آسٹریلیا: دہشت گردی اور احمد الاحمد

09:01 AM, 17 Dec, 2025


بی بی سی کی اطلاعات کے مطابق سڈنی کے بوندی ساحل سمندر پر ہنو کا تہوار مناتے ہوئے ایک یہودی اجتماع پر دو افراد نے فائرنگ کر کے 15افراد کو ہلاک اور درجنوں کو زخمی کر دیا ہے۔ ہلاک شدگان میں ایک دس سالہ بچی بھی شامل ہے۔ فائرنگ کرنے والے باپ بیٹا تھے۔ پولیس نے باپ کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا جبکہ بیٹا شدید زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا جسے علاج کے لئے ہسپتال میں داخل کر دیا گیا ہے۔ ایک سینئر پولیس افسر نے ABC نیوز کو بتایا کہ حملہ آوروں کی گاڑی سے اسلامک سٹیٹ کے پرچم بھی برآمد کئے گئے ہیں۔ آسٹریلین وزیراعظم نے اسے دہشت گردی اور میڈیا نے یہود دشمنی کا واقعہ قرار دیا ہے۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ واقع بلاشبہ یہودیوں کے خلاف دہشت گردی ہے اور یہود دشمنی کے جذبات کے باعث یہ واقع رونما ہوا ہے۔ آسٹریلیا ایک خوشحال، تہذیب یافتہ اور پرامن ملک ہے، اس سے پہلے اس طرح کا ایک واقعہ 1996ءمیں پورٹ آرتھر کے تسمانین ٹاﺅن میں ہوا تھا جس میں ایک دہشت گرد نے گن فائرنگ کے ذریعے 35 افراد کو ہلاک کیا تھا۔ حالیہ واقع دہشت گردی کے ساتھ ساتھ یہود دشمنی کا بھی عکاس ہے۔ دوسری طرف ایک شامی نژاد مسلمان احمد الاحمد نے گولیوں کی بوچھاڑ میں ایک حملہ آور کو پکڑا اور اس سے گن چھین لی۔ اس کاوش میں اسے دو گولیاں بھی لگیں۔ بہادری اور عزیمت کے اس انفرادی فعل پر آسٹریلیا میں اسے ہیرو قرار دیا جا رہا ہے۔ احمد کے خاندانی ذرائع نے بتایا ہے کہ احمد فطرتاً ہی ایسا ہے۔ وہ بغیر رنگ و نسل کی تفریق کے انسانی جانوں کو بچانے والا ہے۔ وہ انسانی جانوں کو بچانے کے لئے کچھ بھی کر سکتا تھا۔ احمد ہسپتال میں زیر علاج ہے اور خیریت سے ہے۔ آسٹریلیا، امریکہ اور نیو ساﺅتھ ویلز کے وزراءاعظم نے احمد کی تعریف کی ہے اور اسے ہیرو قرار دیا ہے۔ آسٹریلین پریس میں نیو ساﺅتھ ویلز کے وزیراعظم کریس منس کی ہسپتال میں احمد کی تیمارداری کرتے ہوئے تصویر شائع ہوئی ہے جس کے کیپشن میں لکھا گیا ہے کہ بقول وزیراعظم ”احمد کے ساتھ وقت گزارنا میرے لئے اعزاز ہے“ کریس نے یہی تصویر اپنے انسٹاگرام صفحے پر پوسٹ کی ہے اور اس کا کیپشن ”حقیقی زندگی کا ہیرو“ ہے۔ آسٹریلین ایک زندہ معاشرے ہے جس نے دیکھتے ہی دیکھتے 43 سالہ بچیوں کے باپ کو عالمی شہرت یافتہ ہیرو بنا دیا، زبانی کلامی ہی نہیں بلکہ اس کے لئے ایک فنڈ قائم کیا اور لوگوں سے پیسے اکٹھے کرنا شروع کئے۔ 24 گھنٹوں کے اندر اندر اس میں 13 لاکھ آسٹریلین ڈالر جمع ہو چکے ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ یاد رہے یہ تیرہ لاکھ آسٹریلین ڈالرہیں پاکستانی روپے نہیں۔ ویسے پاکستانی روپوں میں یہ رقم اڑھائی ارب روپے سے زائد بنتی ہے۔ زندہ معاشرے میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ یاد رہے آسٹریلیا نے فلسطین کو تسلیم کر رکھا ہے۔ فلسطینیوں کے آزاد ریاست کے قیام کے مطالبے کو آسٹریلیا تسلیم کرتا ہے۔ اس واقع پر اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اسے فلسطینی ریاست تسلیم کرنے کے آسٹریلوی فیصلے کا نتیجہ قرار دیا ہے، جسے آسٹریلوی وزیراعظم نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔ یہودی نمائندہ تنظیموں نے کہا ہے کہ دنیا میں ایک کروڑ 60 لاکھ یہودی پائے جاتے ہیں اور انہیں کہیں بھی امان نصیب نہیں ہے، ان کی جان کہیں بھی محفوظ نہیں ہے۔ یہود دشمنی کا تدارک کیا جانا چاہئے۔ یہود دشمن قوانین پر سختی سے عمل درآمد کیا جانا چاہئے۔ بادی النظر میں ان کا یہ مطالبہ درست نظر آتا ہے۔ کسی کو ایک کے مذہبی، نسل یا رنگ و زبان کی بنیاد پر ہلاک کرنا قطعاً درست نہیں ہے لیکن یہود کو اپنی حرکات و سکنات پر بھی غور فرمانا چاہئے۔ یہودی کی دو ہزار سالہ انتشار کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ 70 عیسوی میں دوسرے ہیکل کی تباہی اور یہودیوں کے یروشلم سے نکالے جانے کے بعد سے لے کر ہنوز 1948ءمیں ریاست اسرائیل کے قیام تک ہم دیکھتے ہیں کہ یہود کو جس قوم نے بھی پناہ دی اس نے اس قوم کو نقصان پہنچایا۔ اخلاقی، معاشی اور معاشرتی طورپر نقب لگائی، تباہی پھیلائی۔ امریکہ و یورپ ان کی آخری پناہ گاہ تھے۔ انہوں نے یہاں بسنے والوں کا مذہب، تہذیب و تمدن اور معاشرت ہی برباد نہیں کی بلکہ ان کی معیشت پر بھی جونک بن کر قبضہ کر لیا۔ عیسائی مذہب میں افکار و نظریات ہی نہیں بلکہ ایمانیات کا بھی جنازہ انہی یہودیوں نے نکالا۔ یہی یہودی تھے جو اپنے انبیاءکو قتل کرتے تھے۔ جب انہوں نے اپنے آخری نبی مسیح ابن مریم کو سولی چڑھایا تو پھر رب کائنات نے ان پر ازلی مسکنت طاری کر دی، ان کا روحانی مرکز ہیکل سلیمانی پیوند خاک ہو گیا۔ ان کی سیاسی عظمت کا نشان سلطنت سلیمانی ختم ہو گئی اور یہ یروشلم سے نکال دیئے گئے۔ عیسائی صدیوں تک انہیں ذلیل و خوار اور قاتلان مسیح کے طور پر انتقام کا نشانہ بناتے رہے حتیٰ کہ انہوںنے عیسوی تعلیمات ہی تبدیل کر دیں، ان کی مذہبی سوچ ہی نہیں بلکہ تمدنی افکار کے دھارے ہی بدل ڈالے۔ آج مغربی تہذیب جس انتشار کا شکار ہے اس کی بنیادیں یہودی زعما کی ترتیب کردہ ہیں۔ ڈارون ہو یا ڈر کائیم ہر دو نے انسانی عظمت کو برباد کرنے کی بنیادیں فراہم کیں، اس حوالے سے سرہینری فورڈ کی ضخیم کتاب ”عالمی یہودی“ کا مطالعہ دلچسپی کا باعث ہو گا۔ اس میں انہوں نے تحقیقات کے بعد لکھا ہے کہ کس طرح یہودیوں نے امریکی معاشرے کو تباہ و برباد کرنے اور اس پر غلبہ پانے کی کاوشیں کی ہیں۔ ویسے یہ تحقیقاتی کتاب پچھلی صدی میں شائع کی گئی تھی۔ اب تو ایسی تمام باتیں ازہر من الشمس ہو چکی ہیں۔ یہودیوں کی عیاری و مکاری جس کا ذکر قرآن کریم میں بھی دیکھا گیا ہے، پوری دنیا کے سامنے آچکی ہیں۔ ایڈولف ہٹلر نے اپنی خود نوشت ”میری جدوجہد“ میں وضاحت کے ساتھ لکھ دیا تھا کہ یہودی کس طرح یورپ کو برباد کر رہے ہیں۔ یورپ ہو یا امریکہ، اقوام مغرب بنیادی طور پر عیسائی ہیں۔ گو وہاں بے دینوں کی کثیر تعداد بھی پائی جاتی ہے۔ فرد کی آزادی کے نام پر وہاں بہت سی غیر مذہبی اور غیر انسانی روایات فروغ پا چکی ہیں۔ سودی نظام ہو یا شوروشراب نوشی، ہم جنس پرستی ہو یا دیگر تمدنی برائیاں یہ سب کچھ یہود کی خانہ ساز سازشوں کے نتیجے میں یہاں فروغ پایا ہے۔ یہودیوں نے سازشوں کے ذریعے عیسائیوں کو اپنے پیچھے لگا لیا ہے کہ تیسرے ہیکل کی تعمیر اور مسیحا کا انتظار مل جل کر کر رہے ہیں حالانکہ مسیح ابن مریم ہی وہ مسیحا تھے جنہیں رب کریم نے بنی اسرائیل کی طرف بھیجا۔ یہودیوں نے انہیں تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ صلیب دے دی اب عیسائی مسیح ابن مریم کی آمد ثانی کے منتظر ہیں جبکہ یہودی اب بھی اپنے مسیحا کی آمد کے منتظر ہیں۔
عیسائی مذہبی طور پر یہود کے پیچھے لگے ہوئے ہیں لیکن اب بھی یہودیوں کی حرکات کے باعث مغربی ممالک میں یہود دشمنی پائی جاتی ہے۔ ویسے یہود دشمن لاز کی موجودگی میں ان کے خلاف بات نہیں کی جا سکتی ہے لیکن اس کے باوجود یہودیوں کے خلاف نفرت پائی جاتی ہے۔ ریاست اسرائیل کی عربوں اور فلسطینیوں کے خلاف جاری جنگ بھی ایسے ہی جذبات کے فروغ کا باعث بن رہا ہے۔ آسٹریلیا کے زیر بحث واقعہ کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

مزیدخبریں