نئے آئی جی پنجاب

09:10 AM, 17 Feb, 2026

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف پہلے ہمیں صرف بزدار کے مقابلے میں بہترین وزیراعلیٰ لگتی تھیں، اپنے کچھ کاموں سے اب وہ ہمیں اس یقین میں مبتلا کرتی جا رہی ہیں بزدار کے علاوہ بھی کچھ سابقہ وزرائے اعلیٰ پنجاب سے وہ ہزار درجے بہتر ہیں، وہ اسی جذبے سے کام کرتی رہیں مجھے یقین ہے ایک روز اپنے چچا شہباز شریف کی پنجاب میں بطور وزیراعلیٰ کارکردگی سے بھی وہ آگے نکل جائیں گی اور یہ بات خوداْن کے چچا کے لیے باعث اعزاز ہو گی، البتہ بطور وزیراعظم اْن کے چچا کو اپنی کارکردگی مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے اْنہیں چاہیے شو بازی سے ہٹ کر حقیقی معنوں میں کچھ ایسے کارنامے بطور وزیراعظم عوام کے لیے وہ کریں جس کے نتیجے میں اْنہیں آئندہ الیکشن میں کسی خفیہ سہارے کی کم ضرورت پڑے۔ مریم نواز شریف کے کچھ اچھے کاموں پر کبھی تفصیل سے لکھوں گا، فی الحال اْنہوں نے نئے آئی جی پنجاب کے لیے جس اعلیٰ اقدار کے حامل انتہائی دیانت دار پولیس افسر عبدالکریم کا انتخاب کیا ہے میں اس پر اْنہیں خراج تحسین پیش کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ میں کئی برس سے اْنہیں جانتا ہوں، ہمارے ہاں عمومی طور پر یہ سمجھا جاتا ہے اور یہ کسی حد تک درست بھی ہے آئی جی پنجاب صرف وہی بنتا ہے جس کا سیاسی و اصلی حکمرانوں یا پولیس میں بڑا مضبوط گروپ ہوتا ہے، پولیس گروپ کے عبدالکریم کا پولیس میں کوئی گروپ ہے نہ زندگی میں کبھی سیاسی و اصلی طاقتوروں کے ساتھ اپنے غیر ضروری مراسم بڑھانے پر اْنہوں نے توجہ دی، لہٰذا اْن کے بارے میں یہ تصور نہیں کیا جا سکتا تھا وہ آئی جی پنجاب بنیں گے۔ یہ میں زمینی حقائق یا ہمارے ہاں تقرریوں تبادلوں کا جو غلیظ کلچر رائج ہے اْس کے مطابق بات کر رہا ہوں، قدرت کا اپنا ایک نظام ہے، آپ کسی کے ہاتھ سے چھین سکتے ہیں اْس کے مقدر سے نہیں چھین سکتے، میں اس پر یقین نہیں رکھتا ’’جو انسان کے مقدر میں ہے وہ مل کر رہتا ہے اور جو نہیں ہے وہ نہیں ملتا‘‘، میرا ایمان یہ ہے ’’کسی انسان کے مقدر میں جو کچھ اچھا لکھا ہے وہ کسی کی بددعا سے چھن بھی سکتا ہے اور جو بْرا لکھا ہے وہ کسی کی دعا سے ٹل بھی سکتا ہے‘‘۔ عبدالکریم اپنی سروس میں جس عہدے پر رہے اْنہوں نے دعائیں لیں، میں نے جب بھی کسی مظلوم کی مدد کے لیے اْنہیں پکارا اْنہوں نے ایسا رسپانس دیا دل سے اْن کے لیے دعائیں نکلیں۔ ہر قسم کی بناوٹوں سے پاک سادہ سا یہ پولیس افسر حقیقی معنوں میں محبت کے لائق ہے، یہ یقینا بے شمار لوگوں کی دعائوں کا ہی نتیجہ ہے وہ اْس عہدے پر پہنچ گیا جس کی تمنا یا حسرت لیے بڑے بڑے اعلیٰ پولیس افسر ریٹائرڈ ہو جاتے ہیں۔ زیادہ اہم بات یہ ہے یہ عہدہ اْنہیں اپنے اْن کولیگز کے مقابلے میں ملا ہے جن کے روابط بڑے بڑے اْونچے مقاموں پر تھے، عہدے کے اعتبار سے اعلیٰ اور کردار کے اعتبار سے انتہائی کمینہ پولیس افسر بھی پچھلے کئی مہینوں سے اس عہدے کا متمنی و کوشاں تھا، یہ عہدہ حاصل کرنے میں وہ ناکام رہا، دوسری بڑی ناکامی کا مسلسل سامنا اْسے یہ ہے اپنے ہی دو ماتحت پولیس افسروں کی نافرمانیاں بلکہ انتہائی ’’جائز نافرمانیاں‘‘ اْسے برداشت کرنا پڑ رہی ہیں، اپنی فطرت کے مطابق اْن