جمہوریت کے بدن پر جرم کے زخم

09:04 AM, 17 Dec, 2025

حقیقی دنیا میں کامیابی کبھی وہم اور فریب کی کوکھ سے جنم نہیں لیتی۔ یہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے عطا ہوتی ہے اور پھر انسانی محنت، صلاحیت اور تاریخی حالات کے سانچے میں ڈھلتی ہے۔ وہ قومیں جو ترقی کرتی ہیں، وہ اپنی زمینی حقیقتوں کا سامنا کرتی ہیں، اپنی کمزوریوں کی اصلاح کرتی ہیں اور ایسے ادارے تعمیر کرتی ہیں جو اعتماد کے لائق ہوں۔ اس کے برعکس، ایک عجیب سا رجحان بار بار اس وقت سامنے آتا ہے کہ جب بھی بھارت کو پاکستان کے ہاتھوں جنگ، سفارت کاری یا قومی تقابل کے کسی اور میدان میں شکست کا سامنا ہوتا ہے۔ حقائق سے آنکھ ملانے اور خود احتسابی کے بجائے وہ اکثر سنیما کی خیالی دنیا میں پناہ لیتا ہے اور فلموں اور عوامی ثقافت کے ذریعے ایسے بیانیے گھڑتا ہے جن کا مقصد پاکستان کو بدنام کرنا ہوتا ہے۔ اس بار فلموں کے ذریعے ان کا ہدف کراچی کا لیاری حلقہ انتخاب بنایا گیا ہے۔بھارت کی پاکستان کے خلاف نفرت یہی پر رکی نہیں بلکہ انہوں نے سڈنی آسٹریلیا میں ہونے والی دہشت گردی کی ذمہ داری بھی سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان پر تھوپ دی مگر بعد ازاں انہیں منہ کی کھانا پڑی۔ تاہم جب پروپیگنڈا دستاویزی حقائق سے ٹکراتا ہے تو اپنی تاثیر کھو دیتا ہے۔ بھارت کے اپنے اندرونی مسائل، بالخصوص انتخابی سیاست میں جرائم سے جڑے وسائل کے استعمال کا سنجیدہ جائزہ ایک کہیں زیادہ تلخ حقیقت آشکار کرتا ہے.... ایسی حقیقت جو نعروں پر نہیں بلکہ بھارت کی اپنی سرکاری رپورٹس، عدالتوں اور نگرانی کرنے والے اداروں کی شہادتوں پر مبنی ہے۔
بھارت میں جرم اور سیاست کے گٹھ جوڑ کا تصور نہ تو قیاس آرائی ہے اور نہ ہی کوئی اتفاقی امر؛ یہ ایک منظم اور طویل عرصے سے تسلیم شدہ حقیقت ہے۔ مقامی غنڈہ عناصر سے لے کر اثر و رسوخ رکھنے والے منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس تک، مجرمانہ گروہ سیاسی عمل میں گہرائی تک سرایت کر چکے ہیں۔ ان کی شمولیت انتخابی مہمات کی مالی اعانت سے لے کر انتخابی نتائج پر اثرانداز ہونے اور انتخابات کے بعد مراعات کے حصول تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس رجحان کی سب سے مستند نقاب کشائی 1993 کی وہرا کمیٹی رپورٹ کے ذریعے ہوئی، جو بھارتی حکومت کی قائم کردہ ایک سرکاری دستاویز ہے۔ مرکزی تفتیشی بیورو، انٹیلی جنس بیورو، را اور محصولات نافذ کرنے والے اداروں کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر اس رپورٹ نے مجرمانہ گروہوں، سیاست دانوں، بیوروکریسی اور کاروباری طبقے کے درمیان“قریبی گٹھ جوڑ”کی نشاندہی کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسمگلنگ، منشیات، رئیل سٹیٹ اور کالے دھن سے حاصل ہونے والی بے پناہ مالی اور عسکری طاقت کے سہارے منظم جرائم پیشہ گروہ سیاسی سرپرستی، ادارہ جاتی کمزوریوں، بدعنوانی اور اداروں کے مابین ناقص رابطے کے باعث تقریباً بلا روک ٹوک سرگرم ہیں۔ رپورٹ نے یہ بھی خبردار کیا کہ یہ گروہ متوازی اقتدار کے ڈھانچوں میں ڈھلتے جا رہے ہیں اور اس خطرناک ملاپ کو توڑنے کے لیے وزارتِ داخلہ کے تحت ایک انتہائی خفیہ اور مرکزی نظام قائم کرنے کی سفارش کی۔
