امریکہ جلدی میں ہے

09:04 AM, 17 Jan, 2026

 جب سے ہوش سنبھالا ہے امریکہ کے ہمیشہ دو روپ دیکھے ہیں۔ ایک ڈارلنگ کا اور دوسرا دشمن کا۔ 
امریکہ دنیا کے ہر شخص کی ڈارلنگ ہے۔ ہرکوئی اپنی زندگی بہتر بنانے کے لیے امریکہ جانے کا خواہش مند نظر آتا ہے کیونکہ اسے مواقع کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے۔ اسی لیے دنیا کے ہر ملک سے تعلق رکھنے والے افراد کی ایک بڑی تعداد امریکہ میں سکونت پذیر ہے اور ہر روز سیکڑوں لوگ اپنے آبائی وطن چھوڑ کر عازمِ امریکہ ہوتے ہیں۔ ان میں قانونی طور پر جانے والے بھی ہیں اور غیر قانونی تارکین بھی۔ یہ سب وہاں جا کر ڈالر کماتے ہیں اور امریکی معیشت کا پہیہ چلانے کے ساتھ ساتھ اپنے اپنے ملکوں کے زرمبادلہ ذخائر میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔ 
امریکہ اب ان غیر ملکیوں سے اس قدر تنگ آ چکا ہے کہ انھیں اپنی معیشت پر بوجھ سمجھنے لگا ہے اور نہ صرف نئے آنے والوں کو اپنی سرحدوں میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے طرح طرح کے جتن کر رہا ہے بلکہ سرحدوں کے اندر پہلے سے موجود غیر ملکیوں کو بھی باہر نکالنے کے لیے نت نئے طریقے ڈھونڈ رہاے۔ ابھی کچھ دن پہلے اسی سلسلے میں ایک امریکی ریاست میں ایک کارسوار خاتون بھی ایک پولیس والے کی گولی کا نشانہ بن چکی ہے جبکہ حال ہی میں امریکہ نے پاکستان سمیت پچہتر ملکوں کے لیے ویزا پروسیسنگ بھی روک دی ہے اور اس سے ایک ماہ پہلے بارہ ملکوں کے شہریوں کے امریکہ داخلے پر پابندی بھی عائد کر چکا ہے۔ لیکن اس تمام تر صورت حال کے باوجود امریکہ کی ڈارلنگ ہونے کی حیثیت بدستور برقرار ہے۔
دوسری طرف یہی ڈارلنگ ہر کسی کی دشمن بھی ہے اور دنیا بھر کے لوگ اسے نفرت کی نگاہ سے بھی دیکھتے ہیں۔ دنیا میں کہیں کوئی مسئلہ ہو اس کے تانے بانے امریکہ سے ملتے نظرآتے ہیں۔ امریکہ کا یہ روپ آج سامنے نہیں آیا بلکہ ایک طویل عرصے سے ہے لیکن اب تو سارے حجاب ہی اٹھ چکے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ آج کل امریکہ بہت جلدی میں ہے۔ یہ جلدی ایسی ہے جیسے کسی کو پتا چل جائے کہ بازار میں آٹے کی قلت پیدا ہونے والی ہے اور وہ دھڑا دھڑا آٹے اور گندم کی بوریاں جمع کرنا شروع کردے یا یوں سمجھ لیجیے کہ جیسے بارش کا امکان دیکھتے ہوئے کوئی شخص جلدی جلدی اپنا سامان کھلی جگہ سے کسی سایہ دار اور محفوظ جگہ پر منتقل کرنے لگے۔
اس صورت حال کا اندازہ صدر ٹرمپ کی جارحانہ حکمت عملی سے ہوتا ہے۔ وہی صدر ٹرمپ جو آج سے چند ماہ پہلے تک پاک بھارت اور ایران اسرائیل سمت متعدد جنگیں رکوانے کا دعویٰ کرتے اور خود کو امن کے نوبل انعام کا حق دار قرار دیتے تھے اب ان کی سوچ میں یک دم تبدیلی آ گئی ہے۔ اب وہ خود جنگوں میں کود رہے ہیں جس کی تازہ ترین مثال ایران ہے جہاں انھوں مہنگائی کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے تناظر میں نہ صرف ایرانی عوام سے احتجاج جاری رکھنے اور ریاستی اداروں پر دباو¿ بڑھانے کی اپیل کی ہے بلکہ بدامنی میں ملوث افراد کو پھانسی دینے کی صورت میں ایران پر حملے کی دھمکی بھی دی ہے۔ 
