عشق، انسان اور دھرتی

09:40 AM, 18 Jul, 2026


پنجابی وسیب کی شناخت صرف اس کے دریاو¿ں، کھیتوں، میلوں اور لوک داستانوں سے نہیں، بلکہ اس عظیم روحانی روایت سے بھی ہے جسے میاں محمد بخشؒ، بابا بلھے شاہؒ، حضرت خواجہ غلام فریدؒ اور حضرت وارث شاہؒ جیسے صوفی شعرا نے اپنے کلام کے ذریعے زندہ و جاوید بنا دیا۔ ان بزرگوں کی شاعری محض ادبی تخلیق نہیں، بلکہ ایک تہذیبی دستاویز، روحانی منشور اور اخلاقی آئینہ ہے، جس میں قرآنِ حکیم کی تعلیمات، محبت ِانسانیت، خود شناسی، صلہ رحمی، عشقِ الٰہی اور اخلاقی اقدار ایک دوسرے میں مدغم دکھائی دیتی ہیں۔
ان صوفی شعرا کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ انہوں نے مذہب کو نفرت کی دیوار نہیں بلکہ محبت کا پل بنایا۔ انہوں نے انسان کو اس کے رب سے جوڑنے سے پہلے انسان کو انسان سے جوڑنے کی دعوت دی۔ ان کے نزدیک عبادت کا حقیقی مفہوم صرف ظاہری رسوم نہیں بلکہ دل کی پاکیزگی، کردار کی بلندی، عاجزی، انصاف اور مخلوقِ خدا سے محبت ہے۔ یہی وہ فکر ہے جس کی جڑیں قرآنِ کریم کی ان تعلیمات میں پیوست ہیں جو انسان کی عزت، رحم، عدل، احسان اور تقویٰ کو زندگی کا اصل معیار قرار دیتی ہیں۔
میاں محمد بخشؒ کے کلام میں پنجاب کی دھرتی کی خوشبو، خاندان کا تقدس، رشتوں کا احترام اور انسانی جذبات کی لطافت اپنے عروج پر دکھائی دیتی ہے۔ ان کے اشعار میں بیٹی کی رخصتی ہو، والدین کی عظمت ہو یا محبت کی پاکیزگی، ہر جگہ انسان کے دل کو مخاطب کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام صرف پڑھا نہیں جاتا بلکہ محسوس کیا جاتا ہے۔ ان کی شاعری اس حقیقت کی ترجمان ہے کہ مضبوط معاشرے صرف قانون سے نہیں بلکہ مضبوط رشتوں، محبت، ایثار اور باہمی احترام سے تشکیل پاتے ہیں۔
حضرت وارث شاہؒ نے اپنی شہرئہ آفاق تصنیف ہیر کے ذریعے پنجاب کی تہذیب کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔ ہیر ایک عاشقانہ داستان ضرور ہے، مگر اس کے صفحات میں پورے عہد کی سماجی، نفسیاتی اور تہذیبی تاریخ سانس لیتی ہے۔ قبائل، خاندان، رسوم، دیہی زندگی، عورت کا مقام، اقتدار کی کشمکش اور انسانی نفسیات—یہ سب وارث شاہؒ کے ہاں محض موضوعات نہیں بلکہ زندہ کردار ہیں۔ ان کے نزدیک عشق انسان کو خود غرضی سے نکال کر ایثار، وفاداری اور سچائی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔ یہی عشق تصوف میں انسان کو اپنے خالق سے ملانے کا وسیلہ بھی بنتا ہے۔
