قلم ہاتھ میں پکڑے ان سوچوں میں گم ہوں کہ کس مسئلہ کو موضوعِ کالم بنایا جائے ۔ سیاسی مسائل پر لکھنے کو دل نہیں چاہ رہا کہ سیاستدانوں کے رویوں کو دیکھ کر دل اچاٹ سا ہو گیا ہے۔ سیاست تونام ہے حکومت اور اپوزیشن کے باہمی اتفاق رائے سے عوام کی فلاح وبہبود کیلئے کام کرنا ‘ لیکن یہاں ذاتی مفادات قومی مفادات پر غالب آ چکے ہیں اور ” میں نہ مانوں“ کی رٹ نے شدید سیاسی عدم استحکام پیدا کر دیا ہے۔ سیاست میں مذاکرات کے دروازے کبھی بند نہیں کیے جاتے کہ مسائل کا حل مل بیٹھ کر ہی نکلتا ہے لیکن آج ایسے لگتا ہے کہ ہم بند گلی میں کھڑے ہیں جس سے نکلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی ہے۔ معاشی مسائل کی بات کریں تو مہنگائی کے عام آدمی پر پڑنے والے اثراتِ بد تو گھر گھر کی کہانی ہے ۔ اس پر بھی کئی بار قلم آزمائی کر چکا ہوں لیکن پالیسیاں بنانے والے شاید مریخ پربستے ہیں جو اس سرزمین پر موجود عام آدمی کی مالی مشکلات کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ میں اس ایشو پر اکثر ایک بات لکھتا رہتا ہوں کہ سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا ہونیوالے‘ غریب کے گھر چولہا نہ جلنے پر ہونیوالے کرب کو وہم وگمان میں بھی نہیں لا سکتے اور یہی وجہ ہے کہ اشرافیہ کی جانب سے چینی، گھی، چاول یا دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ پر انہیں نہ کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ غریب کے گھر جب کھانا نہیں بنتا تو اس فیملی کے سربراہ پر کیا بیتتی ہے کہ جس کے پاس اپنے بچوں کو کھلانے کیلئے کوئی وسائل نہیں اور وہ انہیں بھوکا سلانے پر مجبور ہے۔ اس شخص کی بے بسی اور لاچارگی کو محسوس کرنے والا کوئی نہیںہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ یہ انتہائی سنگین ایشو ہے لیکن عام آدمی کی مشکلات کو بیان کرنے کا میرا قلم اب مزید متحمل نہیں ہو رہا ہے۔
ان دنوںسوشل میڈیا پر فیک نیوزاور جھوٹ کی فیکٹریاں الگ سے چل رہی ہیں اس پر بھی کئی بار آواز اٹھائی لیکن ان فیکٹریوں کی پیداوار کم ہونے کی بجائے بڑھ رہی ہے۔ اداروں کے خلاف بے بنیاد مہم چلانے والے سوشل میڈیا پر وائرل ہو جاتے ہیں ‘ گوئبلز کے پیروکاروں کی پوسٹس کو لائیکس اور شیئر دھڑادھڑ مل رہے ہیں جبکہ ان کے سبسکرائبرزمیں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں دلیل کے ساتھ حق بیان کرنے والے کی طرف کوئی توجہ دینے کو تیار نہیں ۔ پروپیگنڈا وار میں سچ دب گیا ہے اور جھوٹ لگاتار پھیل رہا ہے۔ ان سطور کی وساطت سے آپ کویہ بتا دوں کہ جوزف گوئبلز ، جرمنی کے سابق ڈکٹیٹر ایڈولف ہٹلر کا پروپیگنڈا کا وزیر تھا۔ اس کا ایک قول بڑا مشہور ہے کہ ” جھوٹ کو اتنی کثرت سے دہراﺅ کہ وہ سچ لگنے لگ جائے “۔گوئبلز اعلیٰ پائے کا مقرر تھا ، اس نے نازی حکومت میں رہ کر بہت سے جھوٹ تیار کیے اور پھر ان کو عوام میں مقبول بھی بنایا۔وہ اپنی مہم میں ، چاہے کچھ عرصہ کیلئے ہی سہی کامیاب بھی رہا تاہم گوئبلز کا انجام بڑا دردناک تھا ، گوئبلز اور اسکی اہلیہ نے اپنے چھ بچوں کو زہر دیکر خودکشی کر لی تھی۔ آج جھوٹ کی فیکٹریوں کو تواتر کے ساتھ حقائق کو مسخ کرتے دیکھ کر مجھے گوئبلز کا انجام بھی یاد آجاتا ہے کہ لوگ تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے ہیں۔