اس سے پہلے انھوں نے یورپی جزیرے گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکیاں دینے کا سلسلہ بھی شروع کر رکھا ہے جس پر نیٹو اتحاد میں شامل ملکوں کی طرف سے شدید قسم کی ناراضی کا اظہار بھی کیا گیا ہے اور برطانیہ نے اتحاد کے ٹوٹنے کی دھمکی بھی دے رکھی ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ کی طرف سے وینزویلا کے صدارتی محل پر دھاوا اور پھر صدر مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کرنا بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ نوبل کمیٹی کی طرف سے تو انعام حاصل نہ کر پائے تھے کیونکہ وہ وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماچاڈو کو دے دیا گیا تھا لیکن اب ماچاڈو نے اپنا وہ انعام تحفے کے طور پر ٹرمپ کو دے دیا ہے۔
امریکہ کی طرف سے وینزویلا میں بین الاقوامی قوانین اور اخلاقیات کی دھجیاں اڑانے اور صدر ٹرمپ کی ایران اور ڈنمارک کو کھلم کھلا دھمکیوں سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اس وقت شاید کسی شدید قسم کی عجلت میں ہے اور اسی لیے کسی پردہ داری کا بھی کوئی اہتمام نہیں کر رہا۔ امریکہ نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ گرین لینڈ نہ لیا تو اگلا پڑوسی روس یا چین ہو گا اس لیے وہ چین اور روس کو گرین لینڈ نہیں لینے دے گا۔ وینزویلا کے وسائل پر بھی امریکہ کا تسلط چین اور روس کو اس کے تیل کے ذخائر سے دور رکھنے کے لیے قائم کیا گیا ہے بلکہ امریکہ نے تو بحر اوقیانوس میں دو روسی تیل بردار جہاز بھی قبضے میں لے لیے تھے جبکہ ایران پر حملے کی دھمکیوں اور اس کے ساتھ تجارت کرنے والے ملکوں پر ٹیرف عائد کرنے کا مقصد بھی چین کے راستے میں رکاوٹ پیدا کرنا ہے کیونکہ چین ہی ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ 
 امریکہ کے حالیہ جارحانہ اقدامات بظاہر اندھی طاقت کا نشہ لگتے ہیں لیکن ان میں ایک شدید قسم کی بدحواسی اور پریشانی بھی پنہاں ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ امریکہ کو اندازہ ہو چکا ہے اب چین کو پکڑنا یا روکنا ممکن نہیں رہا۔ یہ اندازہ اسے مئی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کے بعد زیادہ اچھے طریقے سے ہو گیا کیونکہ اس جنگ نے ساری دنیا کی آنکھیں کھول کر رکھ دیں۔ بھارت جو امریکہ سمیت پورے عالم مغرب کی امیدوں کا مرکزو محور بنا ہوا تھا، پاکستان نے معرکہ حق کے ایک ہی جھٹکے میں اس کے غبارے سے ساری ہوا نکال دی۔
معرکہ حق میں پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی عبرتناک شکست سے امریکہ سمیت پوری دنیا کو اندازہ ہو گیا کہ چینی ٹیکنالوجی اب مغرب اور امریکہ کا غرور خاک میں ملانے کے لیے تیار ہے کیونکہ پاکستان نے جن جے ٹین سی طیاروں مدد سے بھارتی رافیل گرائے وہ چینی ٹیکنالوجی کی مدد سے ہی تیار کیے گئے تھے۔ اب تو چین نے خود بھی باقاعدہ طور پر پاک بھارت جنگ میں اپنے تیار کردہ طیاروں کی کامیابی کا اعلان کر دیا ہے۔
 یوں معرکہ حق نے پوری دنیا کا منظر نامہ ہی بدل ڈالا ہے۔ امریکہ کو چین کی بالادستی کا وقت تیزی سے قریب آتا نظر آ رہا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ایسا وقت آنے سے پہلے پہلے جتنا آٹا جمع کیا جا سکتا ہے کر لے اور جتنا سامان بارش سے بچایا جا سکتا ہے بچا لے۔

مزیدخبریں