اگر وارث شاہؒ نے پنجاب کے اجتماعی شعور کو زبان دی، تو بابا بلھے شاہؒ نے انسان کے باطن کو آواز دی۔ ان کا سوال “بلھیا! کی جاناں میں کون؟” دراصل ہر انسان کے اندر اٹھنے والا وہ ابدی سوال ہے جو اسے اپنی اصل پہچان کی تلاش پر آمادہ کرتا ہے۔ بلھے شاہؒ کے نزدیک انسان کی شناخت نہ نسل، نہ ذات، نہ لباس اور نہ مذہبی تفاخر سے ہے، بلکہ اس کے دل، کردار اور عشق سے ہے۔ ان کا پیغام یہ ہے کہ جب تک انسان اپنے نفس کے پردے نہیں ہٹاتا، وہ اپنے رب کی معرفت تک نہیں پہنچ سکتا۔ ان کی شاعری میں وحدتِ وجود محض ایک فلسفیانہ نظریہ نہیں بلکہ انسانوں کے درمیان محبت، مساوات اور احترام کی عملی دعوت بن جاتی ہے۔
اس روحانی روایت کے سرچشمے میں حضرت بابا فرید الدین مسعود گنجِ شکرؒ کا نام نہایت احترام سے لیا جاتا ہے۔ انہوں نے پنجابی زبان کو تصوف، اخلاق اور انسان دوستی کی زبان بنایا۔ ان کے شلوک آج بھی دلوں کو نرم کرتے اور انسان کو اپنے باطن کا محاسبہ کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ ان کی تعلیم کا مرکز عاجزی، صبر، عفو، تقویٰ اور مخلوقِ خدا سے محبت ہے۔ وہ فرماتے ہیں:
فریدا، برے دا بھلا کر، غصہ من نہ ہنڈائے؛
دہی روگ نہ لگئی، پلے سبھ کجھ پائے۔
اور ایک اور لازوال شلوک میں انسان کو اس کی حقیقت یاد دلاتے ہیں:
فریدا، خاک نہ نندیئے، خاکو جیڈ نہ کوئے؛
جیوندیاں پیر تھلے، موئیاں اپر ہوئے۔
اسی روحانی سلسلے کے ایک عظیم ستون حضرت سلطان العارفین سلطان باہوؒ ہیں، جنہوں نے عشقِ الٰہی، معرفتِ نفس اور ذکرِ اسمِ اللہ ذات کو اپنی تعلیمات کا مرکز بنایا۔ سلطان باہوؒ کے نزدیک انسان کی نجات ظاہری رسوم سے زیادہ دل کی بیداری اور باطنی معرفت میں مضمر ہے۔ ان کا پیغام یہ ہے کہ جب تک انسان اپنے اندر موجود نفس کی تاریکیوں کو عشقِ الٰہی کے نور سے روشن نہیں کرتا، وہ حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا۔ ان کی شاعری میں فقر، فنا، عشق اور قربِ الٰہی کے مضامین نہایت اثر انگیز انداز میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔
سلطان باہوؒ فرماتے ہیں:
دل دریا سمندروں ڈونگھے، کون دلاں دیاں جانے ہو؛
وِچّے بیڑے، وِچّے جھیڑے، وِچّے وانگ مہانے ہو۔
اور ایک اور معروف بیت میں کہتے ہیں:
باہو، رب دا کیہ پانا ایں، جے دلوں یار نہ لہیو ہو؛
جیہڑا یار نہ لبھے دل اندر، اوہ بندہ خوار تھیو ہو۔
حضرت خواجہ غلام فریدؒ نے سرائیکی وسیب، خصوصاً روہی (چولستان) کو محض جغرافیہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے روحانی استعارہ بنا دیا۔ ان کے ہاں صحرا انسان کے باطن کی وسعت، تنہائی اور اپنے رب کی تلاش کی علامت بن جاتا ہے۔ ان کا عشق ظاہری محبوب سے شروع ہو کر عشقِ حقیقی میں ڈھل جاتا ہے، جہاں ہر منظر میں ذاتِ حق کی جھلک محسوس ہوتی ہے۔ ان کے کلام میں وحدتِ وجود، محبت، فنا، بقا اور معرفت کے مضامین نہایت لطیف انداز میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔ روہی، ریت، ہوا، مسافر اور محبوب ان کی شاعری میں محض الفاظ نہیں بلکہ روحانی علامتیں بن جاتے ہیں۔
