گاﺅں کا پرائمری سکول اور میری یادیں ۔۔۔! 

09:41 AM, 18 Jul, 2026


گزشتہ صدی کے پچاس کے عشرے کے نصف اول کے سالوں جب میں اپنے گاﺅں کے پرائمری سکول میں پڑھا کرتا تھا کا ذکر کرنے لگا ہوںتو پہلے مجھے ربِ کریم کی مہربان ذات کا شکر ادا کرنا ہے کہ میں بقائمی ہوش و حواس یہ سطور لکھ رہا ہوں تو اُس دور کے بہت سارے لوگ، عزیز و اقارب، دوست احباب، ہم جماعت، رشتہ دار، جاننے والے اور مہربان اساتذہ اُس جہان کوسدھار چکے ہیں جہاں سے کبھی کوئی لوٹ کر نہیں آیا۔ گھر سے بات شروع کروں تو محترم والدین، والدِ گرامی لالہ جی مرحوم و مغفور اور والدہ محترمہ بے جی مرحومہ و مغفورہ تنگ دستی اور عسرت کے باوجود اتنے مہربان، نرم خو، دیکھ بھال اور نگہداشت کرنے اور محبت اور شفقت سے پیش آنے والے کہ اس دور میں اس کا تصور بھی محال ہے ۔ بڑے بھائی صاحب کی مجھ سے محبت مثالی تھی ہی ، بہنوں کا بھی میں لاڈلہ اور اُن پر حکم چلاتا رہتا تھا۔ سکول میں ابتدائی جماعتوں سے ہی ذہین طالب علم سمجھا جانے لگا اور ہر کلاس میں مانیٹر بنتارہا۔ پرائمری سکول میں پہلی سے تیسری جماعتوں تک منشی سیدا خان مرحوم ، مولوی غلام حسین مرحوم اور ملک ملتان خان مرحوم (بعد میں انہوں نے اپنا نام تبدیل کر کے ملک محمد سلمان رکھ لیا تھا) ہمیں پڑھایا کرتے تھے۔ دو کمروں، سامنے برآمدے ، برآمدے کے سرے پر ایک کوٹھڑی اور کچے کھلے صحن جس پر ریت بچھی ہوئی تھی پر مشتمل سکول کی عمارت تھی۔ یہ عمارت کئی عشرے قبل جب سکول کا لوئیر مڈل کا درجہ تھا تو بنائی گئی تھی اور اس کی کوئی چار دیواری یا گیٹ وغیرہ نہیں تھا۔ صحن جو عمارت کے جنوب میں پھیلا ہوا تھا اس کے کنارے پر کیکر کے پرانے درخت کھڑے تھے۔ 
خیر ذکر پرائمری سکول کا ہو رہا تھا۔ میں چوتھی جماعت میں پہنچا تو ملک محمد اقبال مرحوم ہیڈ ماسٹر بن کر آئے اور پھر چوتھی اور پانچویں دونوں جماعتوں میں ہمارے اُستاد رہے ۔ ملک محمد اقبال کا تعلق اپنے گاﺅں سے ہی تھا۔بے پناہ مہربان ، محنتی اور شفیق شخصیت کے مالک تھے ۔ پڑھانے کے ساتھ ہمیں چھوٹی موٹی سبق آموز اور نصیحت کی 
باتیں بھی کیا کرتے تھے ۔ انتہائی کفایت شعار اور وقت کے پابند۔ انہوں نے ایک کام یہ کیا کہ سکول کی چاردیواری بنوا دی ۔ اس کے لئے انہوں نے یہ کیا کہ ہم لڑکوں سے کہا کہ آدھی چھٹی کے وقت جب آپ لوگ اپنے گھروں سے کھانا وغیرہ کھا کر لوٹیں تو راستے میں سکھوں اور ہندوﺅں کے پتھروں سے بنے ہوئے پُرانے مکانات جن کی دیواریں وغیرہ ٹوٹی اور وہ گِرے ہوئے ہیں ، وہاں سے ہر لڑکا روزانہ ایک پتھر اُٹھا کر سکول لایا کرے۔ ہم کتنے دنوں تک ہندوﺅں اور سکھوں کے چھوڑے پرانے ٹوٹے پھوٹے مکانوں کے پتھر اُٹھا کر سکول لاتے رہے اورسکول میں پتھروں کا ایک بڑا سا ڈھیر لگ گیا ۔ ان سے بعد میں ماسٹر اقبال صاحب نے اپنی نگرانی میں گاﺅں کے ایک مستری (راج) سے سکول کی چاردیواری بنوا لی ۔ مٹی ، گارے کی چنائی سے چار، پانچ فٹ اُونچی دیوار پر سوائے مستری کی مزدوری کے اور کچھ خرچ نہ آیا ۔ اس چار دیواری میں کوئی گیٹ وغیرہ تو نہ لگایا جا سکا کہ شاید اُس کے وسائل نہیں تھے تاہم اس سے سکول کے احاطے کی حد بندی ہو گئی جو اب تک جب سکول کو ہائی کا درجہ مل چکا ہے ، قائم و دائم ہے۔ 