تاریخی طور پر مجرمانہ عناصر نے براہِ راست انتخابات میں کردار ادا کیا، جس میں ووٹروں کو دھمکانا، پولنگ بوتھوں پر قبضہ اور تشدد شامل تھا۔ اگرچہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال اور مرکزی پولیس فورسز کی تعیناتی سے کھلی جبر و تشدد میں کمی آئی ہے، تاہم دبا¶ کی باریک اور پوشیدہ صورتیں اب بھی موجود ہیں۔ پولنگ سے پہلے دھمکیاں، مقامی اثر و رسوخ کی ہیرا پھیری، اور خوف یا سرپرستی کے ذریعے کنٹرول آج بھی انتخابی نتائج کو متاثر کرتے ہیں۔ کئی علاقوں میں، خصوصاً بہار اور اتر پردیش جیسی ریاستوں میں، ”باہوبلی“سیاست دان کا تصور.... جو طاقت، دولت، ذات پات کی وابستگی یا جبر کے ذریعے ووٹ حاصل کرتا ہے.... اب بھی مضبوطی سے قائم ہے۔
بھارت کے اپنے ادارے بار بار خطرے کی گھنٹی بجا چکے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے.... جیسا کہ دی ہندو جیسے معتبر اخبارات میں رپورٹ ہوا.... وزارت قانون کو متعدد مراسلات کے ذریعے مجرمانہ سیاست کی روک تھام کے لیے اضافی اختیارات کا مطالبہ کیا ہے، جن میں سنگین جرائم کے ملزمان کو نااہل قرار دینے اور سیاسی جماعتوں کے مالی معاملات کی جانچ کا اختیار شامل ہے۔ عدلیہ نے بھی مداخلت کی ہے۔ پبلک انٹرسٹ فا¶نڈیشن بنام یونین آف انڈیا (2014) کے مقدمے میں سپریم کورٹ نے ہدایت دی کہ موجودہ اراکینِ پارلیمنٹ اور اسمبلی کے خلاف مقدمات روزانہ کی بنیاد پر چلائے جائیں اور ایک سال کے اندر نمٹا دیئے جائیں۔ 
یہ گٹھ جوڑ کمزور جماعتی احتساب، نازک ریاستی اداروں والے علاقوں میں ووٹروں کے انحصار، سست عدالتی عمل....جو ملزمان کو برسوں تک انتخابات لڑنے کا موقع دیتا ہے....اور غیر شفاف انتخابی مالی نظام کے باعث برقرار ہے۔ اگرچہ الیکشن کمیشن کے اقدامات، سپریم کورٹ کی جانب سے اثاثہ جات کے انکشاف کی ہدایات، اور حقِ اطلاعات قانون کے استعمال سے شفافیت میں اضافہ ہوا ہے، لیکن دولت، طاقت اور سرپرستی کے بنیادی ڈھانچے کو توڑا نہیں جا سکا۔
یہ الزامات کسی مخالف کی جانب سے عائد نہیں کیے گئے اور نہ ہی یہ کسی فلمی سکرپٹ میں گھڑے گئے بیانیے ہیں۔ یہ حقائق بھارت کے اپنے سرکاری ریکارڈ، عدالتوں اور جمہوری اداروں میں درج ہیں۔ اقوام کا محاسبہ اس بنیاد پر نہیں ہوتا کہ وہ دوسروں کے بارے میں کیا کہانیاں سناتی ہیں، بلکہ اس پر ہوتا ہے کہ وہ اپنے اندر موجود سچائیوں کا کس حد تک سامنا کرتی ہیں۔ حقیقت، افسانے کے برعکس، پروپیگنڈے کے سامنے نہیں جھکتی، اور تاریخ بالآخر مفروضوں کو نہیں بلکہ حقائق کو محفوظ کرتی ہے۔

مزیدخبریں