ان صوفی شعرا کا مطالعہ یہ حقیقت آشکار کرتا ہے کہ اگرچہ ان کی زبان، اسلوب اور اظہار میں تنوع ہے، مگر ان کے پیغام کی بنیاد ایک ہی ہے۔ بابا فریدؒ اخلاق اور تزکیہ نفس کی بات کرتے ہیں، سلطان باہوؒ ذکرِ ذات اور معرفتِ نفس کا راستہ دکھاتے ہیں، میاں محمد بخشؒ رشتوں کی حرمت کو اجاگر کرتے ہیں، وارث شاہؒ معاشرتی شعور اور انسانی نفسیات کو بیان کرتے ہیں، بلھے شاہؒ خود شناسی اور عشقِ حقیقی کا درس دیتے ہیں، جبکہ خواجہ غلام فریدؒ انسان کو کائنات کی ہر شے میں اپنے رب کی تجلی تلاش کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ ان سب کا رخ انسان کے باطن کی اصلاح، محبت، عدل، رواداری اور اخلاقی بلندی کی طرف ہے۔
آج کا انسان مادی ترقی کے باوجود روحانی اضطراب، معاشرتی تقسیم اور اخلاقی بحران سے دوچار ہے۔ ایسے دور میں ان صوفی شعرا کا کلام محض ادبی سرمایہ نہیں بلکہ ایک زندہ فکری اور اخلاقی رہنمائی ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ تہذیب بلند عمارتوں سے نہیں بلکہ بلند کردار سے بنتی ہے اور معاشرے طاقت سے نہیں بلکہ محبت، انصاف، رحم، برداشت اور باہمی احترام سے استوار ہوتے ہیں۔
پنجاب اور سرائیکی وسیب کے یہ عظیم صوفی شاعر ہماری تہذیبی شناخت کے امین ہیں۔ ان کا کلام زبان، نسل، مسلک اور جغرافیے کی حدود سے بلند ہو کر پوری انسانیت کا مشترکہ ورثہ بن چکا ہے۔ جب بابا فریدؒ انسان کو انکسار کا درس دیتے ہیں، سلطان باہوؒ دل کو ذکرِ الٰہی سے زندہ کرتے ہیں، میاں محمد بخشؒ رشتوں کی عظمت کا پیغام سناتے ہیں، وارث شاہؒ دھرتی کی روح کو لفظ عطا کرتے ہیں، بلھے شاہؒ انسان کو اپنی اصل پہچان سے آشنا کرتے ہیں اور خواجہ غلام فریدؒ روہی کے سکوت میں عشقِ الٰہی کی صدا بلند کرتے ہیں، تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب ایک ہی روحانی قافلے کے مسافر ہیں، جس کی منزل انسان کو اس کے رب، اس کی دھرتی، اس کی تہذیب اور اس کے اپنے باطن سے جوڑنا ہے۔
یہی وہ آفاقی پیغام ہے جس نے ان بزرگوں کو صدیوں بعد بھی زندہ رکھا ہے۔ ان کا کلام محض شاعری نہیں بلکہ کردار سازی، روحانی تربیت، اخلاقی بیداری اور تہذیبی شناخت کا دائمی منشور ہے۔ جب تک پنجاب کے دریاو¿ں میں روانی، روہی کی ریت میں تپش اور اس دھرتی کے لوگوں کے دلوں میں محبت باقی ہے، تب تک بابا فریدؒ، سلطان باہوؒ، وارث شاہؒ، بابا بلھے شاہؒ، میاں محمد بخشؒ اور خواجہ غلام فریدؒ کی آواز بھی زندہ رہے گی کیونکہ یہ آواز انسان کو انسان سے، انسان کو اپنی دھرتی سے اور انسان کو اپنے خالق سے جوڑنے کی آواز ہے۔

مزیدخبریں