ایک ایوارڈ مجھے بھی ضرور دیا جائے

09:35 AM, 18 Aug, 2026

مجھے ایوارڈ وغیرہ کا کوئی شوق نہیں اور نہ ہی میں خود کو کسی ایوارڈ کے قابل سمجھتا ہوں لیکن لوگوں کو قومی ایوارڈ ملتے دیکھ کر خیال آتا ہے کہ کاش مجھے بھی کوئی ایوارڈ مل جاتا کیونکہ جنہیں یہ ایوارڈ ملے ہیں وہ تو میرے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ میں ان میں سے بیشتر لوگوں کو ایوارڈ کا مستحق نہیں سمجھتا جنہیں حکومت ایوارڈ کے لیے نامزد کرتی ہے جبکہ بہت سے ایسے لوگوں کو ایوارڈ کا اہل سمجھتا ہوں جنہیں آج تک کوئی ایوارڈ نہیں مل سکا۔ اس لیے میں ایوارڈ ملنے پر مبارکباد بھی صرف انہی لوگوں کو دیتا ہوں جنہیں میں پسند کرتا ہوں۔ باقی سب میری نظر میں ”نوازے“ جاتے ہیں۔
آپ یقینا چاہیں گے کہ میں بھی اپنا تعارف کراوں تو عرض ہے کہ میں ایک ”دانش گرد“ ہوں۔ نام کی مماثلت سے مجھے دہشت گرد نہ سمجھا جائے کیونکہ دانش گرد اور دہشت گرد میں بہت فرق ہے۔ دہشت گرد تو تباہی پھیلاتا، انسانی جانیں لیتا اور معاشرے میں خوف و ہراس پیدا کرتا ہے جبکہ دانش گرد ایسا کچھ نہیں کرتا، وہ تو بے ضرر سا کردار ہوتا ہے جو ”قہر درویش برجان درویش“ کے مصداق دوسروں کا غصہ بھی خود پر اتارتا رہتا ہے جیسے میں نے اپنے کالم کے پہلے جملے میں یہ کہہ کر اتارا کہ مجھے ایوارڈ وغیرہ کا کوئی شوق نہیں حالانکہ میں کم از کم کسی ایک ایوارڈ کے لیے شدت سے ترس رہا ہوں، چاہے وہ سب سے چھوٹا ایوارڈ ہی کیوں نہ ہو۔
آپ دانش گرد کو کوچہ گرد یا آوارہ گرد کے قریب قریب کی کوئی چیز بھی سمجھ سکتے ہیں۔ یہاں میں ایک چیز واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کئی لوگ مجھے دانش مند یا دانش ور بھی سمجھتے ہیں جبکہ کچھ دانش گر کہتے ہیں۔ مجھے ان میں سے کسی پر بھی اعتراض نہیں کیونکہ میرے خیال میں دانش گرد ہونے کے ساتھ ساتھ مجھ میں یہ تینوں صفات بھی موجود ہیں لیکن یہ سب ہم معنی نہیں ہیں بلکہ ان میں تھوڑا تھوڑا فرق موجود ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ کسی شخص میں یہ چاروں خوبیاں بیک وقت موجود ہوں۔ کسی میں صرف ایک خوبی بھی ہو سکتی ہے اور کسی میں ایک سے زیادہ بھی اور کسی میں میری طرح چاروں کی چاروں بھی ہو سکتی ہیں۔
آپ یقینا حیران ہو رہے ہوں گے کہ آخر ان چاروں میں ایسا کیا فرق ہے تو سنیے۔ ”دانش مند“ اس شخص کو کہا جاتا ہے جس نے دانش کے حصول کے لیے کوئی باقاعدہ کوشش نہ کی ہو بلکہ اسے یہ صفت یا تو قدرت کی طرف سے عطا ہوئی ہو یا پھر داناو¿ں کی قربت میں رہ رہ کر وہ اس مقام تک پہنچ گیا ہو۔ دانشمند کا تعلق دانائی سے ہوتا ہے جسے انگریزی میں ”وزڈم“ کہا جاتا ہے اور اسی نسبت سے دانشمند کو ”وائز“ کہا جاتا ہے۔
”دانش ور“ دانشمند سے بالکل مختلف چیز ہے۔ دانشور اس شخص کو کہتے ہیں جو پیدائشی طور پر تو شاید کچھ زیادہ دانش کا حامل نہیں ہوتا اور نہ ہی اسے دانشمندوں کی صحبت میں رہنے کا اتنا موقع ملتا ہے تاہم وہ دانش کے حصول کے لیے باقاعدہ محنت، مشقت اور ریاضت ضرور کرتا ہے بلکہ وقت اور پیسہ بھی خرچ کرتا ہے۔ دانشوری کا تعلق دانائی سے کم جبکہ علم اور تعلیم سے زیادہ ہے۔ اسی لیے دانش وری کو انگریزی میں ”انٹلیکٹ“ کہتے ہیں اور دانشور کو ”انٹلیکچوئل“ کہا جاتا ہے۔
