قومی اعزاز کسی فرد کے سینے پر سجنے والا محض ایک تمغہ نہیں ہوتا۔ یہ ریاست کی طرف سے کسی شخص کے علم، فن، کردار، خدمت یا کارنامے کی توثیق ہوتا ہے۔ اسی لیے جب کسی کو قومی اعزاز دیا جائے تو سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کسے ملا؟ اصل سوال یہ ہے کہ کیوں ملا؟ اور اس سے بھی اہم سوال یہ کہ کیا واقعی اس کا حق دار یہی شخص تھا؟ ہمارے ہاں ہر سال سول اعزازات کا اعلان ہوتا ہے۔ فہرست سامنے آتی ہے، مبارک بادیں دی جاتی ہیں، تصویریں شائع ہوتی ہیں، مگر ساتھ ہی سوال بھی اٹھتے ہیں کہ فلاں کو کیوں اور فلاں کو کیوں نہیں؟ بعض اوقات یہ تاثر بھی پیدا ہوتا ہے کہ کسی کی سفارش، قربت یا تعلق نے اسے اعزاز تک پہنچایا ہے۔ اگر یہ تاثر مسلسل پیدا ہو تو سوال چند افراد کا نہیں بلکہ پورے نظام کی ساکھ کا بن جاتا ہے۔ ریاست کے پاس اعزاز دینے کا اختیار ضرور ہے، لیکن اعزاز کی عزت دراصل میرٹ سے بنتی ہے۔ اگر کسی شخص کی قابلیت، کردار اور خدمات واضح ہوں تو لوگ اس کے اعزاز پر سوال نہیں اٹھاتے۔ لیکن جب اس سے زیادہ اہل اور مستحق لوگ نظر انداز دکھائی دیں تو تمغہ خوشی کے بجائے سوال بن جاتا ہے۔ یہ کسی ایوارڈ یافتہ شخص کی توہین نہیں بلکہ خود اعزاز کی حرمت کا سوال ہے۔
یہ معاملہ صرف قومی تمغوں تک محدود نہیں۔ ہمارے معاشرے میں القابات بھی اعزاز بن چکے ہیں۔ کبھی علامہ ایک غیر معمولی علمی مرتبے کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ علامہ اقبالؒ کے نام کے ساتھ یہ لفظ محض لقب نہیں بلکہ ان کے علم، فکر، فلسفے اور تخلیقی عظمت کا اظہار تھا۔ آج صورت حال یہ ہے کہ گلی بازار میں ذرا سا پتھر اٹھائیں تو خدشہ ہوتا ہے کہ کسی نہ کسی علامہ کو جا لگے گا۔ سوال یہ نہیں کہ کوئی عالم ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ علامہ جیسے لقب کے پیچھے کوئی معیار بھی باقی ہے یا نہیں۔ علم صرف کتابیں پڑھ لینے کا نام نہیں۔ اس کا اثر انسان کے کردار، گفتگو، معاملات، دیانت، برداشت اور رویے میں بھی دکھائی دینا چاہیے۔ اگر القابات کے لیے کوئی معیار باقی نہ رہے تو عالم، محقق، استاد، علامہ اور لیجنڈ جیسے الفاظ کی معنویت کہاں باقی رہے گی؟ اسی حوالے سے دہلی کی کیکر والی مسجد کے مولوی صاحب کا ایک واقعہ بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ روایت ہے کہ وائسرائے ہند لارڈ کرزن نے دہلی کے علما کا امتحان لینے کے لیے ایک ایسا عربی ناول بھجوایا جس میں نقطے اور اعراب نہیں تھے۔ یہ نسخہ مولانا محمد علی جوہر کے پاس پہنچا، پھر مفتی کفایت اللہ کے پاس گیا۔ مفتی صاحب نے کہا کہ اگر مذہبی کتاب ہوتی تو اعراب لگا دیتا، ناول میرا میدان نہیں۔ پھر یہی نسخہ کیکر والی مسجد کے ایک مولوی صاحب کے پاس پہنچا، جو بچوں کو قرآن، فارسی اور عربی پڑھاتے تھے۔ انہوں نے رات بھر محنت کی اور صبح تک بے نقط و بے اعراب عربی متن پر نقطے اور اعراب درست کر دئیے۔ کہا جاتا ہے کہ لارڈ کرزن نے ان کے لیے شمس العلما کا خطاب تجویز کیا تو انہوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کا جواب تھا کہ اگر علامہ شبلی نعمانی کو بھی یہی خطاب دیا جائے اور ہمیں بھی وہی خطاب مل جائے تو پھر اس خطاب کی معنویت کیا رہ جائے گی؟ یہ جواب صرف ایک عالم کا انکار نہیں تھا بلکہ اعزاز کی حرمت کا شعور تھا۔ وہ جانتے تھے کہ ہر مقام کا اپنا مرتبہ، ہر لقب کا اپنا وزن اور ہر اعزاز کی اپنی قدر ہے۔ آج ہمیں شاید اسی شعور کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
