نئے صوبے: سیاسی چودھراہٹ اورعوامی مسائل

09:41 AM, 18 Aug, 2026

کیا پاکستان کا مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہمارے پاس کتنے صوبے ہیں یا حقیقی مسئلہ یہ ہے کہ ان صوبوں میں بسنے والے کروڑوں انسانوں تک ریاست کتنی جلدی، کتنی م¶ثر اور کتنی منصفانہ صورت میں پہنچتی ہے۔ اگر ایک انتظامی نقشہ عوامی ضرورتوں سے بڑا ہو جائے تو نقشے نہیں نظام بدلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وہ سیاسی مقام ہے جہاں صدر استحکامِ پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان کی آواز محض ایک سیاسی بیان نہیں رہتی بلکہ ایک سنجیدہ انتظامی سوال بن جاتی ہے۔ عبدالعلیم خان نے ہزارہ صوبے کی حمایت کرتے ہوئے ایک ایسی بحث کو پھر قومی سطح پر زندہ کیا ہے جسے پاکستانی سیاست کئی دہائیوں سے وعدوں، قراردادوں اور سیاسی مصلحتوں کے درمیان گھماتی رہی ہے۔ ہزارہ کے عوام کی طرف سے الگ صوبے کا مطالبہ ہرگز نیا نہیں۔ خیبرپختونخوا اسمبلی میں 2010ءمیں بھی اس مطالبے کی بازگشت سنائی دیتی رہی ہے مگر سوال یہ ہے کہ اگر ایک خطے کے لوگ انتظامی بنیادوں پر اپنے لیے زیادہ م¶ثر حکمرانی چاہتے ہیں تو کیا انہیں محض اس لیے انتظار کرایا جاتا رہے کہ بڑے صوبوں کی سیاسی اشرافیہ اپنی طاقت اور چودھراہٹ سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں؟ یہیں عبدالعلیم خان کا م¶قف اپنی پوری معنویت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ استحکامِ پاکستان پارٹی ہزارہ صوبے کے مطالبے کے ساتھ کھڑی ہے، جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبے کے قیام کی بھی حمایت کرے گی اور ملک کے دوسرے حصوں میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے بھی آواز اٹھاتی رہے گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ محض صوبوں کی تعداد بڑھانے کا مطالبہ نہیں۔ یہ دراصل ایک بنیادی سوال ہے: کیا حکومت عوام کے لیے ہے یا عوام حکومت کے لیے؟ اگر ریاست کا مقصد شہری کو سہولت دینا ہے تو پھر انتظامی اکائی کا حجم، اس کی آبادی، جغرافیہ، مواصلاتی فاصلے اور معاشی ضروریات سب اہم ہو جاتے ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک نے وقت کے ساتھ اپنی انتظامی اکائیوں کو اسی اصول پر ازسرنو ترتیب دیا۔ پاکستان بھی 1947ءکے بعد کئی مرتبہ اپنے انتظامی نقشے میں تبدیلی کر چکا ہے۔ 1955ءمیں ون یونٹ بنا، 1970ءمیں اسے ختم کیا گیا، نئے صوبائی انتظامات وجود میں آئے اور آج بھی گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور سابق قبائلی اضلاع سمیت ملک کا انتظامی ڈھانچہ مسلسل ارتقا کے مرحلے میں ہے۔ لہٰذا نئے صوبوں کا مطالبہ کوئی ناقابلِ فہم یا غیر معمولی تصور نہیں۔ اصل سوال نیت، معیار اور طریقہ کار کا ہے۔ 
صدرآئی پی پی عبدالعلیم خان اسی لیے انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں کی بات کرتے ہیں نہ کہ لسانی یا نسلی بنیادوں پر۔ یہ معمولی نہیں بلکہ نہایت بنیادی فرق ہے کہ لسانی تقسیم نفرت کو جنم دے سکتی ہے مگر انتظامی تقسیم اگر آئینی، جمہوری اور عوامی مشاورت سے ہو تو وہ ریاستی کارکردگی کو بہتر بنانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ ہزارہ اس بحث کی ایک اہم مثال ہے۔ ہزارہ کی جغرافیائی، تاریخی اور انتظامی شناخت اپنی جگہ موجود ہے اور اگر وہاں کے عوام یہ سمجھتے ہیں کہ ایک الگ صوبائی انتظام انہیں بہتر نمائندگی، تیز تر ترقی، م¶ثر انتظامیہ اور اپنے وسائل پر زیادہ توجہ دے سکتا ہے تو اس مطالبے کو محض سیاسی نعرہ کہہ کر مسترد کر دینا مسئلے کا حل نہیں۔ اسی طرح جنوبی پنجاب کا معاملہ ہے۔ پنجاب آبادی، رقبے اور معاشی حجم کے اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ کہ پنجاب کی بڑی آبادی اور وسیع معاشی سرگرمیاں پاکستان کی طاقت ہیں مگر یہی وسعت انتظامی چیلنج بھی بن چکی ہے۔ جنوبی پنجاب کے لیے الگ انتظامی اکائی کا مطالبہ اسی احساسِ محرومی سے جڑا ہوا ہے کہ وسائل، اختیار اور فیصلہ سازی کا مرکز اگر بہت دور ہو تو شہری اور حکومت کے درمیان فاصلہ بڑھتا جاتا ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ فرد اور ریاست کے فاصلے کو جنم دیتا ہے۔ عبدالعلیم خان کا جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبے کی حمایت کرنا اسی وسیع تر انتظامی فلسفے کا حصہ ہے۔ ان کے نزدیک سوال یہ نہیں کہ نیا صوبہ کس سیاسی جماعت کو فائدہ دے گا بلکہ سوال یہ ہے کہ اس سے عام آدمی کو کیا فائدہ ہو گا؟ یہی منطق سندھ پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ کراچی جیسے میگا سٹی کے مسائل اپنی نوعیت میں پورے صوبے سے مختلف ہیں جبکہ اندرونِ سندھ کے مسائل کی نوعیت بالکل الگ ہے۔ اگر انتظامی ڈھانچہ اتنا بڑا ہو جائے کہ مقامی ضرورتیں صوبائی ترجیحات میں دب جائیں تو پھر انتظامی اصلاحات پر غور کرنا وقت کا تقاضا ہی نہیں اہل سیاست کی ذمہ داری بن جاتا ہے۔
خیبر پختونخوا میں بھی صورتحال اس سے مختلف نہیں۔ پشاور، ہزارہ، جنوبی اضلاع اور دیگر خطوں کی جغرافیائی اور معاشی ضروریات ایک جیسی نہیں جبکہ بلوچستان کا معاملہ تو مزید پیچیدہ ہے جہاں رقبے کی وسعت اور آبادی کے درمیان غیر معمولی تناسب انتظامی رسائی کو ایک بنیادی مسئلہ بنا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عبدالعلیم خان کا یہ کہنا خاص اہمیت رکھتا ہے کہ چاروں صوبوں کو چار چار انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اس تجویز سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر اس کے حوالے سے غیر سنجیدہ رویہ ظاہر کرنا کسی بھی صورت پاکستان کے مفاد میں نہیں ہو گا۔ سیاست کا کام صرف موجودہ نقشے کی حفاظت کرنا نہیں بلکہ مستقبل کا نقشہ بنانا بھی ہے۔ ایک قومی کمیشن برائے انتظامی اصلاحات تشکیل دیا جائے، آبادی، رقبے، جغرافیہ، معاشی صلاحیت، انتظامی رسائی، وسائل، پانی، روزگار، انفراسٹرکچر اور عوامی رائے کو معیار بنایا جائے اور پھر پورے ملک کے لیے ایک جامع انتظامی نقشہ تیار کیا جائے۔ یہاں عبدالعلیم خان کی ایک بات خاص طور پر قابلِ غور ہے کہ سیاست دانوں کو نئے صوبوں کی ”اونرشپ“ لینی چاہیے۔ واقعی، اگر سیاست دان ہر مشکل فیصلے کو آنے والی نسل پر چھوڑ دیں گے تو پھر قیادت کا مفہوم ہی کیا رہ جائے گا؟ آنے والی ہر نسل کو زیرو سے کام شروع کرنا پڑے گا اور قومی معاملات میں تاخیر قومو ں کی زندگی میں زہر قاتل ہوتی ہے۔
عبدالعلیم خان نے اسی لیے چودھراہٹ کے مقابلے میں عوام کو کھڑا کیا ہے۔ ”سیاسی چودھراہٹ یا عوامی مسائل“ یہ ایک تخلیقی سیاسی جملہ ہی نہیں بلکہ پورا سیاسی فلسفہ ہے۔ ہمارے ہاں اکثر انتظامی اکائیاں عوام کی سہولت کے لیے نہیں بلکہ سیاسی طاقت کے مراکز کے طور پر دیکھی جاتی ہیں۔ جو سیاست دان بڑے صوبے کو اپنی سیاسی طاقت سمجھتا ہے وہ فطری طور پر اسے چھوٹا کرنے سے گھبرائے گا۔ مگر جو سیاست دان صوبے کو عوام کی خدمت کا انتظامی ذریعہ سمجھتا ہے، وہ تقسیمِ اختیار سے خوف زدہ نہیں ہو گا۔ یہی عبدالعلیم خان کے مقدمے کا مرکزی نکتہ ہے۔ نئے صوبے بنیں یا نہ بنیں، مگر اس بحث کو اب دبایا نہیں جا سکتا کہ دبانے سے چیزیں زیادہ شدت سے ابھر کر سامنے آتی ہیں۔ ہم سب کو سوچنا ہو گا کہ سیاست دانوں کی چودھراہٹ قائم رکھنا ہے یا عام آدمی کی عزت، سہولت اور حقِ حکمرانی کے لیے پاکستان کے انتظامی نقشے پر دوبارہ غور کرنا ہے۔ یہی آئی پی پی کا مقدمہ ہے جسے عبدالعلیم خان نے پاکستانی عوام کے سامنے رکھ دیا ہے۔

مزیدخبریں