جہاں تک ”دانش گر“ کا تعلق ہے تو یہ ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو دانش تخلیق کرتا ہو۔ اسے آپ کوزہ گر، صورت گر یا زرگر قسم کی کوئی چیز سمجھ لیں۔ دانش گر کوئی عام سی چیز نہیں بلکہ بہت نایاب شے ہوتی ہے جو وطن عزیز کے سوا دنیا کے کسی اور خطے میں نہیں پائی جاتی۔ اس لیے اس کا انگریزی یا کسی اور زبان میں بھی کوئی متبادل موجود نہیں تاہم اگر آپ چاہتے ہیں کہ وائز اور انٹلیکچوئل کی طرح اس کا بھی کوئی انگریزی متبادل تلاش کیا جائے تو وقتی طور پر ہم دانش گر کو ”انٹلیکٹوگرافر“ کہہ سکتے ہیں۔
دانش گرد البتہ اوپر بیان کیے گئے تینوں زمروں سے مختلف چیز ہے۔ وہ یوں کہ باقی تینوں اقسام کے لیے ضروری نہیں کہ وہ اپنی صلاحیت کا اعلان بھی کریں لیکن کوئی شخص اس وقت تک دانش گرد ہو ہی نہیں سکتا جب تک کہ وہ اپنی دانش گردی کا باقاعدہ اظہار نہ کرے۔ چلتے، پھرتے، اٹھتے، بیٹھتے اس پر لازم ہے کہ وہ ہر جگہ اپنی دانش عام لوگوں میں تقسیم کرے، ”شعور“ بانٹے، خاص طور پر سوشل میڈیا کا بے محابا استعمال کرے، زندگی کے ہر معاملے پر اپنی ماہرانہ رائے پیش کرے اور اس بات کی ذرہ برابر پروا نہ کرے کہ اس کی رائے میں کچھ وزن بھی ہے یا نہیں اور آیا اس رائے کے عوام الناس پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ دانش گرد کے لیے بھی انگریزی لغت میں کوئی لفظ موجود نہیں۔ البتہ اس کے لیے بھی کوئی انگریزی لفظ ”گھڑا“ جا سکتا ہے لیکن یہ کام میں آپ پر چھوڑتا ہوں کیونکہ میں تو خود دانش گرد ہوں اور آدمی اپنے منہ میاں مٹھو بنتا تو اچھا نہیں لگتا ناں۔
خیر بات ہو رہی تھی ایوارڈز کی اور میں پہلی سطر میں واضح کر چکا ہوں کہ مجھے ایوارڈز وغیرہ کا کوئی شوق نہیں لیکن پھر بھی میں سمجھتا ہوں کہ جہاں اتنے لوگوں کو اعزازات سے نوازا جاتا ہے اور اس بار بھی چودہ اگست پر ساڑھے تین سو سے کچھ اوپر لوگوں کے لیے مختلف چھوٹے بڑے ایوارڈز کا اعلان کیا گیا ہے تو سرکار مجھے بھی کسی چھوٹے موٹے ایوارڈ سے نواز کر میرا منہ بند کر دے۔ یقین کیجیے کہ اگر مجھے کوئی ایوارڈ مل گیا تو پھر مجھے کسی اور کو ایوارڈ دیئے جانے پر کوئی ملال نہ ہو گا۔
اور ہاں یاد آیا، آئندہ جب بھی حکومت ایوارڈ کے مستحق لوگوں کی فہرست مرتب کرے تو میری رائے ضرور اس میں شامل کر لیا کرے کیونکہ میں حکومت کے مقابلے میں بہت زیادہ سیانا ہوں اور خوب جانتا ہوں کہ کون ایوارڈ کا مستحق ہے اور کون نہیں۔ بلکہ بہتر یہ ہو گا کہ ایوارڈز کے مستحق افراد کی ایک فہرست حکومت خود مرتب کرے اور ایک فہرست مجھ سے تیار کرا لیا کرے۔ پھر ان دونوں فہرستوں کا موازنہ کیا کرے اور دونوں فہرستوں میں جو لوگ مشترک ہوں صرف انہیں ایوارڈ دیا جائے، اس طرح ایوارڈز کی تقسیم میں منظور نظر لوگوں کو نوازے جانے کا تاثر زائل ہو جایا کرے گا۔
سردست میں نے جو ترتیب بنائی ہے، ان میں سرفہرست میرا نام ہے، اس لیے اس بار حکومت نے جو فہرست بنائی ہے، اس میں میرا نام بھی شامل کرے اور جب ایوارڈ تقسیم کرنے کا موقع آئے تو ایک ایوارڈ مجھے بھی ضرور دیا جائے۔

مزیدخبریں