بنگلہ دیش کی نئی پارلیمنٹ کی حلف برداری، طارق رحمان وزیراعظم منتخب

10:38 AM, 17 Feb, 2026

ڈھاکہ : بنگلہ دیش کی تیرہویں جاتیہ سنگسد (پارلیمنٹ) کے نومنتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم نصیرالدین نے نئے ارکان سے حلف لیا، جس کے بعد طارق رحمان نے بھی وزیراعظم کے طور پر حلف اٹھانے کے لیے پارلیمنٹ کا حصہ بننے کی رسم ادا کی۔ طارق رحمان، جو کہ مرحومہ خالدہ ضیا کے بیٹے ہیں، وزیر اعظم بننے جا رہے ہیں۔

حلف برداری کے بعد ارکان پارلیمنٹ نامزد وزیراعظم کے حق میں ووٹ دیں گے، اور طارق رحمان کے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد وہ اور ان کی کابینہ حلف اٹھائیں گے۔ اس تقریب میں ملکی اور غیر ملکی شخصیات کی شرکت متوقع ہے، اور اس موقع پر پاکستان کی نمائندگی وفاقی وزیر احسن اقبال کر رہے ہیں۔ احسن اقبال اس دوران بنگلہ دیش کے اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں بھی کریں گے۔

بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور اس کے اتحادیوں نے حالیہ عام انتخابات میں دو سو بارہ نشستیں جیت کر پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل کی ہے، جس سے حکومت سازی کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

اس سے قبل، بنگلہ دیش کے عبوری سربراہ محمد یونس نے اپنے خطاب میں کہا کہ عبوری حکومت اپنا دور مکمل کر رہی ہے اور اب نئی منتخب حکومت کا قیام ممکن ہو چکا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حالیہ انتخابات میں ووٹرز اور سیاسی جماعتوں نے ایک مثالی جمہوری عمل کی پیروی کی ہے، جس سے مستقبل میں جمہوریت کو مزید تقویت ملے گی۔

محمد یونس نے بی این پی کی کامیابی کی تعریف کرتے ہوئے پارٹی کے سربراہ طارق رحمان کو مبارکباد دی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بنگلہ دیش میں جمہوری عمل، آزادی اظہار اور بنیادی حقوق کا تحفظ جاری رہے گا۔

یاد رہے کہ عبوری حکومت تقریباً 18 ماہ سے ملک چلا رہی تھی، اور اس دوران محمد یونس نے 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سیاسی عبوری دور کی قیادت کی، جس میں عام انتخابات کرائے گئے اور جین زی کے مطالبات پر آئینی اصلاحات کے لیے ریفرنڈم بھی کرایا گیا۔

مزیدخبریں