کیلیفورنیا : میٹا (فیس بک کی مالک کمپنی) نے اعلان کیا ہے کہ جو لوگ بار بار دوسروں کی ویڈیوز، تصاویر یا تحریریں بغیر اجازت اپنے اکاؤنٹس پر شیئر کرتے ہیں، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ایسے اکاؤنٹس کی کمائی (مونیٹائزیشن) بند کی جا سکتی ہے اور ان کی پوسٹس کی رسائی بھی کم کر دی جائے گی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد اصل مواد بنانے والے افراد کو سپورٹ کرنا ہے اور صارفین کو اسپیم (غیر ضروری یا نقل شدہ) مواد سے بچانا ہے۔
میٹا نے اپنی بلاگ پوسٹ میں بتایا کہ فیس بک کا سسٹم ایسے ویڈیوز کو پہچاننے کے قابل ہو گیا ہے جو کاپی شدہ ہوتی ہیں۔ ایسی ویڈیوز کو کم لوگوں تک پہنچایا جائے گا تاکہ اصل تخلیق کار کو نقصان نہ ہو۔ کمپنی ایک نیا فیچر بھی آزما رہی ہے جس کے تحت دیکھنے والے کو اصل ویڈیو یا مواد والے لنک تک لے جایا جا سکے گا۔
یہ نئی پالیسی آنے والے مہینوں میں بتدریج نافذ کی جائے گی۔ فی الحال انسٹاگرام یا تھریڈز پر ایسی کوئی تبدیلی نہیں کی جا رہی۔
میٹا نے مزید بتایا کہ صرف اس مواد پر پابندی ہوگی جو بالکل کاپی کیا گیا ہو۔ وہ لوگ جو کسی اور کے مواد میں اپنا تبصرہ، آواز یا کوئی نیا انداز شامل کرتے ہیں، ان پر یہ اصول لاگو نہیں ہوں گے۔
کمپنی نے تخلیق کاروں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر کسی اور کا مواد استعمال کرنا ہو تو اس میں کچھ نیا شامل کریں، مثلاً وائس اوور یا تبصرہ، اور ایسے مواد سے بچیں جس پر کسی اور کا واٹر مارک لگا ہو یا جو کسی دوسرے پلیٹ فارم سے سیدھا اٹھایا گیا ہو۔