کے خلاف وہ کچھ نہیں کر پا رہا، نئے آئی جی عبدالکریم کا انتخاب بلکہ حْسن انتخاب وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے بالکل میرٹ پر خود کیا، مجھے یقین ہے وہ اس ’’حسن انتخاب‘‘ کی لاج رکھیں گے اور وزیراعلیٰ کے اْس اعتماد کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچائیں گے جو اْنہوں نے عوام کو پولیس کی جانب سے زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کے حوالے سے اْن سے قائم کیا ہے۔ سابق وزیراعظم عمران خان کے ساتھ میرا چھبیس سالہ پرانا ایک ذاتی تعلق تھا، اس تعلق میں پہلی بار دراڑ اْن کے وزیراعظم بننے کے بعد اْس وقت آئی جب اپنے ہی تبدیلی کے خواب کو اْنہوں نے ملیا میٹ کر دیا، تب اْن کی کچھ ناقص پالیسیوں پر اْن کا بہترین دوست ہونے کے باوجود میں نے لکھا وہ ناراض ہو گئے، یہ ایک ’’حکمرانی ادا‘‘ ہے جس کی میں نے کبھی پروا نہیں کی، وہ وزیراعظم بنے اْنہیں اتنی مبارکیں نہیں ملیں جتنی مجھے ملیں، اکثر لوگوں کا خیال تھا وزیراعظم عمران خان اب ہر کام مجھ سے پوچھ کر کریں گے، چنانچہ بے شمار افسروں خصوصاً پولیس افسروں نے میرے گھر ڈیرے ڈال دئیے، ایک دو تو باقاعدہ بستر لے کے آ گئے کہ جب تک ان کی تقرری کسی اچھے عہدے پر نہیں ہو گی وہ واپس نہیں جائیں گے، اْن میں عہدے کا وہ اعلیٰ اور کردار کا وہ چھوٹا اور کمینہ پولیس افسر بھی تھا جو ایڑی چوٹی و دیگر اعضا کا پورا زور لگا کر بھی فی الحال آئی جی پنجاب نہیں بن سکا، آج وہ نون لیگ کی آنکھ کا زبردستی تارا بلکہ ’’تارا مسیح‘‘ بنا ہوا ہے، اْس وقت وہ مجھ سے کہتا تھا ’’وزیراعظم عمران خان سے کہو فلاں فلاں عہدے پر وہ مجھے اگر لگا دے میں لاہور سے نون لیگ کا صفایا کر دوں گا‘‘، نہ چاہتے ہوئے بھی وزیراعظم عمران خان سے میں نے اْس کی سفارش کر دی، پر خان صاحب کے کچھ قریبی دوستوں نے اْس کی فطرت بارے جب تفصیل سے اْنہیں بتایا اْس کے بعد اْنہوں نے مجھ سے معذرت کر لی۔ میرا دروازہ بند ہونے کے بعد مزید کئی دروازے اْس نے کھٹکھٹائے، کہیں سے بھی من پسند کمائو عہدے کی اْسے بھیک نہ مل سکی۔ دوسری طرف عبدالکریم واحد پولیس افسر تھے جنہوں نے اْس دور میں میرے ساتھ رابطہ جان بوجھ کر کم کر دیا تھا، ایک بار میں نے خود اْن کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا ’’میں فلاں عہدے کے لیے وزیراعظم عمران خان سے آپ کی سفارش کرنا چاہتا ہوں، آپ کو اعتراض تو نہیں ہے؟‘‘۔ وہ بولے، ’’مجھے سخت اعتراض ہے، میں جہاں بیٹھا ہوں ٹھیک ہوں، اگر کسی اہم عہدے کا میں اہل ہوا وہ بغیر کسی ریفرنس اور سفارش کے مجھے مل جائے گا‘‘۔ اْن کے اس رویے نے میرے دل میں اْن کی قدر میں مزید اضافہ کر دیا، اْن کے آئی جی پنجاب بنائے جانے کی خبر سب سے پہلے مجھ تک پہنچی تھی، ہمارے ٹی وی چینلز کچھ اور نام فائنل کر کے بیٹھ گئے ہوئے تھے، مجھے کچھ دن پہلے کی مجلس یاد آ گئی، اْس وقت آئی جی پنجاب کی تبدیلی کا دْور دْور تک نام و نشان نہیں تھا، میں نے اْس مجلس میں عبدالکریم کے بارے میں اپنی خواہش کا اظہار کیا اْن کے ایک بیج میٹ نے بڑے تکبر سے کہا ’’وہ آئی جی سٹف نہیں ہے‘‘، شاید یہی وہ لمحہ تھا جب قدرت نے اْنہیں آئی جی پنجاب بنانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔

مزیدخبریں