اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ حکومت ایسے تمام منصوبوں کی سرپرستی کرے گی جو زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مالیاتی نظام کا حصہ بنانے اور پاکستان میں نقد رقم کے بجائے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے رجحان کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوں۔
اسلام آباد میں جے ایس بینک کے تحت زیڈ والٹ کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے زونگ، زِنڈیجی اور جے ایس بینک کے باہمی اشتراک کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی مدد سے شہریوں کے لیے مالی خدمات تک رسائی پہلے سے زیادہ آسان بنائی جا سکتی ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق ٹیلی کمیونیکیشن، انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل بینکاری کو ایک دوسرے سے جوڑنے والے منصوبے عام صارفین کے لیے مالی معاملات کو سہل بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ شہری ایسے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے مالی سہولیات حاصل کرسکیں گے جنہیں وہ پہلے ہی روزمرہ زندگی میں استعمال کرتے ہیں۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ حکومت ٹیکنالوجی، موبائل سروسز، آن لائن بینکاری اور مالیاتی شمولیت سے متعلق اقدامات کی بھرپور حمایت جاری رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل سہولیات کا دائرہ وسیع ہونے سے زیادہ افراد کو باقاعدہ مالیاتی نظام تک رسائی حاصل ہوگی۔
اس موقع پر وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے ملک میں ڈیجیٹل معیشت کو وسعت دینے کے لیے حکومتی حکمت عملی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کو عام کرنے کے ساتھ ساتھ نئی ٹیکنالوجی اور جدت کو فروغ دینا بھی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ مختلف شعبوں میں ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کے لیے مقرر کیے گئے اہداف پر پیش رفت جاری ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ شہریوں کو سرکاری اداروں کو رقم جمع کرانے کے لیے ہر اہم سروس میں کم از کم ایک ڈیجیٹل ادائیگی کا ذریعہ ضرور دستیاب ہو۔
انہوں نے کہا کہ ٹول ٹیکس، گاڑیوں کے لائسنس اور سرکاری بلوں سمیت مختلف ادائیگیوں کے لیے ڈیجیٹل ذرائع فراہم کرنے پر کام کیا جا رہا ہے، تاکہ شہریوں کو نقد رقم ساتھ رکھنے یا روایتی طریقوں پر انحصار کی ضرورت کم سے کم پڑے۔
حکام کے مطابق ڈیجیٹل مالیاتی سہولیات کے فروغ سے نہ صرف شہریوں کے لیے ادائیگیوں کا عمل تیز اور آسان ہوگا بلکہ مالیاتی نظام میں شفافیت، رسائی اور سہولت کو بھی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