بیوروکریسی: خادم یا حاکم؟ 

09:03 AM, 17 Dec, 2025

لاہور کے پوش ترین علاقے میں سگنل گرین ہونے کے باوجود گاڑیاں کو جانے کی اجازت نہ مل سکی کیونکہ دوسری جانب ریڈ سگنل سے ایک بڑے بیوروکریٹ کی پروٹوکول والی گاڑی کو تیزی سے گزرنا تھا۔ بظاہر ہمیں اب یہ معمول کی بات لگتی ہے لیکن یہ ایک ایسے رویے کی نشاندہی کرتا جو مراعات، اختیارات اور قانون سے بالاتر ہونے کی علامت بن چکا ہے۔ پاکستان میں بیوروکریسی پر تنقید دراصل کسی ایک طبقے پر الزام نہیں بلکہ ریاست کے اعصابی نظام کا پوسٹ مارٹم ہے۔ جب اعصاب ہی مفلوج ہوں تو جسم خواہ کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو، حرکت نہیں کر پاتا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان پچھلے اٹھہتر برس سے اسی مفلوج ریاستی مشینری کے ساتھ گزارا کر رہا ہے اور ہم نے اس جمود کو ”نظام“ کا نام دے رکھا ہے۔ برطانوی راج نے جس بیوروکریسی کی بنیاد رکھی، اس کا بنیادی مقصد عوامی خدمت نہیں بلکہ محکوم آبادی پر م¶ثر کنٹرول، محصولات کی وصولی اور مزاحمت کا قلع قمع تھا۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ آزادی کے بعد یورپ، چین اور دیگر ریاستوں نے اس نوآبادیاتی ڈھانچے کو توڑ کر نئے ماڈلز اپنائے، مگر پاکستان میں ہم نے اسی غلامانہ فریم ورک کو طاقت، وقار اور ریاستی تقدس کی علامت بنا لیا۔
ریاستی معاملات میں سرخ فیتہ سسٹم محض انتظامی سستی نہیں بلکہ ایک مکمل سوچ ہے۔ فائل کا رک جانا، فیصلہ م¶خر ہونا اور ”مزید وضاحت درکار ہے“ جیسی اصطلاحات دراصل اختیار کے تحفظ کا ہتھیار ہیں،عوامی مفاد کا نہیں۔ ورلڈ بینک کی گورننس رپورٹس کے مطابق پاکستان میں کسی بھی سرکاری اجازت نامے یا لائسنس کے لیے درکار وقت علاقائی اوسط سے کہیں زیادہ ہے، جس کا براہِ راست نقصان سرمایہ کاری، کاروبار اور عام شہری کو پہنچتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ایز آف ڈوئنگ بزنس جیسے اشاریوں میں مسلسل پیچھے ہے اور بلا شبہ نجی شعبہ ریاستی نظام کو ترقی میں رکاوٹ سمجھتا ہے۔
جرمنی اور اسکینڈینیوین ممالک میں 80 سے 90 فیصد سرکاری خدمات ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر منتقل ہو چکی ہیں، واضح ٹائم لائنز کے ساتھ۔ شہری کو افسر کے موڈ، تعلق یا سفارش کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اگر سروس مقررہ وقت میں فراہم نہ ہو تو ریاست جواب دہ ہوتی ہے۔ وہاں افسر خود کو قانون سے بالاتر نہیں بلکہ قانون کے تابع سمجھتا ہے، یورپی ممالک ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے کرپشن انڈیکس میں مسلسل دنیا کے بہترین ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔ امریکا میں بیوروکریسی کا بنیادی اصول ”اختیار کی تقسیم“ ہے۔ وہاں کوئی اسسٹنٹ کمشنر یا سیکریٹری خود کو چھوٹا بادشاہ نہیں سمجھتا۔ پالیسی سازی، ریگولیشن اور عمل درآمد الگ الگ دائرے ہیں اور ہر دائرہ دوسرے پر نظر رکھتا ہے۔ امریکی وفاقی اور ریاستی اداروں میں افسر کی کارکردگی کو ڈیٹا، نتائج اور عوامی فیڈ بیک سے ناپا جاتا ہے۔ ایک عام شہری انفارمیشن فریڈم لا کے تحت ریاست سے سوال کر سکتا ہے اور عدالتیں افسر کو جواب دہ بنانے میں کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوتیں۔
