا۔
رائے کوٹ پل سے گزرتے ہی دریائے سندھ دائیں ہاتھ بہنے لگا اور فیری میڈوز کی جیپیں تاتو لے جانے کے لیے بائیں ہاتھ کھڑی تھیں۔ یہ مرحلہ مشکل تھا کہ فیری میڈوز کی قدم بوسی کیے بغیر ہم آگے بڑھ گئے۔ فوزیہ اور کنول دونوں کی خواہش تھی کہ فیری میڈوز جانا چاہیے مگر تمام بچے ناران جلدی پہنچنے کے خواہاں تھے۔
رائے کوٹ کے بعد وہ مقام بھی آیا جو گونر فارم تک قراقرم ہائی وے کی مستقل تباہی کے تسلسل کی گواہی رہا ہے۔ سالہا سال سے پندرہ کلومیٹر کا یہ ٹکڑا کبھی سلامت نہیں ملا۔ لینڈ سلائیڈنگ بھی زیادہ یہیں پر ہوتی ہے اور بارش کا پانی بھی سڑک کے اسی حصے کو اپنا نشانہ بناتا ہے۔ اسی مقام پر دھول، گرد اور گرمی سفر کو اذیت میں بدلتی ہے۔
گونر فارم کے بعد زیروپوائنٹ موڑ سے ہم بابوسر کی جانب مڑ گئے اور سندھ ساگر کے ساتھ ساتھ قراقرم ہائی وے کو بھی خدا حافظ کہا۔ اب ہماری منزل وہی بابو سر ٹاپ اور پھر ناران تھے جہاں ایک ہفتہ قبل برف کے انبار تھے اور راستے انسانی بے بسی پر مسکراتے تھے۔
ان راہوں کی کہانی ہر سفرنامے کا حصہ رہی ہے اور یہ علاقے وقت کی رفتار سے بہت پیچھے رہ گئے، سوائے اس کے کہ چند نئے ہوٹل بنے اور کچھ بٹ کڑاہیاں۔ بابوسر کی آبادی سے لے کر ٹاپ تک فقط اتنی ترقی ہوئی تھی کہ خوبصورت چوٹیوں پر اللہ کے گھر بن گئے تھے۔ پندرہ سال پہلے فقط پتھروں کے ڈھیر پر رکھا چندے کا ڈبہ اور چونے کی لکیریں کھینچ کر اللہ کے گھر کا افتتاح کیا گیا تھا اور اب وہاں بہت بڑا مدرسہ تھا۔ اللہ کے گھر کی تعمیر میں غائبانہ مدد اور برکت کا بڑا ہاتھ تھا ورنہ سال بھر میں صرف دو ماہ آباد رہنے والا بابوسر ٹاپ عام آدمی کی توجہ کیسے حاصل کر سکتا تھا۔ یہ بھی ایک اعجاز تھا کہ برف میں ڈھکے ہوئے مدرسے اور منجمد ہو چکے چندہ بکس میں عطیات و صدقات کا سلسلہ جاری رہتا تھا اور یہ گھر کسی عام آدمی کا نہیں تھا کہ حکومت اس بلند ترین مقام پر قبضے کی وجہ پوچھے اور ویسے بھی وہاں عبادت ہوتی تھی۔
بابو سر ٹاپ کے بعد گلگت بلتستان ختم ہوا۔ ہوٹلوں پر پھیلائی گئی مہنگائی اور پتھریلا رویہ بتاتا تھا کہ اب ہم خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کی حدود میں ہیں جس کی انتظامیہ آبشاروں اور جھیلوں کو بھی نیلام کرتی ہے تو اس کا بوجھ عام سیاح اٹھاتا ہے۔

مزیدخبریں