امریکی محکمہ خارجہ نے 75 ممالک کے شہریوں کے لئے امیگرنٹ ویزے روکنے کا اعلان کر دیا ہے جس کا اطلاق 21 جنوری بروز بدھ سے ہو گا۔ محکمہ خارجہ نے کہا کہ ایسے افراد پر کریک ڈاﺅن کیا جائے گا جو امریکی حکومت پر بوجھ اور امریکی عوام کی سخاوت کا ناجائز فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ گویا ان 75 ممالک کے شہری اب ارضی جنت (امریکہ) کی طرف ہجرت نہیں کر سکیں گے۔ اس بارے میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ امریکہ ارضی جنت ہے اور لوگوں کے لئے مواقع کی سرزمین (Land of opportunities) ہے۔ عالمی نظام معیشت کا رکھوالا اور عالمی معیشت کے انجن کی حیثیت رکھتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام حیات کا پرچارک اور علمبردار ہی نہیں بلکہ اس نظام حیات کا ایک عملی نمونہ بھی ہے۔ یہاں کچھ بھی کرنے اور کچھ بھی بننے کے لامحدود مواقع موجود ہیں۔ بلاتفریق رنگ و نسل اور مذہب یہاں ہر کوئی قسمت آزمائی کر سکتا ہے۔ لاکھوں لوگ ہر سال یہاں بسنے کے لئے آتے ہیں۔ کروڑوں لوگ خواہش بھی رکھتے ہیں اور کاوشیں بھی کرتے ہیں کہ انہیں امریکہ جانے اور وہاں بس جانے کے مواقع مل سکیں۔ چین ایک قوی الجثہ معیشت ہے۔ چین تعمیر و ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ چھلانگیں لگا کر ترقی کے نئے نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب چین فی الحقیقت ایک قوی الجثہ عالمی طاقت کے طور پر ہمارے سامنے ہو گا لیکن فی الحقیقت امریکہ عالمی میدان میں اپنا آپ دکھا رہا ہے۔ اپنا سکہ چلا رہا ہے، اپنا حکم چلا رہا ہے لیکن ویتنام کی جنگ میں شکست سے لے کر افغانستان میں عسکری ہزیمت تک امریکہ کی چودھراہٹ کمزور ہوتی نظر آرہی ہے۔ پانامہ میں فوج کشی سے لے کر وینزویلا میں ایکشن لینے تک امریکہ اپنی اخلاقی برتری کھوتا چلا جا رہا ہے۔ چین کی بڑھتی ہوئی عظمت اپنی جگہ مسلم ہے لیکن وہ ابھی تک عالمی سطح پر اپنا آپ منوانے یا مسلط کرنے کی پالیسی اپنانے سے بہت دور ہے لیکن وہ معاملات بہت اچھے انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔ امریکہ نے اپنی عظمت کو قائم رکھنے اور دنیا کو یہ باور کرانے میں مصروف ہے۔ امریکہ کو ٹرمپ کی صورت میں ایک ”عظیم نسل پرست“ صدر مل گیا ہے جو امریکی طاقت وہیبت کا کھلے عام مظاہرہ کرنے سے نہیں جھجکتا ہے۔ اس نے وینزویلا کے بعد گرین لینڈ پر قبضے/حملے کا اعلان بھی کیا ہے بلکہ کیوبا کو دھمکی بھی دے ڈالی ہے۔ اس نے کھلے عام کہا ہے کہ اسے اس کے ارادوں سے کوئی باز نہیں رکھ سکتا ہے صرف اور صرف اس کا اپنا ذہن/ضمیر ہی اسے اس کے ارادوں سے روک سکتا ہے۔ گویا کوئی اقوام متحدہ، کوئی عالمی سفارتی قانون اس کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتا ہے، امریکی کانگریس نے وینزیولا کی خودمختاری پر حملے کو نامنظور کر دیا ہے کیونکہ امریکی آئین کے مطابق کسی بھی ملک پر حملہ کرنے کے لئے امریکی صدر کو کانگریس سے منظوری لینا ہوتی ہے۔ ٹرمپ کسی عالمی قانون کو نہیں مانتا ہے۔ وہ امریکی کانگریس کو کیا سمجھتا ہے بہرحال ٹرمپ امریکی معیشت کو توانا و غالب رکھنے کے لئے ٹیرف وار جاری رکھے ہوئے ہیں۔ وہ یہ جنگ بڑی جرا¿ت و مہارت کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ اب انہوں نے اندرون ملک امریکی عوام کے وسائل پر بوجھ بننے والے پناہ گزینوں اور امریکی شہریت کے خواہش گزاروں سے نمٹنے کا اعلان کیا ہے، اس سے پہلے وہ میکسیکو بارڈر پر دیوار کھڑی کر چکے ہیں۔ یہ ان کا حق ہے کہ وہ امریکی شہریوں کی بہتری کے لئے جو چاہیں کریں۔ یہاں آنے والوں کو روکنا کوئی بری بات نہیں ہے۔ 75 ممالک سے ہجرت کرنے کے خواہش گزاروں پر پابندی ایک بڑا قدم ہے۔ اس سے بڑا و حیران کن قدم پاکستان کا ان ممالک کی فہرست میں شامل ہونا ہے۔ ٹرمپ پاکستانی وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے وارے صدقے جاتے رہے ہیں، ان کی خدمات و لیاقت کے معترف ہی نہیں بلکہ موعید بھی رہے ہیں، ایسے میں پاکستان کا نام 75 ممالک کی فہرست میں ہونا حیران کن ہے، اس سے بھی بڑی بات ، پریشان کن بات بھارت کا نام اس فہرست میں نہ ہونا ہے۔ ہم ٹرمپ کی محبت کو خطے میں تبدیل ہوتی سیاست سے تعبیر کرتے رہے ہیں لیکن اب اچانک ہمارا نام شامل اور بھارت اس لسٹ سے باہر کیوں ہے؟ ہندوستان کی موجودہ حکومت عالمی سطح پر ریاستی دہشت گردی منظم کرنے کے حوالے سے بدنام ہے۔ کئی ممالک میں قتل و غارت گری میں ہندوستانی ایجنسی ”را“ کے ملوث ہونے کے ثبوت مل چکے ہیں اور ہندوستانی حکومت کو اس حوالے سے شٹ اپ کال بھی دی جا چکی ہے۔ کینیڈا میں سکھوں کو مروانے کے حوالے سے کینیڈین حکومت وارننگ بھی جاری کر چکی ہے اور انڈین شہریوں کے یہاں امیگریشن پر سختیاں بھی عائد کر چکا ہے۔ مقبوضہ کشمیرمیں فوج کشی تو ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ اس کے علاوہ اپنے ملک ہندوستان میں مودی سرکار اپنے مسلمان، عیسائی اور دلت و سکھ شہریوں کے ساتھ جو انسانیت سوز سلوک کر رہی ہے وہ بھی اقوام عالم پر عیاں ہے۔ مودی سرکار ایک مذہبی جنونی حکومت ہے جو ہندوتوا کے فلسفے پر قائم ہے۔ پاکستان ایک طاقتور عسکری قوت ہے۔ کامیاب اور فاتح عسکری قوت کے طور پر اپنا آپ منوا چکا ہے۔ خطے میں دہشت گردی کے خلاف چومکھی لڑائی لڑ رہا ہے۔ امریکی اتحادی بھی ہے۔ ایسے حالات میں بھارت کا 75 ممالک کی فہرست میں نہ ہونا تعجب انگیز ہے۔
ویسے بھارت دنیا کی تیسری بڑی مملکت ہے۔ آبادی کے لحاظ سے نمبرون اور معاشی حجم کے لحاظ سے عالمی سطح پر نمایاں حیثیت کی حامل مملکت کو 75 ممالک کی فہرست میں ڈالنا شاید امریکی مفادات کے لئے درست نہیں تھا۔ بھارت، بحرہند کی امریکی تذویراتی سیاست میں حلیف ہے۔ چین کو گھیرا ڈالنے اور اس کی سٹرٹیجک پوزیشن کی راہ کھوئی کرنے میں امریکی کاوشیں بھارت سرکار کے ساتھ مل کر روبہ عمل آتی ہیں۔ بھارت سرکار اسرائیل کی بھی حلیف ہے، بہت سے معاملات میں ہندوستان کے قومی مفادات اسرائیلی قومی مفادات سے ملتے ہیں۔ اسرائیل امریکہ کا بچہ ہے۔ امریکی خارجہ پالیسی میں اسرائیل انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ مسلم دشمنی بھارت و اسرائیل ہی نہیں بلکہ امریکہ کے درمیان بھی کامن فیکٹر ہے۔ ایسے کئی معاملات میں امریکہ، اسرائیل اور بھارت ایک صفحے پر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے بھارت کا نام 75 ممالک کی فہرست میں شامل نہیں کیا ہے۔ ہمارے حکمرانوں اور پالیسی سازوں کو اس پہلو پر نہ صرف توجہ دینی چاہئے بلکہ کڑی نظر بھی رکھنی چاہئے اور ٹرمپ کی پاکستان کے ساتھ حالیہ محبت میں بالکل اندھے نہیں ہو جانا چاہئے۔
75 ممالک کے امیگرنٹس اور پاک بھارت شہری
09:05 AM, 17 Jan, 2026