آج کیوں روئے ؟ 

09:06 AM, 17 Jan, 2026

مقتول احمد جاوید کے قاتل اب اسے اپنا ایک اعزاز بنا کر پیش کر رہے ہیں کہ اُنہوں نے خود ہائی کورٹ سے ضمانت کی درخواست واپس لی‘ عدالت کے سامنے سرنڈر کیا جس کے نتیجے میں ملزم گرفتار ہوگیا‘ چلیں یہ اچھی بات ہے قاتل نے خود کو عدالت یا قانون کے سامنے سرنڈر کیا‘ مگر ہماری روایت ہے اُس وقت تک کوئی خود کو قانون یا عدالت کے سامنے سرنڈر نہیں کرتا جب تک اُسے اپنے بچا¶ کا کوئی نہ کوئی راستہ کھلا نظر آتا ہے‘ جیسے ہی اُسے پتہ چلتا ہے اب اُس کے بچا¶ کا کوئی راستہ یا دروازہ کُھلا نہیں رہ گیا اور وہ قانون قدرت کی مکمل گرفت میں آگیاہے‘ پھر اُس کے پاس صرف یہی راستہ بچتا ہے وہ خود کو قانون کے سامنے سرنڈر کر دے‘ اب اسے وہ جتنا چاہیں اپنے لئے عزت کا راستہ قرار دیں اس کا کوئی فائدہ اُنہیں نہیں ہونا‘ سب سے پہلے اس اصلی قاتل کو مقتول اور مظلوم فیملی کے سامنے سرنڈر کروایا جاتا‘ اخلاقی طور پر یہ لوگ اگر اتنے ہلکے نہ ہوتے اور اتنے تکبرے نہ ہوتے‘ احمد جاوید کے جنازے میں شرکت کرتے‘ مقتول کے والد میاں عادل رشید کا تعلق لاہور کی ایک معزز ارائیں فیملی سے ہے‘ احمد جاوید کے قاتل لاہور کی ارائیں برادری کی کچھ معزز اور سرکردہ شخصیات کی منت ترلا کرتے‘ اُن سے کہتے ہم نے احمد جاوید کے جنازے میں شرکت کرنی ہے‘ آپ ہمارے ساتھ چلیں‘ آپ کی موجودگی میں ممکن ہے مقتول کے والد اور دیگر عزیز و اقارب کا غصہ کچھ قابو میں رہے‘ پھر اگلے روز اپنے قاتل بیٹے کو لے جا کر مقتول کے والد میاں عادل رشید کے قدموں میں پھینک دیتے‘ وہ پستول بھی ساتھ لے جاتے جس سے اُس نے قتل کیا‘ وہ پستول میاں عادل رشید کے ہاتھ میں دیتے‘ اُن سے کہتے ہم اپنے اس قاتل بیٹے کو آپ کے پاس لے آئے ہیں اب آپ کے پاس دو راستے ہیں یا اللہ واسطے اسے معاف کر دیں یا اپنے بیٹے کا بدلہ لے لیں‘ ہم یہ اسٹام پیپر بھی لکھ کر لائے ہیں کہ آپ اگر اپنے بیٹے کے قتل کے بدلے کے طور پر ہمارے اس قاتل بیٹے کو گولیوں سے اُسی طرح چھلنی کر دیں جس طرح اُس نے آپ کے بیٹے کو کیا ہم آپ کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کریں گے‘ یقین کریں جتنا میں عادل رشید کو جانتا ھوں‘ جتنے وہ نرم دل ہیں‘ اُن کے بھائی میاں عمر رشید یا دیگر عزیز و اقارب شاید معاف نہ کرتے عادل رشید نے کر دینا تھا‘ قاتل مگر اپنے گُھمنڈ اور تکبر میں رہے‘ سب سے زیادہ تکبر اُنہیں اپنے جائز ناجائز وسائل اور مال و زر کا ہے‘ کچھ تکبر اپنے ایک کاروباری پارٹنر پولیس افسر کے ساتھ اندھا دُھند تعلقات کا بھی ہے‘ پاکستان میں اپنی اندھا دھند دولت اور طاقت کی بنیاد پر وہ ہر شے خرید سکتے ہیں ممکن ہے ماضی میں خریدتے بھی رہے ہوں پر وہ یہ بات کیسے بھول گئے وہ ہر شے ہر شخصیت کو خرید سکتے ہیں قانون قدرت کو نہیں خرید سکتے نہ اُسے زیر کر سکتے ہیں‘ قانون قدرت جب حرکت میں آتا ہے بچا¶ کے سارے راستے بند ہو جاتے ہیں‘ یہ صرف احمد جاوید کے قاتلوں کے لیے ایک سبق نہیں اُن کے کاروباری پارٹنر لاہور کے صرف عہدے کے اعتبار سے ہی اعلی پولیس افسر کے لیے بھی ایک سبق ہے جو چاہتے ہوئے بھی اپنے پیروکاروںکی کوئی مدد نہیں کر سکا‘ سوائے اس کے تفتیشی افسر کو بلا کر اپنا غصہ نکال لے‘ اُس کی ڈانٹ ڈپٹ کر لے کہ اُس نے قاتلوں کی مرضی کی تفتیش کیوں نہیں کی ؟ جس کے جواب میں تفتیشی افسر اُسے ایسی کھری کھری سُنا دے وہ سوچتا ہی رہ جائے اُس کا ماتحت آج کس لب و لہجے میں اُس سے بات کر رہا ہے؟ جب خوف خدا دل میں ہو‘ جب کسی پر میرٹ اور انصاف کا بھوت سوار ہو‘ اُس کا لب و لہجہ ایسا ہی ہوتا ہے جیسا تفتیشی افسر کا لاہور کے صرف عہدے کے اعتبار سے ہی اعلیٰ پولیس افسر کے سامنے تھا‘ اس کیس میں لاہور پولیس کے باقی ماتحت افسران بھی اُس کے قابو میں نہیں آئے‘ سُنا ہے آج کل باقی کیسوں میں بھی نہیں آرہے‘ اس ذلت اور رُسوائی سے بہتر ہے وہ خود ہی عہدہ چھوڑ دے‘ احمد جاوید قتل کیس میں اپنے کسی ماتحت افسر سے اپنی مرضی کا فیصلہ وہ نہیں کروا سکا‘ یہ ہم جیسے کمزور لوگوں کے بس کی بات نہیں تھی اُس کے ارادوں کو شکست دیں‘ یہ اللہ کی بے آواز لاٹھی کا معاملہ تھا , جو ابھی اُس کے دیگر ناجائز معاملات پر بھی چلنی ہے جو بیرون مُلک پھیلے ہوئے ہیں‘ اب قاتل کے سارے سرپرست سر جوڑ کر بیٹھے ہیں اس معاملے کو حل کیسے کیا جائے؟ پاکستان کے وہ تمام ادارے جو مظلوم کو انصاف دینے پر تلے ہوئے ہیں اُنہیں زیر کرنے کے لئے کیا نئی وارداتیں ڈالی جائیں؟ کون سے جدید طریقے اختیار کئے جائیں جس سے حالیہ شرم ساری کچھ کم کرسکیں ؟ تکبر مگر ابھی بھی اُن کا نہیں گیا‘ معافی تلافی کا کوئی راستہ تلاش کرنے کی کوئی سوچ ابھی بھی اُن کے دل و دماغ میں قائم نہیں ہو رہی‘ ہو بھی گئی اب شاید اس کا کوئی فائدہ اُنہیں نہیں ہوگا‘ قتل معاف کیا جا سکتا ہے‘ مگر قتل کے بعد مقتول اور اُس کی فیملی کی جو کردار کشی کروائی گئی اُسے معاف کرنا شاید ممکن نہیں ہوگا‘ کرائے کے جس سیاہ کار کریمینل رپورٹر سے مقتول اور اُس کی فیملی کی کردار کشی کروائی گئی وہ بھی جلد قانون اورقانون قدرت کی گرفت میں آنے والا ہے‘ گزشتہ روز احمد جاوید کے اصل قاتل عبداللہ کھوکھر کی گرفتاری کے بعد ہم سب مقتول کی قبر پر گئے‘ مقتول کے جس عظیم اور بہادر باپ نے اب تک ایک آنسو نہیں بہایا تھا کل وہ پھوٹ پھوٹ کے رو پڑا‘ میں نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا‘ میں نے پوچھا عادل بھائی وہ سارا صبر وہ ساری بہادری آج آنسو¶ں میں کیوں بہہ رہی ہے ؟ بڑے کمال کا جملہ اس موقع پر اُنہوں نے بولا‘ کہنے لگے یہ آنسو احمد جاوید کے دنیا سے چلے جانے کے نہیں ہیں‘ یہ آنسو شُکر گزاری کے ہیں کہ اللہ نے انتہائی طاقتوروں کے مقابلے میں ابتدائی طور پر ہمیں شاندار فتح سے ہمکنار کیا‘ میاں عادل رشید جس صبر ہمت اور دلیری سے کھڑے ہیں یہ صبر ہمت اور دلیری کسی شہید کے باپ کو ہی نصیب ہوسکتی ہے‘ البتہ اُن کی بیگم‘ مقتول کی والدہ کی جو حالت ہے وہ ناقابل بیان ہے‘ میاں عادل رشید کے لیے ایک چیلنج قاتلوں سے نمٹنا ہے‘ دوسرا اپنی بیگم اور بوڑھی والدہ کو سنبھالنا ہے جو ابھی تک صدمے سے نڈھال ہیں‘ کیا کریں یہ دکھ مگر عمر بھر کا ہے‘ سکھ ماہی نال لے گیا۔

مزیدخبریں