بے حسی کا عالمی ریکارڈ

09:16 AM, 17 Jul, 2025

میں روز اِدھر سے گزرتا ہوں کون دیکھتا ہے
میں جب اِدھر سے نہ گزروں گا کون دیکھے گا
مجید امجد نے اس شعر میں زندگی کی ایک ایسی حقیقت بیان کی ہے جسے سب لوگ جانتے تو ہیں لیکن عمر بھر اس سے صرف نظر کرنے کا وتیرہ اپنائے رکھتے ہیں۔ ہر کوئی خود کو نگاہوں کا مرکز سمجھنے کے وہم میں مبتلا رہتا ہے۔ 
یقینا اسے بھی ایسا ہی کوئی وہم ہو گا ورنہ کچھ ایسا ضرور کرتی کہ اگر کسی روز کسی کو نظر نہ آتی تو وہ اس کی کمی تو محسوس کرتا۔ بھلے ایک دن بعد نہ سہی دو چار دن بعد ہی سہی لیکن دنوں یا ہفتوں بعد تو کیا کسی کو آٹھ مہینے تک بھی اْس سے ملاقات کا خیال نہ آیا۔ اس کی موت کی فارنزک رپورٹ بتاتی ہے کہ اس کی موت گزشتہ سال اکتوبر میں ہو گئی تھی اور اکتوبر کو گزرے اب آٹھ ماہ سے بھی زیادہ ہو چکے ہیں۔ اتنا طویل عرصہ کوئی شخص غائب رہے اور اس بات کا کسی کو پتا تک نہ چلے۔ ایسا کیسے ممکن ہے؟۔
یہ سب سوال اب اہم نہیں رہے کہ حمیرا اصغر اکیلی کیوں رہتی تھی، اس کی موت کیسے واقع ہوئی۔ وہ غلط تھی یا درست کہ اب تو وہ خود ہی نہیں رہی۔ اہم سوال صرف یہ ہے کہ معاشرہ اتنا بے حس کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص لوگوں کی زندگی سے نکل جائے اور انھیں سال بھر اس کا علم ہی نہ ہو۔ کیا وہ مریخ پر رہتی تھی یا زمین کے کسی ایسے گوشے میں قیام پذیر تھی جسے ابھی تک کوئی انسان دریافت ہی نہیں کر سکا۔
اس کی موت جن حالات میں واقع ہوئی، اس کی ذمہ داری چار فریقوں پر ڈالی جا سکتی ہے جن میں سے ایک وہ خود تھی، دوسرے اس کے والدین، تیسرا اس کا مالک مکان اور چوتھا اس کا قریبی حلقہ احباب اور اس کی رہائش گاہ کے قریب رہنے والے لوگ۔ وہ چونکہ اب خود تو دنیا میں نہیں، اس لیے ہر ذمہ داری سے مبرا ہے، باقی بچ گئے تین فریق۔ ان کی بے حسی پر آفرین ہے۔
ان تینوں فریقوں کے حوالے سے بھی اب تک بہت کچھ سامنے آ چکا ہے جس میں کچھ حقائق ہیں اور کچھ بیانات۔ حقائق کو مان بھی لیا جائے تو بیانات اتنے تسلی بخش نہیں ہیں کہ ان پر آسانی 
سے یقین کیا جا سکے۔ ہر فریق نے بس اپنی اپنی صفائی دینے کی کوشش کی ہے۔
مان لیتے ہیں کہ وہ اپنے والدین کی رضامندی کے بغیر اداکاری میں نام بنانے کے لیے کراچی چلی آئی تھی اور والدین اپنی بیٹی کے فیصلے سے خوش نہ تھے، یہ بھی مان لیتے ہیں کہ وہ جب بھی لاہور آتی اپنی والدہ سے ضرور ملتی تھی، اس سے بھی انکار نہیں کہ گھر والوں کو کراچی میں اس کے ٹھکانے کا پتا نہیں تھا۔ یہ بات بھی درست ہو گی کہ باپ نے بیٹی کی میت وصول کرنے سے انکار نہیں کیا تھا بلکہ اس کی بات کو غلط رنگ دے دیا گیا لیکن اس بات کا کیا جواب کہ آٹھ ماہ اس کا فون بند رہا اور گھر والوں نے اس کے بارے میں جاننے کے لیے صرف اس کی جان پہچان والے لوگوں سے رابطوں پر اکتفا کیوں کیا۔ کیوں انھیں پولیس میں رپورٹ درج کرانے کا خیال آیا۔ کوئی اسے ڈھونڈنے اس کے پیچھے کیوں نہ گیا۔ ایسی بھی کیا قطع تعلقی۔
