بی ایل اے، بلوچ عوام کے مطالبات کا دشمن اور ملک کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ

06:59 PM, 17 Feb, 2026

پاکستان میں بلوچ لبریشن آرمی (BLA) کو طویل عرصے تک محض ایک “علیحدگی پسند تحریک” کے طور پر پیش کیا جاتا رہا، لیکن حقیقت اب اس سے کہیں مختلف ہے۔ ریئل کلیئر ورلڈ میں شائع ہونے والے  امریکی سابق فوجی افسر و دفاعی تجزیہ کار  جوئے بوکینو کے تحقیقی آرٹیکل کے مطابق، بلوچ لبریشن آرمی جو کبھی سیاسی اور علاقائی اثرات کی بنیاد پر قائم ہوئی، وہ آج ایک ایسے ادارے میں تبدیل ہو چکی ہے جو جدید دہشتگردی کے طریقوں پر عمل کرتا ہے۔
حالیہ برسوں میں BLA نے شہریوں اور عوامی بنیادی ڈھانچے کو براہِ راست نشانہ بنایا ہے۔ آرٹیکل میں 31 جنوری 2026 کے بیلاچستان میں ہونے والے منظم حملے کی مثال دی گئی ہے، جن میں درجنوں عام شہری اور سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ گروہ اب مقامی بلوچ عوام کے جائز مطالبات سے منقطع ہو کر صرف انتشار اور ترقیاتی منصوبوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں مصروف ہے۔
تحقیقات، آزاد سروے اور PILDAT کے مطالعے بتاتے ہیں کہ بیلاچستان کے بیشتر مسائل علیحدگی نہیں بلکہ روزگار کی کمی، حکومتی ناکامی، بدانتظامی اور بدامنی سے متعلق ہیں۔ گیلپ پاکستان کے مطابق عوام کا دھیان بہتر خدمات، شمولیت اور قانون و انصاف پر ہے، جبکہ علیحدگی کے مطالبات بہت کم ہیں۔ بیشتر بلوچ اپنے آپ کو پاکستانی سمجھتے ہیں اور سیاسی قیادت بھی آئینی اور اقتصادی اصلاحات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیتی ہے۔
ابتدائی دور میں BLA نے زیادہ تر فوجی اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا، لیکن گزشتہ دہائی میں خودکش حملے، متعدد شہروں میں یکساں حملے، ٹرین ہائی جیکنگ اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے جیسے اقدامات عام ہو گئے ہیں۔ اسکول، بسیں اور دیگر عوامی ادارے اب ہدف ہیں، اور Majeed Brigade اور Fateh Squad جیسی نیم خودمختار یونٹیں زیادہ مہلک کارروائیوں میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔

آرٹیکل کے مطابق، BLA اغوا، تاوان، اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی ذرائع سے اپنے مالی وسائل حاصل کرتی ہے۔ ساتھ ہی یہ مختلف نظریاتی دہشتگرد گروہوں کے ساتھ وقتی بنیادوں پر تعاون کرتی ہے، جو اس کے سیاسی منشور سے زیادہ فوری اور عملی مقاصد کی عکاسی کرتا ہے۔ چین پاکستان اکنامک کوریڈور سے متعلق منصوبوں، چینی شہریوں اور اہم اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانا ظاہر کرتا ہے کہ BLA اب علاقائی طاقتوں کے مفادات کے لیے کام کر رہی ہے۔

BLA کو “علیحدگی پسند تحریک” کے طور پر پیش کرنا اب حقیقت کے منافی ہے۔ یہ ایک دہشتگرد گروہ ہے جو سیاسی بیانیے کو اپنے مظالم کو جائز بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ بلوچ عوام کے جائز مطالبات حقیقی اور اہم ہیں، لیکن BLA کی کارروائیاں ان کے حل کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو اس کے اصل روپ میں  ایک منظم دہشتگرد نیٹ ورک  کے طور پر پہچانا جائے۔

مزیدخبریں