عرفان صدیقی صاحب .... یادیں اور باتیں! 

09:05 AM, 17 Jan, 2026

برادرِ مکرم و محترم عرفان صدیقی مرحوم و مغفور کے حوالے سے یادوں اور باتوں پر مبنی انیس یا بیس کالم چھپ چکے ہیں۔ روزنامہ نئی بات کے ادارتی عملے کا ممنون ہوں کہ وہ میری اس خامہ فرسائی کو مسلسل پذیرائی بخش رہے ہیں تا ہم اس سوچ اور حقیقت کے باوجود کہ عرفان صاحب کے بارے میں یادوں اور باتوں کا سلسلہ اتنا پھیلا ہوا ہے کہ اسے کتنے ہی کالموں میں یا ایک کتاب میں بھی سمیٹنا آساں نہیں ،کبھی کبھی مجھے یہ خیال آتا ہے کہ اس سلسلے کو موقوف کر دینا چاہیے۔ میں سوچتا ہوں کہ میرا لکھنا شائید کچھ اتنا پُر لطف ، خوبصورت اور زبان و بیان کے لحاظ سے اتنا پر کشش نہیں ہے کہ عرفان صاحب جیسی انتہائی قابلِ قدر ، مقتدر ، باوقار اور خوبصورت شخصیت کے تذکرے کے شایانِ شان ہو لیکن پھر ان سے طویل عرصے کی رفاقت پر پھیلی ہوئی بے پناہ یادیں اور باتیں سامنے آتی ہیں اور اس کے ساتھ ان سے میرا جو گہرا قلبی اور بے تکلفانہ دوستی کا تعلق رہا ، وہ مجھے حوصلہ دیتا ہے کہ اس سلسلے کو موقوف نہیں کرنا چاہیے بلکہ جاری رکھنا چاہیے۔
عرفان صاحب کے بارے میں لکھتے ہوئے یہ سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ میں ان سے کوئی ایسی بات منسوب کروں گا جو خلافِ حقیقت ہو یا جس سے مجھے اپنی اہمیت جتلانا مقصود ہو۔ میں نے پہلے بھی کئی بار اس کا اظہار کیا ہے کہ عرفان صاحب پر اللہ کریم کی کوئی خصوصی عنایت تھی، انہیں اپنے نیک اور عبادت گزار والدین کی دعائیں حاصل تھیں کہ اللہ کریم نے انہیں بے پناہ صلاحیتوں سے نواز رکھا تھا۔ وہ کسی بھی محفل میں ہوتے تو محفل کی شان اور جان ہوتے ، بولتے تھے تو ان کی طرح کم ہی کوئی خوبصورت اور مدلّل گفتگو کرتا، لکھتے تھے تو اُن جیسی خوبصورت نثر عصرِ حاضر میں شاید کسی نے لکھی ہو۔ صاحب ِ اسلوب نثر نگار اور کالم نگار ہونے کے ساتھ ایک ایسے خوبصورت شاعر کہ ان کی شاعری کا مجموعہ "گریز پا موسموں کی خوشبو " سامنے آیا تو ایک دنیا مبہوت ہو کر رہ گئی۔ رفاقت، دوستی، مروّت ، مہربانی،قدر شناسی اور وفاداری کی خوبیاں اس طرح ان کی شخصیت کا پہلو تھیں کہ جیسے وجود کا حصہ ہوں۔ اقتدار اور اختیار سے بہرہ مند ہوئے توانکساری کے ساتھ وفا شناسی کو ایسا حرزِ جاں بنایا کہ کسی مشکل، آزمائش اور خطرے کی پروا نہ کی۔ جس بھی منصب پر فائز ہوئے اس کی ذمہ داریوں اور منصبی تقاضوں کا ایسے خیال رکھا کہ معیار اور وقار سے کم تر کسی بات کا شائبہ تک سامنے نہیں آیا۔ یہ ساری خوبیاں ، یہ ساری صلاحیتیں اور سارے اوصاف جو بفضلِ تعالیٰ ان میں موجود تھے ان کو اپنے ہم عصروں سے ممتاز کرتے تھے۔ لیکن میں نہیں سمجھتا کہ کبھی انہوں نے شیخی بگھارنے یا تعلیّ سے کام لیا ہو۔ وہی بے تکلفی، وہی انکساری، وہ کھلا ڈلا پن، وہی پیار، وہی محبت، وہی ہنسی مذاق ، وہی اعتماد اورحسِ مزاح کے اوصاف جو شروع سے ان کی شخصیت کا خاصا تھے آخر تک ان میں موجود رہے۔
عرفان صاحب مرحوم و مغفور کی شخصیت کا ایک کمال یہ بھی تھا کہ انہیں اپنے مخصوص حلقوں جن سے ان کی نظریاتی ہم آہنگی اور وابستگی تھی سے ہٹ کر دوسرے مکتبہ فکر کے لوگوں میں بھی پذیرائی اور مقبولیت حاصل تھی۔ پچھلی صدی کے نوے کے عشرے کے وسط کے برسوں سے ان کی مسلم لیگ (ن) کے قائدین سے وابستگی اور اپنی تحریروں میں مسلم لیگ (ن) کی طرف جھکاﺅکوئی ڈھکا چھپا پہلو نہیں تھا لیکن اس کے باوجود مسلم لیگ (ن) اور اس کے قائدین کے حریفوں اور مخالفین کے ساتھ عرفان صاحب کے بڑے خوشگوار اور نیاز مندانہ تعلقات قائم رہے۔ اگر میں یہ کہوں کہ زندگی کے آخری برسوں میں جب وہ ۲۰۱۳ءسے ۲۰۱۸ءتک مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت میں پہلے وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی اور بعد میں وزیرِ اعظم کے مشیر بدرجہ وفاقی وزیر متعین رہے، ان کی مسلم لیگ سے وابستگی میں کوئی شک و شبہ نہیں تھا اور اس کے بعد مارچ ۲۰۲۱ءمیں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر وہ سینٹ آف پاکستان کے رُکن منتخب ہوئے اور یکے بعد دیگرے قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمین چُنے گئے تو اس دوران سینٹ میں ان کے اپنے مخالفین کے ساتھ مثالی تعلقات قائم رہے۔ ۲۰۲۱ءمیں وہ سینٹر بنے تو جناب عمران خان کی جماعت بر سرِ اقتدار تھی۔ ڈاکٹر وسیم شہزاد سینٹ میں تحریکِ انصاف کے پارلیمانی لیڈر تھے۔ وہ سر سید کالج میں عرفان صاحب کے شاگرد رہے تھے اور سینٹ کے اجلاسوں میں عرفان صاحب کا حد درجہ ادب و احترام ملحوظِ خاطر رکھتے تھے۔ ۲۰۲۲ءمیں تحریکِ اںصاف کی حکومت ختم ہوئی تو سینٹ میں تحریکِ انصاف کو حزبِ اختلاف کے بنچوں پر بیٹھنا پڑا۔ اس دوران عرفان صاحب نے سینٹ میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی قائد کا منصب سنبھالا تو ان کے پیپلز پارٹی کے سینٹر ز سمیت تحریکِ انصاف اور دیگر سیاسی جماعتوں کے سینٹرز اور پارلیمانی قائدین کے ساتھ مثالی تعلقا ت کار قائم رہے۔ پیپلز پارٹی کی پارلیمانی لیڈر محترمہ شیری رحمان اور جناب شہادت بلوچ جیسے سینٹرز جہاں عرفان صاحب سے ادب و احترام سے پیش آتے تھے وہاں تحریکِ انصاف اور دوسری سیاسی جماعتوں کے سینٹرز اور پارلیمانی لیڈرز بھی عرفان صاحب کے ادب و احترام میں کسی طرح کی کمی روا نہ رکھتے۔ خیر یہ ماضی قریب بلکہ کسی حد تک زمانہ حال کی باتیں ہیں ورنہ اڑھائی تین عشرے پیچھے جائیں تب بھی ہمیں مختلف سیاسی جماعتوں بالخصوص دینی ، سیاسی جماعتوں کے مختلف سطح کے قائدین کی طرف سے عرفان صاحب سے دوستانہ مراسم اور ان کی تکریم و تعظیم کے پہلو سامنے آتے ہیں۔ عرفان صاحب مرحوم ومغفور کا ہمدم دیرانہ ہونے کے ناتے اس ضمن میں کئی چشم دید واقعات کو پیش کیا جا سکتا ہے۔
مجھے یاد پڑتا ہے کہ پچھلی صدی کی اَسّی کی عشرے کے نصف آخر اور نوے کے عشرے کے نصف اول کے برسوں میں برادر مکرم و محترم عرفان صاحب کی معیت میں میرا اور عرفان صاحب کے چھوٹے بھائی عزیرِ گرامی انعام صدیقی مرحوم کا پشاور جانے کا اکثر پروگرام بن جایا کرتا تھا۔ راستے میں اکوڑہ خٹک میں دارالعلوم حقانیہ میں کئی بار رُکے اور جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ حضرت مولانا سمیع الحق مرحوم کی میزبانی سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملتا رہا۔ مولانا سمیع الحق مرحوم و مغفور کے عرفان صاحب سے گہرے تعلقات قائم تھے اور وہ عرفان صاحب کی بہت عزت و تکریم کرتے تھے۔ عرفان صاحب نے ہفت روزہ "تکبیر " کے لیے ان کا انٹرویو لیا اور دارالعلوم حقانیہ کے بارے میں تفصیل سے لکھا تو اس کو وسیع پیمانے پر پذیرائی ملی۔ ۱۹۹۴ءمیں افغانستان میں مُلا عمر کی قیادت میں طالبان نے اپنی حکومت قائم کی اور مُلا عمر قندھار میں امیر المومنین کی حیثیت سے حکومت کی باگ ڈور چلا رہے تھے تو عرفان صاحب مولانا سمیع الحق مرحوم کے ہمراہ قندھار گئے اور مُلّا عمر سے ملاقات کی اور اس کی رُو داد اور قندھار کے اس وقت کے گورنر کا عرفان صاحب نے جو انٹر ویو لیا اس کی پوری تفصیل ہفت روزہ "تکبیر "میں شائع ہوئی۔ یہ اُس وقت کی طالبان حکومت اور اس کے عہدیداروں اور سرکاری اہلکاروں کے اندازِ فکر و نظر اور طرزِ حکمرانی کے بارے میں غالباً پہلی مفصّل تحریر تھی جو پرنٹ میڈیا میں شائع ہوئی۔ (جاری ہے)

مزیدخبریں