نوے روز یا گیارہ سال

09:14 AM, 17 Jul, 2025

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور ایک ''وڈے سارے قافلے'' کے ساتھ لاہور تشریف لائے اور اس کے دوسرے دن انھوں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ بانی پی ٹی آئی کو 90 روز میں رہا کرائیں گے ۔ پاکستان کی تاریخ میں 90 روز بڑے بدنام ہیں ۔ 1977 میں بھٹو صاحب کی حکومت کو ہٹانے کے بعد جنرل ضیاء نے میرے عزیز ہم وطنو والی تقریر میں نوے روز کے اندر الیکشن کرا کر فوج کو واپس بیرکوں میں جانے کا اعلان کیا تھا اور وہ نوے روز گیارہ سال طویل ہو گئے تھے ۔ اپنی پریس کانفرنس کے دوران ہی انھوں نے ایک دلچسپ انکشاف بھی کیا کہ بانی کی رہائی کے لئے تحریک شروع ہو چکی ہے ۔ اس تحریک کے حوالے سے اب تک کی خبروں کے مطابق آخری آرڈر یہ لگایا گیا تھا کہ 5 اگست کو اس تحریک نے اپنے بام عروج پر پہنچ جانا تھا لیکن نوے روز کے اعلان کے بعد پانچ اگست کو بام عروج والی بات تو اب پیچھے رہ گئی اور اگر فرض کر لیں کہ تحریک تیرہ جولائی کو شروع ہو چکی ہے تو ایک اندازے کے مطابق نوے روز بارہ اکتوبر کو پورے ہوںگے یعنی یہ تحریک جنرل ضیاء کے 90 روز سے شروع ہو کر جنرل مشرف کے 12 اکتوبر کو اختتام پذیر ہو گی ۔جنرل ضیاء سے یاد آیا کہ بانی پی ٹی آئی اور جنرل ضیاء میں کئی خصوصیات مشترک ہیں خان صاحب کو اگر یو ٹرن خان کہا جاتا ہے اور انھوں نے اس بات کا اعتراف بھی کیا اور پھر یو ٹرن کے فضائل بھی بیان کئے بالکل اسی طرح جنرل ضیاء چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر یعنی سی ایم ایل اے تو ویسٹرن میڈیا ان کے ہر بیان کے بعد مکر جانے کی روش کو دیکھتے ہوئے سی ایم ایل اے کے متعلق کہتے تھے کہ اس کا مطلب کینسل مائی لاسٹ انائونسمنٹ ہے اسی طرح جنرل ضیاء کو بھی مذہبی ٹچ دینے کا بڑا شوق تھا اور یہ کام بانی پی ٹی آئی بھی بدرجہ اتم کرتے ہیں جنرل ضیاء تو ویسے بھی امر تھے اور خان صاحب کا مزاج بھی آمرانہ ہے ۔ 
 خیر بات تحریک کی ہو رہی تھی تو اب یہ تحریک کس طرح چلے گی اور اس کی کامیابی کے کس حد تک امکانات ہیں اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ گنڈاپور صاحب یہ پریس کانفرنس لاہور میں کر رہے تھے اور اس میں تحریک انصاف لاہور کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ شریک ہی نہیں تھیں اور صرف یہ نہیں کہ شریک نہیں تھیں بلکہ انھیں اس تحریک کے اس سارے مجوزہ پلان کا علم بھی نہیں تھا حتیٰ کہ ان کے اپنے ٹویٹ کے مطابق انھیں اس بات کا بھی علم نہیں تھا کہ ان کے اس پریس کانفرنس میں شرکت کرنے کے متعلق جو سلمان اکرم راجہ نے کہا وہ مصروفیات کی وجہ سے شریک نہیں ہو سکی تو انھوں نے کہا کہ انھیں بھی اس پریس کانفرنس سے پتا چلا کہ وہ بہت مصروف ہیں ۔ یہ اس صوبے میں پارٹی قیادت کا حال ہے کہ جہاں سے تحریک نے شروع ہو کر اپنے بام عروج پر پہنچنا ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں پارٹی پہلے ہی کئی گروہوں میں تقسیم ہو چکی ہے ۔ اس صورت حال میں تحریک شروع کیسے اور کہاں سے ہو گی اور بام عروج تک پہنچنے کے مراحل کیسے طے کرے گی کچھ پتا نہیں اور بقول سیاسی پنڈتوں کے اور خود پارٹی کے اپنے ذرائع ان خدشات کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں کہ 90 روز کا شوشا چھوڑ کر بانی کی رہائی کے لئے چلنے والی تحریک کے شروع ہونے سے پہلے ہی اس کا دھڑن تختہ کر دیا گیا ہے ۔ ایک طرف یہ سب ہے اور دوسری جانب چیئر مین تحریک انصاف بیرسٹر گوہر خان سے بالا بالا تحریک کی قیادت کرنے والے گنڈاپور صاحب کی اپنی وزارت اعلیٰ کی خیریت نیک مطلوب نظر نہیں آ رہی اور گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی اور مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان ان کے خلاف عدم اعتماد کی باتیں ہو رہی ہیں ۔
پہلے بھی عرض کر چکے ہیں کہ کسی بھی تحریک کے لئے سب سے پہلے اپنی صفیں درست کرنا ضروری ہوتی ہے ۔ تحریک انصاف اور خود بانی پی ٹی آئی سمجھتے تھے کہ سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا ہی ہر مسئلہ کا حل ہے یہ بات جزوی طور پر درست ہو سکتی ہے وہ بھی دیگر معاملات میں لیکن جہاں تک حکومت مخالف تحریک کا تعلق ہے تو اس کے لئے سوشل میڈیا کے پروپیگنڈا سے زیادہ زمینی حقائق سے تحریکیں کامیاب اور ناکام ہوتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے نئی خبر آئی ہے رچرڈ گارنیل ہمارا بھائی ہے پھر نئی خبر آئی ہے ٹرمپ ہمارا بھائی ہے اور اس کے بعد نئی خبر آئی ہے جو ولسن ہمارا بھائی ہے کے تمام تر پروپیگنڈا کے باوجود بھی بانی کی رہائی ممکن نہیں ہو سکی اور اس دوران سوشل میڈیا پر بڑے یقین کے ساتھ خان صاحب کی رہائی کی تاریخیں بھی دی گئیں لیکن وہ کبھی حقیقت نہ بن سکیں ۔ اب بھی ایک شوشا چھوڑا گیا ہے کہ امریکن صدر ٹرمپ اور فیلڈ مارشل صاحب کے درمیان ملاقات میں ٹرمپ نے فیلڈ مارشل صاحب پر بانی کی رہائی کے لئے زور دیا ۔ اب جس ملاقات کا ذکر ہو رہا ہے اسے ایک مہینہ ہونے کو آ رہا ہے اگر ایسی بات ہوتی تو اس کے کچھ نتائج تو سامنے آتے ۔ بہرحال اب عمران خان کے بیٹوں کی تحریک میں شرکت کا ٹرمپ کارڈ کھیلا جا رہا ہے لیکن اس کارڈ کے سارے آپشن یقینا تحریک انصاف کے پاس ہی ہوں گے لیکن ان سارے آپشن کے کھلنے کی چابی بہر صورت حکومت کے پاس ہے کہ اگر حکومت انھیں ویزا دے گی تو ان کی پاکستان آمد ممکن ہو گی لیکن اگر وہ پاکستان ہی نہ آ سکے تو پھر سارے آپشن دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔

مزیدخبریں