مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی ایک پکے مسلمان اور سچے عاشق رسول تھے۔ ان کا دل رحمت دو عالم کی محبت سے لبریز تھا۔ ان کی ہر بات اور عمل عشق محمد کا عکاس تھا۔ وہ پہلی بار 1978ءمیں اپنے والدین کے ہمراہ حج کے لیے تشریف لے گئے۔ بعد ازاں انہوں نے کئی بار حج اور عمرے کیے لیکن ہر بار انہوں نے اپنے قلب و روح کی ایک نئی ایمانی و روحانی کیفیت محسوس کی جو آقا دوجہاں کی محبت میں پہلے سے کہیں زیادہ معمور و مشکبو ہوتی۔ ہر بار ان کے دل میں اپنے نبی کی سرزمین کے لیے سفر کا ایک نیا جوش، جذبہ اور شوق ہوتا۔ خاص طور پر شہر نبی کی مقدس گلیوں میں چلنے کی خوشی، دیدار گنبد خضرا کا ولولہ، روضہ رسول کی جالیوں کوچھونے کی تمنّا اور آقا دو عالم کے سامنے درود و سلام پیش کرنے کا جوش۔ یہ مقدس جذبات ان کے حج و عمرے کے سفر کو کئی گنا روح پرور اور ایمان افروز بنا دیتے۔ خصوصاً یہ احساس کہ کہاں مجھ جیسا اَدنیٰ غلام اور کہاں آقا سرور کونین کا مرتبہ و مقام؟ کہاں شہنشاہ کائنات کی شان اور کہاں یہ گنہگار انسان؟ کہاں عرش مُعَلّیٰ کا مہمان اور کہاں یہ خَطَا کار مسلمان؟ بقول مرحوم پیر مہر علی شاہ:
کتھے مہر علی کتھے تیری ثنا
گستاخ اکھیاں کتھے جا لڑیاں
روضہ اقدس پر حاضری کے وقت آپ کے جسم و جان اور روح و قلب پر ایک کپکپی و رقت طاری ہوتی اور آنکھوں میں آنسووں کی نہ تھمنے والی جھڑی۔ انہوں نے اپنی اس روحانی کیفیت کا ذکر اپنی مشہور و معروف کتاب ”مکہ مدینہ“ میں بہت خوبصورت انداز میں کیا ہے۔ مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی اپنی اس ایمانی و روحانی کیفیت کی چاشنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”میں روضہ اقدس کی سنہری جالیوں کے عین سامنے ایک ستون سے لگا کھڑا تھا۔ ساری عرضیاں پیش کی جا چکی تھیں اور میرا دل ان دعاو¿ں سے معمور تھا جو لفظ و بیاں کے سانچے میں ڈھل ہی نہیں پاتیں جو پھول کے غلاف میں لپٹی خوشبو کی طرح آپ ہی آپ اٹھتی اور جالیوں کو چھوتی باب جبریل سے گزرتی سبز گنبد کی طرف اڑ جاتی ہیں۔ لفظ، جملے، بیان، چھوٹی چھوٹی آریاں ہیں جو دعاو¿ں کے پرکاٹ دیتی ہیں۔ دعاو¿ں کے کتابچے، اعزاءو اقارب کی التجاو¿ں والی ڈائریاں اور رنگا رنگ عرضیاں، حضوری کے سرور کو کھا جاتی ہیں اور روضہ رسول کے عین سامنے، رحمةللعالمین سے صرف چند فٹ دور بھی اگر انسان بے حضور اور بے سرور رہے تو اس سے بڑھ کے محرومی کیا ہو گی؟ میں اکثر سوچتا ہوں، کیا میرے حضور اپنے عین سامنے کھڑے غلام کے جذبہ و احساس سے ناآشنا ہو سکتے ہیں؟ کیا وہ نہیں جانتے کہ میرے دست طلب کی لکیریں کیا کہہ رہی ہیں؟ کیا رب کریم، اپنے محبوب کے سامنے دست بستہ کھڑے بندے کے قرطاس دل کی تحریریں نہیں پڑھ سکتا؟ مانگنا کسے کہتے ہیں؟ کیا دہلیز کے ساتھ لگے کھڑے کاسہ بہ دست فقیر کے لئے صدا لگانا ضروری ہے؟ حرم کعبہ، حرم نبوی، عرفات، منیٰ، مزدلفہ کہیں بھی مرصع لفظوں اور عقیدت میں گندھی دعاو¿ں میں کبھی مشکل پیش نہیں آتی، لیکن روضہ رسول کی سبز جالیوں کے سامنے پہنچتے ہی ساری دعائیں جیسے تحلیل ہو جاتی ہیں۔ دل کی کیتلی میں ایک ابال سا اٹھتا ہے، حلق میں نمک کی ڈلی سی گھلنے لگتی ہے اور ساری دعائیں، آنکھوں کے راستے آنسوو¿ں کی صورت رخساروں پر ڈھلکنے لگتی ہیں“۔
روضہ رسول پر حاضری کے ایک دوسرے واقعہ کا احوال بیان کرتے ہوئے آپ لکھتے ہیں: ”میں نے مسجد نبوی میں قدم رکھا تو چند ہی ثانیوں بعد مغرب کی اذان بلند ہوئی۔ نماز ادا کرنے کے بعد میں سلام پیش کرنے کے لیے اٹھا۔ مجھے کچھ یاد نہیں کہ میں کس طرح روضہ رسول تک پہنچا۔ کتنی دیر وہاں کھڑا رہا۔ کیا دعا مانگی۔ کس کس کا سلام پیش کیا۔ کس کس کا سندیسہ پہنچایا۔ بس اتنا یاد ہے کہ میرا سر جھکا ہوا تھا۔ میرے وجود پر ہلکی سی کپکپی طاری تھی اور میرا چہرہ آنسوو¿ں سے تر تھا۔ مجھے کچھ کچھ یاد پڑ رہا ہے کہ میرے آس پاس بیسیوں آدمی کھڑے تھے لیکن چند لمحوں بعد مجھے یوں لگا جیسے میں بالکل اکیلا ہوں۔ جب میں نے کچھ کہنے کے لیے لب ہلانے کی کوشش کی تو میری گگھی بندھ گئی تھی اور میں نے اپنے آپ کو بڑی مشکل سے سنبھالا تھا۔ میں کہ لفظوں سے کھیلتا رہتا ہوں، اس گھڑی گونگا بہرا ہو گیا تھا اور عرض تمنا کے لیے مجھے ایک بھی ایسا لفظ نہیں مل رہا تھا جو شہ دو جہاں کی بارگاہ کے شایان شان ہو۔ مجھے خواب کی طرح یاد پڑتا ہے کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے اپنی بے چارگی کا مداوا چاہا تھا لیکن میری جھولی لفظوں کی سوغات سے محروم رہی تھی۔ میں نے بے بسی کے عالم میں حرم نبوی کی چھت کی طرف دیکھا اور میری اشکبار آنکھوں کے پانیوں پر ایک لوح سی تیرنے لگی۔ جس پر لکھا تھا:
تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روز محشر عذر ہائے من پذیر
گر تومی بینی حسابم ناگزیر
از نگاہ مصطفےٰ پنہاں بگیر
ترجمہ: اے خدا! تو دونوں جہانوں سے غنی ہے اور میں ایک درماندہ فقیر ہوں۔ تیرا کرم ہو گا کہ قیامت کے دن میری معافی قبول کر لے اور مجھے بخش دے اور اگر تو کسی وجہ سے میرا حساب کتاب کرنا اور میرے اعمال نامے کا جائزہ لینا ضروری خیال کرے تو اتنا کرم کرنا۔ میری فرد گناہ، آقائے دو جہاں حضرت محمد مصطفیﷺ کی نگاہوں سے چھپا کر رکھنا (تا کہ مجھے اپنے آقا حضرت محمد مصطفیﷺ کے سامنے شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے)۔“