چین کا ماڈل بظاہر سخت نظر آتا ہے، مگر یہ سختی افسر کے لیے ہے، عوام کے لیے نہیں۔ چین میں ضلعی اور صوبائی افسر کی ترقی اس بات سے جڑی ہوتی ہے کہ اس کے علاقے میں غربت میں کتنی کمی آئی، صنعتی پیداوار کتنی بڑھی، روزگار کے مواقع کتنے پیدا ہوئے اور بنیادی سہولیات میں کیا بہتری آئی۔ ناکامی کی صورت میں محض تبادلہ نہیں بلکہ تنزلی اور سروس سے اخراج بھی ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین نے صرف چار دہائیوں میں سات سو ملین سے زائد افراد کو غربت سے نکالا اور بیوروکریسی ریاستی وژن کی عملی قوت بنی نہ کہ ذاتی مراعات کی۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کی بیوروکریسی اسی معاشرے کا حصہ ہونے کے باوجود خود کو اس سے ممتاز سمجھتی ہے۔ مخصوص انگریزی لہجہ، مخصوص اصطلاحات، مخصوص کلب، مخصوص ہا¶سنگ سوسائٹیاں اور مخصوص پروٹوکول ایک ایسی نفسیاتی خلیج پیدا کرتے ہیں جو ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کو کھا جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک بی اے یا ایم اے پاس افسر خود کو معیشت، صحت، تعلیم، ٹیکنالوجی اور خارجہ پالیسی کا ماہر کیوں سمجھنے لگتا ہے؟ اس کا جواب ہمارے سول سروس امتحانی نظام میں چھپا ہے، جہاں سماجی مسائل کے حل، مقامی حقائق اور عوامی نفسیات کے بجائے انگریزی زبان، معلوماتی رٹا اور چند مخصوص کتابوں کو کامیابی کا معیار بنا دیا گیا۔ 
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا کرپشن پرسیپشن سکور 27 ہے، جو عالمی سطح پر خطرناک حد تک کم ہے۔ نیب، ایف آئی اے اور عدالتی ریکارڈ بتاتے ہیں کہ بڑے مالیاتی اور انتظامی سکینڈلز میں بیوروکریسی کا کردار محض سہولت کار نہیں بلکہ اکثر مرکزی رہا ہے۔ فائل کے بغیر کرپشن ہوتی ہے، نہ اسکا تحفظ۔ قومی اسمبلی میں پیش کی گئی رپورٹس کے مطابق ہزاروں سرکاری ملازمین دوہری شہریت کے حامل پائے گئے، جس نے ریاستی وفاداری اور قومی مفاد پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ 
یہ درست ہے کہ کبھی کبھار چند دیانت دار، قابل اور وژن رکھنے والے افسر سامنے آ جاتے ہیں، مگر وہ استثنا ہیں، قاعدہ نہیں۔ مجموعی ادارہ جاتی رویہ کرپشن، نااہلی اورعیش پرستی کی طرف مائل دکھائی دیتا ہے۔ 
سرکاری رہائش، گاڑیاں، پلاٹس، مراعات اور پروٹوکول ایک ایسے طبقے کو جنم دیتے ہیں جو ریاستی وسائل کو عوامی امانت کے بجائے ذاتی حق سمجھتا ہے۔ اب تنقید سے آگے بڑھنے کا وقت ہے، کیونکہ دنیا میں وہی ریاستیں آگے بڑھی ہیں جنہوں نے اپنی بیوروکریسی کو نتائج کے ساتھ باندھا۔ پاکستان کے لیے اصلاحات کا قابلِ عمل راستہ وہی ہے جو چین جیسے ممالک نے اپنایا۔ افسر کی ترقی، تعیناتی اور بقا فائلوں سے نہیں بلکہ کارکردگی سے مشروط ہو، ہر افسر کے لیے واضح اہداف مقرر ہوں کہ اس کے دائرہ اختیار میں غربت کم ہوئی یا نہیں، سرمایہ کاری بڑھی یا نہیں اور عوامی خدمات کتنی تیزی اور شفافیت سے فراہم ہوئیں۔ سرخ فیتہ سسٹم کو ڈیجیٹل ٹائم لائنز کے ذریعے ختم کر کے ہر فیصلے کو مقررہ مدت کا پابند بنایا جائے۔ سول سروس امتحانات کو انگریزی فوقیت اور معلوماتی رٹے سے نکال کر سماجی مسائل، اخلاقیات اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت سے جوڑا جائے۔ مراعاتی کلچر کو محدود کر کے ترقی اور تنخواہ کو نتائج سے منسلک کیا جائے۔ حساس عہدوں پر دوہری شہریت رکھنے والوں کے لیے واضح اور سخت پالیسی نافذ ہو اور احتسابی ادارے افسر شاہی کے اثر سے آزاد ہو کر اسی طرح م¶ثر بنائے جائیں جیسے چین میں ریاستی نظم افسر کو قانون سے بالاتر نہیں ہونے دیتا۔
اکیسویں صدی میں ریاستیں فائلوں سے نہیں بلکہ فیصلوں کی رفتار، شفافیت اورعوامی اعتماد سے چلتی ہیں۔ پاکستان کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ اسے نوآبادیاتی ذہنیت کی بیوروکریسی چاہیے یا جدید، جواب دہ اورعوام دوست سول سروس۔ کیونکہ اگر ریاست کا اعصابی نظام ہی ریاست کے خلاف کام کرنے لگے تو پھر محض طاقت، نعروں اور تقریروں سے قومیں نہیں بچتیں۔

مزیدخبریں