مجھے یاد ہے کہ ہم جون جولائی ، اگست میں اپنے سکول (گاﺅں کے پرائمری سکول) میں جایا کرتے تھے تو ہمارے بڑے بھائی بند اور رشتہ دار وغیرہ جو ملحقہ گاﺅں کے ہائی سکول میں چھٹی سے لےکر دسویں جماعتوں تک زیرِ تعلیم تھے انہیں چھٹیاں ہوتی تھیں۔ ہمیں اس سے بڑی تکلیف ہوتی کہ ہمارے بڑے چھٹیاں منا رہے ہیں اور ہمیں سکول جانا پڑتا ہے ۔ تاہم جولائی ، اگست کے مہینے بارشوں کے دن ہوا کرتے تھے۔ بارش ہو جاتی تو پھر سکول جانے کی بجائے چھٹی کر لی جاتی یا پھر یہ ہوتا کہ شدید بارشوں خاص طور پرجب پنڈی ، سہالہ اور کہوٹہ وغیرہ کے علاقوں میں شدید بارش برستی تو دریائے سواں جو اُس زمانے میں گاﺅں کے بالکل دامن میں شمال مشرق سے بہتا ہوا گزرتا تھا ، اس میں اُونچے درجے کا سیلاب یا طغیانی آ جاتی جس کا نظارہ کرنا بھی بڑے لطف کی بات ہوتی تھی۔ دریا کا پاٹ گاﺅں کے مشرق اور شمال مشرق میں کئی میل تک پھیل جاتا ۔ اس میں اُونچی اُونچی لہریں جنہیں مقامی زبان میں ہم ”کپر“ کہتے تھے اُٹھتیں۔ ان کے ساتھ دریا میں تنوں اور جڑوں سمیت پورے پورے درخت ، اُن کی شاخیں، ٹہنیاں اور کچھ دوسری اشیاءوغیرہ جن میں گھروں کا چھوٹا موٹا سامان بھی ہوتا بہہ کر آ رہی ہوتیں۔ بعض منچلے جنہیں تیرنا آتا تھا وہ سیلابی پانی میں گھس کر ان اشیاءکو کھینچ کر کنارے پر لے آتے تاہم سانپوں وغیرہ کا خطرہ بھی ہوتا تھا کہ درختوں کی شاخوں یا دوسری اشیاءکے ساتھ کہیں لپٹے ہوئے نہ ہوں۔ 
مجھے یاد پڑتا ہے کہ دریا (دریائے سواں ) میں جب شدید طغیانی آئی ہوتی تو بعض اوقات مال مویشی بھی ان میں بہہ کر آتے یا گاﺅں کے لوگوں کے مال مویشی وغیرہ جو دریا سے ملحقہ سرکنڈوں اور شیشم کے درختوں والے بڑے جنگل میں چر رہے ہوتے اُن کے بہنے کا بھی خطرہ پیدا ہو جاتا ۔ بعض اوقات کوئی بیل ، گائے یا بھینس وغیرہ بہنے لگتی تو اسے ڈوبنے اور بہنے سے بچانے کے لئے دو تین ایسے جری افراد بھی تھے جو دریا کے پانی میں کود جاتے اور جانوروں کو سنبھال کر دریاکے کنارے پر پہنچا دیتے ۔ ان افراد نے اپنے سینوں کے ساتھ کسی بچھڑے یا بڑے سائز کے بکرے وغیرہ کی کھال سے بنی ہوئی ہوا بندٹیوب جس میں ہوا بھری ہوتی تھی اور جسے اپنی زبان میں” سنڑاعی“ کہتے تھے لگا رکھی ہوتی تھی اور اُس کے سہارے وہ پانی کے بہاﺅ کے مخالف رُخ میں تیرتے آگے بڑھتے اور بہنے کے خطرے سے دوچار مال مویشیوں تک یا دریا کے دوسرے کنارے تک جا پہنچتے ۔دریا کی بلند و بالا موجوں میں اُوپر نیچے ہوتے اُن کے ہیولے نظرآتے تو ڈر ہوتا کہ یہ بلند و بالا موجیں کہیں انہیں بہا کر ہی نہ لے جائیں لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا۔ یہ جری اور باہمت افراد جن میں ایک کا نام باقر کشمیر ی تھا اور دوسرے رشتے میں میرے تایا دادو (کرم داد ) تھے۔ ان کی دریا میں تیرنے اور بھرپور طغیانی کے ہوتے ہوئے دوسرے کنارے تک پہنچنا بلا شبہ بڑے حوصلے ، ہمت اور دلیری کی بات تھی جس کی مثال شاید اب ڈھونڈنے سے بھی نہ ملے ۔ 

مزیدخبریں