صلہءشہید کیا ہے؟

09:40 AM, 18 Jul, 2026

پرانے زمانوں میں سیانے کہا کرتے تھے "پہلے تولو، پھر بولو" لیکن آج کل سیانوں نے بات کرنے سے پہلے تولنا شاید ترک کر دیا ہے۔ ایسے ایسے دانا لوگ جن کی شاندار اور نستعلیق گفتگو کو سن سن کر ہم ایسوں نے بولنا اور لکھنا سیکھا اور جن کے انداز گفتگو کا ایک عالم معترف رہا ہے، انھوں نے بھی ایسا غیر محتاط طرز تکلم اختیار کر لیا ہے۔ 
مثل مشہور ہے کہ تیر کمان سے اور بات زبان سے نکل جائے تو واپس نہیں آ سکتے۔ اس لیے ہمیں کوئی بھی لفظ منہ سے نکالتے ہوئے سو بار سوچنا چاہیے کہ اس کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں۔ ہماری اپنی ساکھ کس قدر متاثر ہو سکتی ہے اور کسی دوسرے کے جذبات پر کیا زد پڑ سکتی ہے۔ لیکن یہ چلن شاید اب عنقا ہو چکا ہے اور بڑے بڑے زیرک سیاست دان بھی اب اس سوچ بچار کا اہتمام نہیں کرتے جو کوئی سخت بات کہنے کے لیے نرم الفاظ کی جستجو میں درکار ہوتی ہے۔
حال ہی میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے شدت جذبات میں ایک ایسی بات کہہ دی جس سے قوم کے ہر طبقے کے جذبات مجروح ہوئے ہیں اور معاشرے کے مختلف مکتبہ ہائے فکر کی طرف سے رد عمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مولانا نے قصور میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "سپاہی شہید ہوا تو کیا، وہ تنخواہ بھی تو لیتا ہے"۔ مولانا کے اس بیان پر ہم تو ابھی تک ورطہءحیرت میں ہیں کہ انھوں نے اتنی سہولت سے یہ بات کہہ کیسے دی۔ تنخواہ کو کسی شخص کی کارکردگی کا معیار نہیں بنایا جا سکتا۔ اصل چیز نیک نیتی اور جذبہ ہوتا ہے جو کسی بھی کام کو کرنے کے لیے درکار ہوتا ہے۔ بہت سے اچھی تنخواہیں لینے والوں کی کارکردگی انتہائی ناقص ہوتی ہے جبکہ بہت سے کم تنخواہ لینے والے لوگ زندگی میں بہت شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یہ تو ہے عام زندگی کی بات، جہاں تک شہید کا تعلق ہے تو تنخواہ کسی صورت بھی انسانی جان کا نعم البدل نہیں ہو سکتی اور نہ ہی کوئی شخص ہر ماہ ملنے والی معمولی تنخواہ کے عوض اپنی زندگی کا سودا کر سکتا ہے، یہ صرف مادرِ وطن کی حفاظت اور اللہ کی راہ میں جان دینے کا جذبہ ہی ہے جو کسی نوجوان کو فوج میں شامل ہونے، سرحدوں کا دفاع کرنے اور ملک و قوم کی حفاظت کرنے پر مائل کرتا ہے۔ 
شہادت کی فضیلت اور شہید کی عظمت تو خود خدائے بزرگ و برتر نے اپنے کلام میں بیان کر دی ہے، پھر کوئی انسان کیسے کسی کی قربانی کو تنخواہ کے پلڑے میں تول سکتا ہے۔ سورہ بقرہ کی ایک آیت کریمہ میں کہا گیا ہے کہ اللہ کی راہ میں مارے جانے والوں کو مردہ مت کہو، بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم اس کا شعور نہیں رکھتے۔ مولانا صاحب سے بہتر اس آیت کے بارے میں کون جانتا ہو گا کہ وہ تو خود حافظ قرآن اور جید عالم دین ہیں۔ ہم ایسے عامیوں کو شہدا کے درجے سے مولانا اور ان جیسے علما نے ہی تو آگاہ کیا ہے۔ یہی علما ہیں جن کی مواعظ کو سن کر نوجوان اللہ کی راہ میں جانیں دینے پر آمادہ ہوتے ہیں اور وقت آنے پر نعرہ تکبیر لگا کر اپنی جان جان آفرین کے سپرد کر دیتے ہیں۔ شہید ہونے والا ہمیشہ کی زندگی پانے کے شوق میں کسی نیک مقصد پر اپنی جان قربان کرتا ہے، مہینے بعد چند ہزار روپے جیب میں ڈالنے کے لیے نہیں۔ 
اگر تنخواہ ہی سپاہی کا مقصد ہو تو وہ عین وقت پر کوئی ایسا بہانہ بنا کر میدان جنگ سے بھاگ جائے جسے جھٹلایا ہی نہ جا سکتا ہو تو پھر کون اسے اپنی زندگی داو¿ پر لگانے پر مجبور کر سکتا ہے۔ اس کے باوجود اگر کوئی ہماری طرف آنے والی گولی کو اپنے سینے پر روکتے ہوئے اپنی قیمتی زندگی کا خاتمہ کر لیتا ہے تو ہمیں عمر بھر اس کا ممنون احسان رہنا چاہیے کہ یہ زندگی اسے دوبارہ نہیں ملنی، یہ کہہ کر اس کی قربانی کی اہمیت کو کم نہیں کرنا چاہیے کہ یہ تو اس کی ذمہ داری تھی کیونکہ وہ اس کام کی تنخواہ لے رہا تھا۔ 
اس دنیا میں سب لوگ زندگی گزارنے کے لیے کوئی نہ کوئی کام کرتے ہیں اور اس کی تنخواہ لیتے ہیں۔ کچھ لوگ تنخواہ لینے کے باوجود وہ کام نہیں کرتے جس کی ان سے توقع کی جاتی ہے۔ ایسے لوگ تنخواہ کے عوض اپنا پسینہ تک نہیں بہاتے، ان کے مقابلے میں اگر کوئی شخص تنخواہ کے بدلے میں اپنا خون بہا دے تو کیا یہ کوئی چھوٹی بات ہے۔ تنخواہ کے بدلے میں پسینہ کا ایک قطرہ تک نہ بہانے والے حرام خور سے تنخواہ کے بدلے اپنے جسم کا پورا خون بہا دینے والا شہید کتنا عظیم ہے، اس کا اندازہ شاید کسی انسان کے بس کی بات نہیں۔ اگر مولانا کی بات کو درست بھی مان لیا جائے تو بھی ہمیں اس شخص کا ممنون احسان ہونا چاہیے جو معمولی تنخواہ کے بدلے ملک و قوم کی حفاظت کا ذمہ اپنے سر لیتا اور زندگی جیسی قیمتی متاع کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔ تنخواہ کسی شہید کے خون کا صلہ ہرگز نہیں ہو سکتی۔ شہید کا صلہ تو بس وہی ہے جو اقبال کے اس شعر میں بیان کیا گیا ہے:
مرے خاک و خوں سے تو نے یہ جہاں کیا ہے پیدا
صلہءشہید کیا ہے، تب و تابِ جاودانہ

مزیدخبریں