دنیا میں کسی بھی ملک کی عسکری طاقت کا اندازہ صرف اس کے ہتھیاروں، ٹینکوں یا جہازوں سے نہیں لگایا جاتا، بلکہ اس کے فوجی بجٹ، اس بجٹ کا درست استعمال اور فی فوجی اخراجات بھی اہم ترین عوامل میں شمار ہوتے ہیں۔ فی فوجی سالانہ خرچ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایک ملک اپنے سپاہی کو تربیت، ساز و سامان، سہولیات اور تحفظ فراہم کرنے میں کتنا سنجیدہ اور مالی طور پر تیار ہے۔ اگر ہم دنیا کے بڑے اور درمیانے درجے کے ممالک کے دفاعی بجٹ کا جائزہ لیں تو ایک نہایت دلچسپ مگر فکری پہلو سامنے آتا ہے، جو خاص طور پر پاکستان کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
امریکہ، جو دنیا کا سب سے بڑا دفاعی بجٹ رکھنے والا ملک ہے، ہر فوجی پر سالانہ 674,000 ڈالر خرچ کرتا ہے۔ اس رقم میں فوجیوں کی تنخواہیں، تربیت، جدید اسلحہ، انٹیلیجنس نیٹ ورک، ویلفیئر سسٹمز اور بین الاقوامی آپریشنز شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اتنا بھاری خرچ کرنے کے باوجود امریکہ افغانستان میں بیس سال کی جنگ کے بعد اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہوا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ صرف پیسہ ہی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتا۔
پاکستان کا دیرینہ حلیف سعودی عرب ہر فوجی پر 186,000 ڈالر خرچ کرتا ہے۔ یہ خطہ اگرچہ مالی طور پر مضبوط ہے لیکن جنگی صلاحیت کے حوالے سے اکثر بیرونی دفاعی مدد پر انحصار کرتا ہے، جس کی حالیہ مثال یمن جنگ اور ایران کے ساتھ کشیدگی ہے۔
چین، جو دنیا کی دوسری بڑی فوج رکھتا ہے، اپنے ہر فوجی پر 135,000 ڈالر سالانہ خرچ کرتا ہے۔ یہ ایک متوازن رقم ہے جس کے ذریعے چین اپنی فوج کو مسلسل جدید خطوط پر استوار کر رہا ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو اور بحر ہند میں بحری طاقت کے مظاہرے اس کا واضح ثبوت ہیں۔
روس، جس کی افواج یوکرین میں طویل جنگ میں مصروف ہیں، ہر فوجی پر 99,000 ڈالر سالانہ خرچ کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں یوکرین کا خرچ 108,000 ڈالر ہے۔ یوکرین چونکہ غیر روایتی جنگ میں عالمی امداد پر انحصار کرتا ہے، اس لیے یہ فرق ممکن ہے۔ تاہم ان دونوں ممالک کی جنگ نے دنیا میں فوجی اخراجات اور نتائج کے درمیان تعلق کو نئے سرے سے اجاگر کیا ہے۔
ہندوستان، جس کی معیشت ترقی پذیر ہے مگر دفاعی خواہشات وسیع، اپنے ہر فوجی پر 57,000 ڈالر خرچ کرتا ہے۔ یہ خرچ اب بھی مغربی طاقتوں سے بہت کم ہے مگر جنوبی ایشیا میں ایک قابلِ ذکر پوزیشن کا حامل ہے۔ تاہم 2019 کے بعد لائن آف کنٹرول اور لداخ جیسے مواقع پر بھارت کی کارکردگی پر سوالیہ نشان موجود ہیں۔
اسرائیل جو ہمیشہ حالتِ جنگ میں رہتا ہے، اپنے فوجی پر 34,000 ڈالر خرچ کرتا ہے۔ ایران جیسا نظریاتی ریاستی ماڈل 25,000 ڈالر میں افواج کو سنبھالتا ہے۔ جبکہ بنگلہ دیش جیسا نسبتاً خاموش ہمسایہ ملک 19,000 ڈالر فی فوجی سالانہ خرچ کرتا ہے۔
اب آتے ہیں پاکستان پر، جو بیک وقت دہشتگردی کے خلاف جنگ، مغربی سرحد پر غیر مستحکم افغانستان، مشرق میں بھارت، اور جنوب میں بحری خطرات جیسے محاذوں پر دفاعی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ پاکستان اپنے ایک فوجی پر سالانہ محض 16,000 ڈالر خرچ کرتا ہے — جو شاید دنیا میں سب سے کم ہے۔ یہ خرچ اتنا کم ہے کہ اس میں ایک فوجی کی بنیادی تربیت، اسلحہ، وردی، رہائش، میڈیکل سہولیات، اور مشقیں بمشکل پوری کی جا سکتی ہیں۔ پھر بھی پاکستانی فوج نے:
•دہشتگردی کے خلاف کامیاب جنگ لڑی۔
•بھارت کو سرحدی محاذ پر مؤثر جواب دیا۔
•اقوامِ متحدہ کے امن مشن میں کلیدی کردار ادا کیا۔
•روس کو افغانستان میں پسپا کرنے میں کردار ادا کیا۔
•جدید ہتھیاروں اور میزائل ٹیکنالوجی میں خودانحصاری حاصل کی۔
•دنیا کی بہترین چھوٹے بجٹ کی تربیت یافتہ افواج میں مقام بنایا۔
یہ تمام کارنامے اس وقت سامنے آتے ہیں جب وسائل کی شدید قلت ہو، عوامی سطح پر تنقید ہو، اور معیشت مشکلات سے دوچار ہو۔
پاکستان کا فی فوجی خرچ کم ضرور ہے مگر اس کے فوجی کی تربیت، جذبہ اور میدانِ جنگ میں کارکردگی دنیا کے بڑے ممالک کے فوجیوں سے کم نہیں۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ محض بجٹ یا ہتھیار فوج کی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتے، بلکہ نیت، نظم، حکمت عملی اور قومی عزم جیسے عناصر فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں۔
البتہ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں فوجی صلاحیتوں کو برقرار رکھنے کے لیے بجٹ میں اضافے، جدید ساز و سامان، اور ویلفیئر پروگرامز کا ہونا ناگزیر ہے۔ پاکستان کو نہ صرف اپنے فوجی بجٹ پر نظرثانی کرنی چاہیے بلکہ اس خرچ کو شفافیت اور مؤثریت سے بھی جوڑنا ہوگا تاکہ کم پیسوں میں زیادہ سے زیادہ دفاعی نتائج حاصل کیے جا سکیں۔
دنیا بھر میں دفاعی اخراجات کا جائزہ
09:41 AM, 17 Jun, 2025