آج کل کے زمانے میں بہت سی لڑکیاں ملازمت کے لیے گھروں سے دور دوسرے شہروں میں رہتی ہیں لیکن ماں باپ کو ان کے ٹھکانے اور سرگرمیوں سمیت ہر چیز کی خبر ہوتی ہے۔ لوگ اپنی بیٹیوں کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں۔ ناراضی ہو بھی تو نظر رہتی ہے۔ پھر بیٹی سے بھلا کیا ناراضی۔ ویسے بھی اس نے کون سا ان کی مرضی کی بغیر شادی کی تھی یا گھر سے بھاگی تھی، بس اپنی مرضی کے پیشے ہی کا انتخاب کیا تھا۔ وہ تھی تو غیر شادی شدہ ہی اور ہمارا مذہب اور معاشرہ تو غیر شادی شدہ بیٹیوں سے اتنی بے اعتنائی کی تعلیم نہیں دیتا۔
یہ بات بھی سمجھ سے بالا ہے کہ مالک مکان کو ایک سال سے کرایہ نہیں ملا اور وہ اتنا عرصہ خاموش بیٹھا رہا۔ کبھی اس سے رابطہ کرنے کی یا اس کے پاس جا کر یا کسی کو وہاں بھیج کر کرایہ وصول کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اگر اسے کرایہ نہیں مل رہا تھا اور فون کا جواب بھی نہیں مل رہا تھا تو اسے تشویش ہونی چاہیے تھی کہ اس کے مکان میں کیا چل رہا ہے۔ آیا کرائے دار موجود ہے یا کہیں بھاگ گیا ہے اور اس کا مکان کس حالت میں ہے۔ کیا کبھی اسے یہ مکان کسی دوسرے کرائے دار کو دینے کا خیال بھی نہیں آیا۔ 
یہ بات ماننے ہی میں نہیں آ سکتی کہ مالک مکان کا اپنا یا اس کے کسی کارندے کا اس عرصے کے دوران اس عمارت کا چکر ہی نہ لگا ہو۔ اس عمارت میں موجود دوسرے کرایہ داروں سے تو کوئی نہ کوئی کرایہ وصول کرتا ہو گا۔ عمارت کی دیکھ بھال کے لیے تو آتا جاتا ہو گا۔ کرایہ دار اور مالک مکان کا تو مستقل رابطہ ہوتا ہے، کبھی کرایہ دار کو کوئی شکایت ہوتی ہے تو کبھی مالک مکان کو اور دونوں ایک دوسرے کی شکایت کا ازالہ کرنے کے لیے رابطہ ضرور کرتے ہیں۔ اکیلا مکان ہوتا تو بات سمجھ میں آتی تھی لیکن یہ تو پانچ منزلہ عمارت تھی جس کے ہر فلور پر دو اپارٹمنٹ تھے۔ تیسرے فلور پر حمیرا مقیم تھی۔ پانچ منزلہ عمارت میں تیسرا فلور درمیان میں ہوتا ہے یعنی اوپر نیچے آتے جاتے وہاں سے گزر ضرور ہوتا ہے، چاہے کوئی سیڑھیوں سے جائے یا لفٹ کے ذریعے جائے۔
پتا یہ بھی چلا ہے کہ جس عمارت کی تیسری منزل پر حمیرا اصغر کا اپارٹمنٹ تھا، اس کے ساتھ ایک اور اپارٹمنٹ بھی تھا جو بہت عرصہ خالی رہا اور جب اس کے مکین کئی مہینے بعد واپس آئے تو انھیں وہاں کوئی غیر معمولی بات نظر نہیں آئی۔ یہ بھی حیرت کی بات ہے۔ اس بات کو عقل تسلیم نہیں کرتی کہ دوسرے اپارٹمنٹ والوں کو وہاں کسی قسم کی بدبو محسوس نہیں ہوئی یا اس کا طویل عرصے تک بند رہنا مشکوک نہیں لگا۔
یہ بات بھی حیرانی کا باعث ہے کہ اس کی کسی سہیلی، کسی دوست کو اتنی طویل غیر حاضری پراسے ڈھونڈنے کا خیال نہ آیا۔ کسی سے تعلق ہو تو لوگ اس کے بارے میں جاننے کے لیے بے تاب رہتے ہیں لیکن یہاں صرف سوشل میڈیا کی چند پوسٹوں ہی کو کافی سمجھ لیا گیا۔ حمیرا اصغر کی المناک موت کے معاملے میں اس سے متعلقہ لوگوں کا رویہ بہت ہی عجیب و غریب ہے۔ اصل حقائق تو وقت کے ساتھ ہی آشکار ہوں گے، یا شاید کبھی نہ ہو سکیں البتہ لوگوں کے بارے میں اتنی بات تو ضرور کہی جا سکتی ہے کہ انھوں نے بے حسی کا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔

مزیدخبریں