معلوم نہیں کہ معاہدہ اسلام آباد/مفاہمتی یادداشت قائم ہے یا ختم ہو گیا ہے کیونکہ ایران کی سعودی قطری آئل ٹینکروں پر بمباری کے بعد معاملات بگڑنے لگے ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ ٹینکر ایران کے طے کردہ راستے کی بجائے دوسرے روٹ پر گامزن تھے، جوابی کارروائی پر امریکہ نے ایران کے ساحلی شہروں و عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنایا اور تباہی پھیلا دی۔ خامنہ ای کے جنازے پر انتقام انتقام کے نعروں نے ایرانی قوم کے موڈ کی نشاندہی کی پھر ایرانی پارلیمنٹ نے ایم او یو ختم کرنے اور انتقام لینے کا اعلان کر کے ابہام کا خاتمہ کیا۔ 28فروری 2026ءکو جب اسرائیل و امریکہ نے ایران پر حملہ کیا تو اس وقت جنگ کے اعلان کردہ اہداف کچھ اور تھے۔ ایران کی عسکری قوت اور جوہری صلاحیت کا مکمل خاتمہ سرفہرست تھا۔ صدر ٹرمپ کے مطابق اہداف چند دنوں میں حاصل کئے جانے تھے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ جنگ شروع ہوئے پانچ مہینے ہونے کو آئے ہیں۔ ایران ڈٹ کر کھڑا ہے۔ اپنی لیڈرشپ کے خاتمے اور تباہی و بربادی کے باوجود اس نے رتی برابر بھی کمزوری نہیں دکھائی ہے۔ اس عرصے میں آبنائے ہرمز کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا فن بھی اس نے سیکھ لیا ہے۔ امریکی صدر دھمکیاں دیتے نظر آرہے ہیں جبکہ ایران نے عملاً آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول ثابت کر دکھایا ہے اور خطے کو راکٹوں و ڈرونز کے استعمال کے ذریعے برباد کرنے کا عملی مظاہرہ بھی کر دکھایا ہے۔ خطے میں 30/29 امریکی فوجی اڈے ویران ہو چکے ہیں۔ عرب حکمران سہمے ڈرے ہوئے ہیں۔ ایران جنگ میں اپنی کامیابی کے تاثر کو پختہ کرنے میں مصروف ہے۔ مفاہمتی یادداشت کے خاتمے اور انتقام کے نعرے کے ذریعے امریکہ اور اس کے عرب حواریوں کو پیغام دیاگیا ہے کہ ہرمز ایران کی ہے اور اسے استعمال کرنے والوں کو ٹیکس دینا پڑے گا اور امریکہ کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ امریکہ جنگ جیت نہیں سکتا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل بڑی یکسوئی اور مہارت کے ساتھ گریٹر اسرائیل کے نقشے میں رنگ بھرنے میں مصروف ہے۔ جنوبی لبنان میں بھی کارروائیاں کر رہا ہے اور غزہ میں بھی اپنے طے کردہ منصوبوں کی تکمیل کر رہا ہے۔ حزب اللہ ایران کا خطے میں بازوئے شمشیرزن ہے۔ اسرائیل نے خاصی حد تک اسے غیر فعال بنانے کی حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے، جب ہم ایران، امریکہ جنگ میں مصروف تھے تو اسرائیل نے لبنان حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ کر لیا جس کے نتیجے میں حزب اللہ پر پابندی عائد کر دی گئی اور اس کے آرائشی نشانات تلف کر دیئے گئے۔ ایران ہرمز کی بندش کے بعد باب المندب کو بند کر کے تیل کی عالمی تجارت کو برباد کرنے کی حکمت عملی پر گامزن ہے۔ مقصد خطے میں امریکی مفادات اور اس کی حیثیت کو نقصان پہنچا کر اپنی قوت اور فتح کے تاثر کو مستحکم کرنا ہے۔ سردست وہ اس میں کامیاب نظر آتا ہے لیکن پاکستان کے لئے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ معاہدہ اسلام آباد کے خاتمے اور جنگ کے پھیلاﺅ کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں بڑھیں گی اور بڑھ رہی ہیں، جس کے اثرات ہماری معیشت پر بھی پڑیں گے بلکہ عملاً پڑ بھی رہے ہیں۔ ہماری معیشت پہلے ہی مشکلات میں گھری ہوئی ہے۔ مہنگائی، اندرون ملک سیاسی خلفشار، دہشت گردوں کے خلاف جنگ ایسے حالات نے ہمارے معاملات دگرگوں کر رکھے ہیں۔ جنگ کے پھیلاﺅ اور طوالت کے باعث ہمارے معاملات میں ناقابل برداشت بگاڑ پیدا ہو جائے گا۔ ہم کیا کریں، کہاں جائیں گے،
مشکلات سے کیسے نمٹیں گے، یہ سب سوالات اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں لیکن سب سے اہم اور مشکل مرحلہ وہ ہو گا جب سعودی عرب کو اس جنگ میں براہ راست شریک ہونے پر مجبور کر دیا جائے گا۔ حالات اسی سمت جاتے نظر آرہے ہیں۔ اگر سعودی عرب جنگ میں کود پڑتا ہے تو دفاعی معاہدے کے مطابق ہم سعودی عرب کے ساتھ شریک جنگ ہوں گے۔ ہم سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہونے پر مجبور ہوں گے۔ ذرا سوچیں اس وقت ہماری کیا حالت ہو گی، ثالث سے فریق بننے تک کا عمل جاری ہے، جنگ کے پھیلتے سائے حقیقت بننے جا رہے ہیں۔ ایران نے کسی قسم کی گفتگو/مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ آبنائے ہرمز کو سرخ لکیر قرار دے دیا ہے، اسے بند بھی کر دیا ہے۔ تیل کی عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ حالات کشیدہ ہی نہیں بلکہ پیچیدہ بھی ہو رہے ہیں۔ دنیا پہلے ہی روس، یوکرائن جنگ کے منفی اثرات کا سامنا کر رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ خطے میں اسرائیل نے ایک عرصے سے جنگی ماحول بنایا ہوا ہے۔ جنگ، جنگ اور جنگ کے ذریعے اپنے مقاصد کے حصول کے لئے ہمہ وقت مصروف ہے۔ اسرائیل نے ہی ایران کے ساتھ حالیہ جنگ چھیڑی تھی اور پھر بڑی خوبصورتی اور مہارت کے ساتھ یہ امریکہ کی گود میں ڈال دی۔ امریکہ اس جنگ میں فریق بن کر مصیبت کا شکار ہو گیا ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے درست کہا ہے کہ معاہدہ ختم کرنے کی سازش اسرائیل نے کی کیونکہ جنگ اسرائیلی مقاصد کے حصول کی فعال حکمت عملی ہے۔ جنگ ہو گی تو عرب و عجم میں تباہی ہو گی۔ عربوں کے وسائل جل کر راکھ ہوں گے، انسان مریں گے، مسلمان برباد ہوں گے، اسی میں اسرائیل کے لئے خیر ہے۔ یہی اسرائیلیوں کا مقصد ہے کہ غیر یہودی لڑتے مرتے رہیں۔ ایران، امریکہ جنگ اسرائیل کی اسی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ جنگ بندی معاہدے کا خاتمہ بھی اسرائیل کی کامیابی ہے۔ جی ڈی وینس نے درست کہا ہے کہ یہ اسرائیلی سازش ہے۔
معاہدہ اسلام آباد کا خاتمہ و اسرائیلی سازش
09:42 AM, 18 Jul, 2026