بھارت کا کینیڈا سے امریکہ تک پھیلاخونی نیٹ ورک

09:07 AM, 17 Feb, 2026

بھارت عالمی سطح پر بے نقاب ہورہا ہے ، ہندوتوا فلاسفی کے عین مطابق بھارتی حکومت کسی بھی دوسرے فریق کو برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ مذہبی جنونیت حیوانیت میں تبدیل ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بغل میں چھری منہ میں رام رام جیسے محاورے پر عین پورا اترتے ہیں۔ بھارت نے کینیڈا سے امریکا تک ایک خونی نیٹ ورک کا جال بچھا رکھا ہے۔ اس کا مقصد صرف ایک ہے کہ سکھ رہنماؤں کی آواز کو بند کر دیا جائے۔ بھارتی پالیسی کے مطابق اگر سکھ رہنماآزادی کی بات کریں تو ان کی آواز بند کر نے کے لئے قتل و غارت سے بھی گریز نہ کرو۔ بھارت نے سکھ رہنماؤں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سکھ رہنماؤں کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے۔ ان کے خاندانوں کو خطرہ ہے ، بھارتی حکومت سکھوں کے خلاف ایک ایسی کارروائی کررہی ہے جس کا انجام یقینی طور پر بہت بھیانک ہوگا اور بھارت کی جڑیں ہلا کر رکھ دے گا۔ یہی نہیں بھارتی حکومت افغانستان میں بھی دہشتگردوں کی کھل کر سہولت کاری کر رہی ہے۔ یہ وہی خوارج ہیں جوپاکستان کے اندر گھس کر تخریب کاری کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر اب بھارتی دہشت گردی کینیڈا کے بعد امریکا میں بھی بے نقاب ہو گئی ہے۔ بھارتی شہری نکھل گپتا، المعروف "نک"، نے نیویارک کی وفاقی عدالت میں سیکنڈ سپرسیڈنگ فردِ جرم میں عائد تمام تینوں الزامات کا اعترافِ جرم کر لیا ہے، جن میں اجرتی قتل ، قتل کی سازش، اور منی لانڈرنگ شامل ہیں۔عدالتی دستاویزات کے مطابق، نکھل گپتا نے یہ تمام مجرمانہ منصوبہ بندی بھارتی حکومت کے ایک اہلکار وکاس یادو کی براہِ راست ہدایت اور رابطہ کاری پر کی، جو اس وقت بھارتی کابینہ سیکرٹریٹ میں تعینات تھا اور خود کو 'فیلڈ آفیسر' ظاہر کرتا تھا۔وکاس یادو نے مئی 2023 میں نکھل گپتا کو اس شرط پر بھرتی کیا کہ اس کے بدلے بھارت میں گپتا کے خلاف درج مجرمانہ کیسز ختم کر دیئے جائیں گے، جس کے بعد گپتا نے نیویارک میں سکھ رہنما کے قتل کے لیے 'ہٹ مین' کی تلاش شروع کی۔اس سازش کے دوران، وکاس یادو نے گپتا کو ہدف گورپت سنگھ پنوں کی انتہائی حساس معلومات فراہم کیں، جن میں ان کا نام، نیویارک کا رہائشی پتہ، فون نمبر اور ان کی روزمرہ کی نقل و حرکت کی تفصیلات شامل تھیں۔ رپورٹ کے مطابق، بھارتی اہلکار یادو نے گپتا کو ہدایت دی تھی کہ وہ قتل کی کارروائی کے لیے ایسی تاریخوں کا انتخاب نہ کرے جو بھارت اور امریکہ کے درمیان اعلیٰ سطح سفارتی مصروفیات یا سرکاری دوروں کے قریب ہوں۔ 18 جون 2023 کو کینیڈا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے فوراً بعد، وکاس یادو نے نکھل گپتا کو نجر کی خون آلود لاش کی ویڈیو بھیجی اور پیغام دیا کہ اب نیویارک والے ہدف کو نشانہ بنانا "ٹاپ ترجیح" ہے۔نکھل گپتا نے نادانستہ طور پر ایک امریکی ڈی ای اے (DEA) کے خفیہ ذریعے سے رابطہ کیا جسے وہ مجرمانہ دنیا کا آدمی سمجھ رہا تھا، اور قتل کی سپاری کے طور پر 1 لاکھ ڈالر کی رقم طے کی گئی، جس میں سے 15 ہزار ڈالر پیشگی ادا بھی کیے گئے۔ امریکی اٹارنی جے کلیٹن اور ایف بی آئی حکام نے واضح کیا کہ نکھل گپتا نے ایک غیر ملکی حکومت کے ایجنٹ کے طور پر کام کرتے ہوئے امریکی سرزمین پر آزادیِ اظہارِ رائے کا حق استعمال کرنے والے ایک امریکی شہری کو خاموش کرانے کی غیر قانونی کوشش کی۔ایف بی آئی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر جیمز بارنیکل جونیئر کے مطابق، یہ کیس ثابت کرتا ہے کہ ایف بی آئی ہر اس غیر ملکی مخالف کے خلاف بھرپور کارروائی کرے گی جو امریکی شہریوں کے آئینی حقوق کو نشانہ بنانے کی کوشش کرے گا۔نکھل گپتا کو ان سنگین جرائم کے اعتراف کے بعد اب قید کی طویل سزا کا سامنا ہے، جس کا حتمی اعلان امریکی ڈسٹرکٹ جج وکٹر ماریرو 29 مئی 2026 کو مقررہ سماعت کے دوران کریں گے۔ اس طرح یہ ثابت ہوا ہے کہ بھارت ایک دہشت گرد ملک بن رہا ہے۔ یہاں کی پالیسیاں ہولناک ہیں ، دہشت گردی کو فروغ دیا جارہا ہے۔ اظہار رائے کی آزادی ماضی کے اوراق میں دفن ہو چکی ہے۔ ہرطرف ایک مایوسی کا عالم ہے۔ ایسے میں امریکا جیسے ملک میں بھی ٹارگٹ کلنگ کرانا یہ ظاہر کر تا ہے کہ بھارت بری طرح گھبرا چکا ہے ، آزادی کی آوازیں مودی سرکارکی نیندیں اڑا چکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب مودی کی حکومت اندرون ملک بھی تنقید کی لپیٹ میں آچکی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں ریاستی خودمختاری اور شہری آزادیوں کا احترام بنیادی اصول سمجھے جاتے ہیں۔ اگر کوئی ریاست یا اس کے اہلکار بیرونِ ملک سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے میں ملوث پائے جائیں تو یہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ عالمی نظام کے لیے بھی ایک خطرناک مثال بن سکتا ہے۔ اس مقدمے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ جدید دنیا میں خفیہ قاتلانہ کارروائیاں بھی مکمل راز نہیں رہتیں، اور قانونی نظام، میڈیا اور عالمی رائے عامہ مل کر انہیں بے نقاب کر سکتے ہیں اور مودی سرکار کے ساتھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔

مزیدخبریں