یہی اصول فنونِ لطیفہ پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ کسی فنکار کی عظمت صرف شہرت، مقبولیت یا فلموں کی تعداد سے طے نہیں ہوتی۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس نے اپنے فن کو کیا دیا، اس کے کام نے معاشرے پر کیا اثر ڈالا اور اس نے اپنے شعبے کا معیار بلند کیا یا محض وقتی مقبولیت حاصل کی؟ ناصر ادیب جیسے بڑے اور معروف فلمی ناموں کا جائزہ بھی اسی اصول پر ہونا چاہیے۔ کسی فنکار کی مقبولیت اپنی جگہ، مگر قومی سطح کے اعزاز کا معیار صرف مقبولیت نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ایک فنکار نے چار سو فلموں کے سفر میں اپنے فن کی ایک روایت قائم کی ہے اور دوسرا اپنی مخصوص شہرت کے باوجود نسبتاً کم کام کے ساتھ زیادہ نمایاں ہو جاتا ہے تو سوال ضرور اٹھے گا کہ ہماری نظر میں اصل پیمانہ کیا ہے؟ سرکاری ملازمین کے معاملے میں بھی یہی اصول ہونا چاہیے۔ کسٹمز جیسے محکموں میں ایسے افسران گزرے ہیں جنہوں نے ریاستی خزانے، محصولات اور انسدادِ سمگلنگ کے لیے کام کیا اور کر رہے ہیں، کے نام میں نام تلاش ہی کرتا رہ گیا۔ سوال کسی ایک شخص کو ایوارڈ دینے یا نہ دینے کا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہم ان لوگوں کو بھی تلاش کرتے ہیں جو خاموشی سے ریاست کی خدمت کرتے رہے؟ کیا ہم اس افسر کو بھی دیکھتے ہیں جو اپنی دیانت کی وجہ سے دولت مند نہیں ہوا، مگر سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کے سامنے سمجھوتہ نہیں کیا؟
ریاستی اعزاز کا اصل مقصد ان لوگوں کو سامنے لانا ہونا چاہیے جن کی خدمات معاشرے کے لیے مثال ہیں۔ ایسے لوگ بھی جنہیں شہرت کی ضرورت نہیں، جنہوں نے سفارش کے دروازے نہیں کھٹکھٹائے اور جنہوں نے اپنی خدمت کو اپنا تعارف بنائے رکھا۔ ہمیں ایوارڈ پانے والوں کو مبارک باد دینی چاہیے، لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی پوچھنا چاہیے کہ کیا فہرست میں میرٹ کی پوری نمائندگی ہوئی ہے؟ کیونکہ ایوارڈ کسی شخص کو عظیم نہیں بناتا۔ عظیم شخص اپنے کردار، فن اور خدمت سے ایوارڈ کی عزت بڑھاتا ہے۔ تاریخ کی عدالت عجیب عدالت ہے۔ یہاں سفارش کی فائل نہیں چلتی، تعلقات کا پرچہ نہیں کھلتا اور کسی طاقتور شخصیت کی سفارش کام نہیں آتی۔ یہاں صرف کام، کردار اور اثر باقی رہتا ہے۔ کبھی کسی کے سینے پر تمغہ ہوتا ہے اور تاریخ اسے بھول جاتی ہے، کبھی کسی کے سینے پر کوئی تمغہ نہیں ہوتا مگر تاریخ اسے اپنے دل میں محفوظ کر لیتی ہے۔ اس لیے مسئلہ یہ نہیں کہ اعزازات دئیے جائیں یا نہ دئیے جائیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اعزاز کا معیار اتنا بلند ہو کہ اس پر سوال اٹھانا مشکل ہو جائے۔ القابات کی بھی یہی بات ہے۔ علامہ ہو، استاد ہو، محقق ہو یا لیجنڈ ہر لفظ کے پیچھے کوئی وزن ہونا چاہیے، ورنہ الفاظ تو بڑھتے جائیں گے مگر ان کی قدر گھٹتی جائے گی۔ ہمیں اعزازات کم نہیں کرنے، ان کا معیار بلند کرنا ہے۔ کیونکہ تمغے دھات سے بنتے ہیں، مگر اعزاز اعتماد سے بنتا ہے۔ اور آخر میں ایک بات جو شاید اس پورے معاملے کا خلاصہ ہے: ریاستیں اعزاز دے سکتی ہیں، حکومتیں خطاب دے سکتی ہیں، مگر مقام تاریخ دیتی ہے۔
اعزاز، القاب اور میرٹ
09:40 AM, 18 Aug, 2026