بہرحال اصل موضوع کی طرف آتے ہیں کہ قلم کو انگلیوں میں دبائے خیالات کا دھارا کسی مثبت سوچ کی طرف موڑنے کی کوشش کر رہا ہوں تاکہ آج کا کالم کسی طور مکمل ہو ، لیکن خیالات منتشر ہیں اور انہیں یکجا کرنے کی تگ ودو میں ہوں کہ اچانک ذہن میں خیال آیا کہ آج تو 16دسمبر ہے ۔ 1971ءمیں آج کی تاریخ میں ایک افسوسناک واقعہ رونما ہوا جب قائداعظم کا پاکستان دولخت ہو گیا۔ اس دن 14اگست 1947ءکو معرض وجود میں آنے والے پاکستان کا مشرقی حصہ اس سے جدا ہو گیا۔ نئی نسل کو اپنی تاریخ سے آشنائی ہونی چاہئے کہ قیام پاکستان سے لیکر 16دسمبر 1971ءتک موجودہ بنگلہ دیش بھی پاکستان کا حصہ تھا اور وہ بھی پاکستانی ہی کہلاتے تھے ۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ قیام پاکستان کی تحریک میں اہل بنگال نے بھرپور حصہ لیا بلکہ قیام پاکستان کی خالق جماعت آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد دسمبر 1906ءکو ڈھاکہ میں ہی رکھی گئی تھی۔ نواب سلیم اللہ ، خواجہ ناظم الدین، مولوی فضل الحق، حسین شہید سہروردی، نورالامین، چوہدری فضل القادر سمیت تحریک پاکستان کے کئی متحرک رہنما ﺅںکا تعلق بنگال سے تھا۔ سانحہ مشرقی پاکستان کے اسباب کا جائزہ لیا جائے تو اس میں اپنوں کی غلطیاں ، دشمن کی سازشیں اور پروپیگنڈامہم اہم عوامل تھے۔ آئندہ غلطیوں سے بچنے کیلئے ماضی کی کوتاہیوںکا تذکرہ ضروری ہے لیکن تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتا اور یہی ہمارا المیہ ہے۔ ہم غلطیوں پر غلطیاں دہرائے جاتے ہیں اور اصلاح کی کوششیں نہیں کرتے بلکہ اصلاح کا مشورہ دینے والوں کو اپنا دشمن تصور کرتے ہیں۔
کرپشن ایک اہم سماجی مسئلہ ہے یا اخلاقی ، اس بحث میں پڑے بغیر سب اس بات پر متفق ہیں کہ یہ آج کے دور کا سب سے سنگین مسئلہ بن چکا ہے جو معاشرہ کو اندر ہی اندر کھائے جا رہا ہے۔دکھ کی بات یہ ہے کہ اب کرپشن کو برائی سمجھا ہی نہیں جاتا اور حق سمجھ کر بدعنوانی کی جا رہی ہے۔ مادہ پرستی کے اس دور میں جب ہر کوئی دولت کو ہی سب کچھ سمجھتا ہے اور اسے حاصل کرنے کیلئے حلال یا حرام کی کوئی تمیز باقی نہیں رہی ‘ ایسے پرفتن حالات میں مواقع کی دستیابی کے باوجود حلال رزق کمانے والوں کو اللہ کا ولی ہی مانا جائے گا۔ ہمارا ایک اور بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک دوسرے کو تو اچھی باتوں کی نصیحت کرتا ہے لیکن خود اس پر عمل کرنے کو تیار نہیں ۔ ہم اپنے آپ کو بدلنے کیلئے تیار نہیں ہیں اور امید لگائے بیٹھے ہیں کہ ہمیں حکمران حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ جیسے مل جائیں لیکن ایسا ہو نہیں سکتا کیونکہ ” جیسے عوام ہوں گے ویسے حکمران ہوں گے “ ۔حالات میں حقیقی تبدیلی لانے کیلئے سب سے پہلے اپنا محاسبہ کرنا ہو گا۔
تبدیلی کیسے ممکن ہے؟
09:04 AM, 17 Dec, 2025