حضرت علامہ اقبال کی یہ مشہور رباعی اگرچہ بعد میں جو انہوں نے ڈیرہ غازی خان کے عاشق رسول مرحوم محمد رمضان عطائی کی درخواست پر ان کے نام منسوب کر دی، آپ کو بے حد پسند تھی۔ آپ اکثر اسے گنگناتے رہتے اور خطاطی کے حسین فن پاروں کی صورت اسے اپنے گھر اور دفتر میں بھی آویزاں کر رکھا تھا۔ مزید برآں آپ نے اپنی مشہور کتاب ”مکہ مدینہ“ کی ابتدا بھی اسی رباعی سے ہی کی ہے۔ اس رباعی سے آپ کے عشق کا یہ عالم تھا کہ اس کا تاریخی پس منظر جاننے کیلئے آپ ڈیرہ غازی خان کے قدیم قبرستان ”ملا قائد شاہ“ جا پہنچے۔ اہل علاقہ کے ہمراہ عاشق رسول مرحوم محمد رمضان عطائی کی قبر تلاش کرتے رہے۔ جب کافی کوشش کے بعد قبر مل گئی تو اہل علاقہ سے کہا کہ مجھے تھوڑی دیر کیلئے عاشق رسول کی قبر پر تنہا چھوڑ دیں۔ پھر تنہائی میں آپ روتے ہوئے مرحوم محمد رمضان عطائی سے مخاطب ہوئے کہ تو کس قدر خوش قسمت و خوش نصیب ہے کہ تیرے پاس آقا دو جہاں کے عشق سے معمور و مشکبو یہ رباعی ہے۔ کاش یہ رباعی مجھے مل جاتی تو میں روز قیامت آقا مصطفیﷺ کے حضور سرخرو ہو جاتا۔
مرحوم محمد رمضان عطائی کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ جب حضرت علامہ اقبال نے اس کی درخواست پر 19 فروری 1937ءکو اسے تحریری طور پر یہ رباعی عطا کر دی تو اس کے دل پر یہ ایسی نقش ہوئی کہ اٹھتے بیٹھتے گنگناتے اور روتے رہتے۔ انہی دنوں جب حج پر گئے تو خود اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں کہ جب حجاج اوراد و وظائف میں مصروف ہوتے تو وہ زار و قطار روتے اور علامہ کی یہ رباعی پڑھتے رہتے۔ مرحوم محمد رمضان عطائی 1968ءمیں جب اس جہان فانی سے رخصت ہونے لگے تو انہوں نے اپنی وصیت میں لکھا ”میرے مرنے پر اگر کوئی وارث موجود ہو تو رباعی مذکور میرے ماتھے پہ لکھ دینا اور میرے چہرے کو سیاہ کر دینا“۔ معلوم نہیں کہ پس مرگ ان کے کسی وارث نے اس عاشق رسول کی پیشانی پہ یہ رباعی لکھی یا نہیں لیکن ڈیرہ غازی خان کے قدیم قبرستان ”ملا قائد شاہ“ میں اس کی قبر کے سرہانے نصب لوح مزار پر پہلے دی گئی رباعی ضرورکندہ ہے:
عشق رسول مومن کا کُل اثاثہ حیات ہے۔ مجھے رب کائنات کی لامحدود رحمتوں پر یقین کامل ہے کہ اس نے مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی کے لازوال اور بے مثال جذبہ عشق رسول کی وجہ سے اس کے ساتھ خصوصی کرم فرمایا ہو گا۔ وہ یقینا اس وقت حضور رحمة للعالمین کی قربت میں، اللہ تعالیٰ کے مقرب بندوں اور عاشقان رسول کے ساتھ اعلیٰ و ارفع مقام پر، رحمتوں کے سائے میں انعام و اکرام اور اعزاز و لطائف کی دعوتوں سے محظوظ ہو رہے ہوں گے، ان شاءاللہ۔
ہر کہ عشقِ مصطفی سامان اوست
بحر و بر در گوشہ¿ دامان اوست
زانکہ ملت را حیات از عشق اوست
برگ و ساز کائنات از عشق اوست
عشق رسول اور مرحوم سینیٹر عرفان صدیقی۔۔۔ !!!
09:06 AM, 17 Dec, 2025