میرے ایک دوست چند روز قبل پٹرول پمپ پر گاڑی میں پٹرول ڈلوا رہے تھے۔ اٹینڈنٹ نے پوچھا سر! کتنے کا؟ انہوں نے حسبِ عادت جواب دیا، فل کر دو۔ میٹر چلنا شروع ہوا۔ ایک ہزار، دو ہزار، پانچ ہزار اور پھر دس ہزار روپے۔ دوست میٹر دیکھتے رہے اور آخر میں مسکرا کر بولے، پٹرول گاڑی میں جا رہا ہے یا ڈالر جہاز میں بیٹھ کر دبئی جا رہے ہیں؟ یہ جملہ مذاق میں کہا گیا تھا، مگر اس کے پیچھے پاکستان کی معیشت کا ایک سنجیدہ سوال چھپا ہے۔ ہم ہر سال اربوں ڈالر خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات درآمد کرنے پر خرچ کرتے ہیں۔ اس درآمدی بوجھ میں تیار شدہ پٹرول اور ڈیزل بھی شامل ہیں۔ دوسری طرف ہمارے اپنے ملک میں پارکو، اٹک ریفائنری، نیشنل ریفائنری، پاکستان ریفائنری اور سینرجیکو جیسے بڑے ریفائننگ ادارے موجود ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے: اگر ہمارے پاس ریفائنریاں موجود ہیں تو ہم تیار شدہ پٹرول اور ڈیزل باہر سے کیوں خرید رہے ہیں؟ اس سوال کا جواب ایک ایسے تکنیکی مسئلے میں پوشیدہ ہے جس کا نام مشکل، مگر کہانی انتہائی سادہ ہے۔ اسے ہائیڈرو سکیمنگ کہتے ہیں۔
پاکستان کی بیشتر پرانی ریفائنریاں ایسی ٹیکنالوجی پر قائم ہیں جس میں خام تیل کو ریفائن کرنے کے بعد صرف پٹرول اور ڈیزل نہیں نکلتا بلکہ مختلف مصنوعات کے ساتھ خاصی مقدار میں بھاری فرنس آئل بھی پیدا ہوتا ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان کے بجلی گھر لاکھوں ٹن فرنس آئل جلاتے تھے۔ ریفائنریاں خام تیل پروسیس کرتی تھیں، پٹرول اور ڈیزل مارکیٹ میں فروخت ہوتا تھا اور فرنس آئل پاور پلانٹس خرید لیتے تھے۔ پھر پاکستان کا انرجی مکس بدل گیا۔ گیس، ایل این جی، کوئلہ، پن بجلی، ایٹمی توانائی اور اب شمسی توانائی کا استعمال بڑھتا گیا۔ فرنس آئل سے بجلی پیدا کرنا مہنگا پڑتا تھا، لہٰذا اس کی طلب تیزی سے کم ہوئی لیکن ہماری پرانی ریفائنریوں کی ٹیکنالوجی نہیں بدلی۔ نتیجہ کیا نکلا؟ فرنس آئل کی مانگ کم ہے، لہٰذا سٹوریج ٹینک بھرنے لگتے ہیں۔ ٹینک بھر جائیں تو ریفائنری خام تیل کی پروسیسنگ کم کرتی ہے۔ پروسیسنگ کم ہوتی ہے تو پٹرول اور ڈیزل کی مقامی پیداوار بھی کم ہو جاتی ہے۔ پاکستانیوں کی گاڑیاں تو چلنی ہیں، ٹرکوں نے سامان پہنچانا ہے، ٹریکٹروں نے کھیت جوتنے ہیں اور صنعتوں کے جنریٹر بھی چلنے ہیں۔ چنانچہ حکومت اور آئل مارکیٹنگ کمپنیاں کمی پوری کرنے کے لیے تیار شدہ پٹرول اور ڈیزل درآمد کرتی ہیں۔
ہماری توانائی کی معیشت کا عجیب ترین تضاد ہے: مقامی ریفائنری پوری رفتار سے نہیں چل سکتی اور ہم وہی مصنوعات ڈالر دے کر باہر سے خریدتے ہیں۔ اس تضاد کا اثر ریفائنریوں کے مالی نتائج میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ پانچ سالہ تقابلی اعداد دیکھیں تو کئی بڑی ریفائنریوں کی سیلز روپے میں بڑھی ہیں۔ پاکستان ریفائنری کی سیلز تقریباً 28 فیصد، اٹک ریفائنری کی 19 فیصد، نیشنل ریفائنری کی 17 فیصد اور سینرجیکو کی تقریباً 16 فیصد بڑھی۔ عام آدمی کہے گا، سیلز بڑھیں تو منافع بھی بڑھا ہو گا۔ کہانی الٹ ہے۔ اسی عرصے میں نیشنل ریفائنری کے منافع میں تقریباً 60 فیصد، پاکستان ریفائنری میں 47 فیصد اور سینرجیکو میں تقریباً 23 فیصد کمی دیکھی گئی۔ اٹک ریفائنری ایک اہم استثنا رہی، جہاں منافع میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کی ایک وجہ مقامی خام تیل کے ذرائع سے قربت اور نسبتاً کم لاجسٹک لاگت بھی سمجھی جاتی ہے۔ یہ اعداد ہمیں بتاتے ہیں کہ مہنگا پٹرول لازماً صحت مند ریفائنری انڈسٹری کی علامت نہیں۔ تو حل کیا ہے؟ حل یہ نہیں کہ ہم فرنس آئل کے ٹینک مزید بڑے بنا دیں۔ حل یہ ہے کہ ایسی ٹیکنالوجی لگائیں جو اس بھاری اور کم طلب والی پیداوار کو بھی زیادہ قیمتی مصنوعات میں تبدیل کر دے۔ یہی ڈیپ کنورژن ٹیکنالوجی ہے۔ اسی مقصد کے لیے براو¿ن فیلڈ ریفائنری پالیسی کے تحت مقامی ریفائنریاں مجموعی طور پر تقریباً چھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے اپنے پلانٹس جدید بنانے کی تیاری کر رہی ہیں۔ یہ اپ گریڈیشن مکمل ہو جائے تو بھاری فرنس آئل کی پیداوار نمایاں طور پر کم کر کے اس کے بڑے حصے کو پٹرول اور ڈیزل جیسی زیادہ طلب والی مصنوعات میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ مقامی موٹر فیول پیداوار بڑھے گی، درآمدی تیار شدہ مصنوعات پر انحصار کم ہو گا اور جدید یونٹس کم سلفر والا بہتر معیار کا ایندھن بنانے میں بھی مدد دیں گے۔ یہاں چھ ارب ڈالر کو صرف خرچہ سمجھنا غلط ہو گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس سرمایہ کاری سے اگلے دس، پندرہ یا بیس برس میں کتنے ارب ڈالر کی درآمدات کم ہو سکتی ہیں؟
پاکستان کی معیشت کا سب سے بڑا مسئلہ ڈالر کی مسلسل ضرورت ہے۔ ہم تیل بھی ڈالر میں خریدتے ہیں، گیس بھی، مشینری بھی، صنعتی خام مال بھی اور بہت سی ضروری اشیا بھی۔ جب درآمدی بل بڑھتا ہے تو ڈالر کی طلب بڑھتی ہے۔ ڈالر مہنگا ہوتا ہے تو روپیہ کمزور ہوتا ہے اور روپیہ کمزور ہو تو پٹرول سے لے کر دوائی تک ہر درآمد مہنگی ہو جاتی ہے۔ یوں پٹرول صرف گاڑی کا ایندھن نہیں رہتا، یہ پوری معیشت میں مہنگائی منتقل کرنے والی شریان بن جاتا ہے۔ اس لیے ریفائنری اپ گریڈیشن کا معاملہ پانچ کمپنیوں کے منافع کا مسئلہ نہیں۔ یہ پاکستان کی انرجی سکیورٹی، زرمبادلہ، روپے اور صنعتی مسابقت کا معاملہ ہے۔ یہاں ریاست کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ چھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کوئی کمپنی چھ ماہ یا ایک سال کے لیے نہیں کرتی۔ ایسے منصوبوں کی زندگی کئی دہائیوں پر محیط ہوتی ہے۔ سرمایہ کار کو ٹیکس پالیسی، ڈیوٹی سٹرکچر اور ریفائنری پالیسی میں تسلسل چاہیے۔ اگر آج مراعات کا اعلان ہو، کل ٹیکس لگا دیا جائے اور پرسوں پالیسی کی نئی تشریح آ جائے تو اربوں ڈالر کے منصوبے فائلوں سے آگے نہیں بڑھتے۔ ہمیں ایک اور سوال بھی پوچھنا چاہیے۔ ہماری پوری قومی بحث روزانہ صرف اس نکتے پر کیوں آ کر رک جاتی ہے کہ پٹرول دو روپے مہنگا ہو گا یا پانچ روپے سستا؟ اصل سوال تو یہ ہونا چاہیے کہ 2035 میں پاکستان اپنی ضرورت کا کتنا پٹرول اور ڈیزل خود تیار کرے گا؟ ہم قیمت کا علاج کرتے رہتے ہیں، بیماری کی جڑ پر توجہ نہیں دیتے۔
پٹرول پمپ پر کھڑا پاکستانی صرف مہنگا پٹرول نہیں خرید رہا۔ وہ عالمی تیل کی قیمت، روپے کی کمزوری، درآمدی انحصار، پرانی ریفائنری ٹیکنالوجی اور کئی دہائیوں کی پالیسی تاخیر کی قیمت بھی ادا کر رہا ہے۔ شاید یہی ہماری معاشی کہانی کا سب سے تکلیف دہ پہلو ہے۔ ہمارے پاس ریفائنریاں بھی ہیں، مارکیٹ بھی، خام تیل صاف کرنے کی صلاحیت بھی اور چھ ارب ڈالر کی اپ گریڈیشن کا منصوبہ بھی، بس مستقل پالیسی اور بروقت فیصلے درکار ہیں۔ ورنہ ہم روزانہ پٹرول کی نئی قیمت کا نوٹیفکیشن پڑھتے رہیں گے، پمپ پر میٹر تیزی سے گھومتا رہے گا اور ہمارے قیمتی ڈالر سمندر پار ریفائنریوں کی طرف جاتے رہیں گے۔ قومیں صرف پٹرول درآمد کرنے سے غریب نہیں ہوتیں، وہ اپنی پیداواری صلاحیت کو جدید نہ بنانے کی قیمت ادا کرتے کرتے غریب ہوتی ہیں۔
پٹرول بھی اپنا، ڈالر بھی؟
09:38 AM, 18 Aug, 2026