پاکستان میں نئے صوبوں کی بحث نئی نہیں ہے۔ ہر چند برس کے بعد یہ معاملہ زیر بحث آجاتا ہے۔ آج کل ایک مرتبہ پھر قومی سیاست میں نئے صوبوں پر بات ہو رہی ہے۔ اس موقف کے حامی اور مخالفین اپنا اپنا نکتہ نظر پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس مرتبہ اس بحث کا آغاز وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ایک تقریر نما گفتگو سے ہوا ہے۔ محسن نقوی نے جو گفتگو کی اس کا لب لباب یہ ہے کہ موجودہ نظام تباہ برباد ہوچکا ہے اور نئے صوبے ناگزیر ہیں۔ اس قصے کو کئی ہفتے گزر چکے ہیں تاہم نئے صوبوں کی بحث زو ر و شور سے جاری ہے۔ میڈیا سمیت مختلف علمی اور سیاسی پلیٹ فارموں پر یہ سوال زیر بحث ہے ۔ عام تاثر ہے کہ یہ بحث ہماری مقتدرہ کی ایما پر شروع ہوئی ہے۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہہ لیجئے کہ ہماری مقتدرہ نئے صوبوں کی حامی یا خواہشمند ہے۔ اس تناظر میں کچھ صحافی اور تجزیہ کاریہ دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ نئے صوبے بننا اب نوشتہ دیوار ہے۔سیاسی جماعتیں چاہیں یا نہ چاہیں نئے صوبے بن کر رہیں گے۔
زرداری صاحب کے پرانے الفاظ مستعار لیے جائیں تو صوبوں کی تقسیم یا تشکیل ، کوئی قرآن و حدیث والا معاملہ نہیں ہے۔ آئین پاکستان میں نئے صوبے بنانے کا طریقہ کار درج ہے۔آئین کے آرٹیکل 239 کے مطابق کسی صوبے کی حدود تبدیل کرنا مقصود ہو تو آئینی ترمیم کرنا ہو گی۔ اس ضمن میں پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے دوتہائی اکثریت کے ساتھ ساتھ متعلقہ صوبائی اسمبلی کے کم سے کم دو تہائی اراکین کی منظوری بھی لازم ہے۔ یعنی نیا صوبہ بنانے کیلئے سیاسی اور قومی اتفاق رائے لازمی امر ہے۔ اصولی طور پر نئے صوبے بنانے یا نہ بنانے کا معاملہ کسی فرد، سیاسی جماعت یا کسی گروہ کی ذاتی پسند نا پسند سے بالاتر ہو کر دیکھنا چاہیے۔ نئے صوبے بنانے کا مقصد کسی جماعت کو کمزور کرنا ہے۔ اپنے پسندیدہ افراد یا خاندانوں کو مضبوط بنانا یا انہیں نوازنا ہے۔ کسی کے شوق یا ضد کو پورا کرنا ہے تو بہتر ہے کہ نظام کو جوں کا توں رہنے دیں۔ مطمع نظر اگر گورننس کے کی اصلاح احوال اور عوام کے معیار زندگی میں بہتری لانا ہے ، تو نئے صوبوں یا انتظامی یونٹوں پر بات ہوسکتی ہے۔
اس قضیے میں تفہیم کا پہلو یہ ہے کہ نئے صوبے نقشے پر لکیریں کھینچنے کا نام نہیں ہے۔ اس کی اصل روح اقتدار اور اختیارات کی منصفانہ تقسیم ہے۔ اس کا مطلب سیاسی نمائندگی اور شناخت ہے۔ اس کا مطلب متعلقہ انتظامی حصے میں بسنے والے عوام کی سہولت کا اہتمام اور مسائل کا حل ہے۔ اس تناظر میں سوال یہ ہے کہ کیا نئے صوبے بنانے سے یہ سارے اہداف حاصل ہو جائیں گے؟ اس سوال کا جواب ہاں میں ہے تو ہم سب کو نئے صوبوں کی تشکیل کی حمایت کرنی چاہیے۔ پاکستان کی آبادی کم و بیش 24 کروڑ ہے۔ پنجاب کی تقریبا 13 کروڑ ، جبکہ سندھ کی 6 کروڑ ہے۔ یہ بات ہم اکثر سنتے ہیں کہ صرف پنجاب کی آبادی کئی ممالک سے زیادہ ہے۔ اس صورتحال میں خاص طور پر سندھ اور پنجاب کے بارے میں یہ سوال کیا جاتا ہے کہ کیا ایک ہی صوبائی دارلحکومت کی موجودگی میں تمام شہروں اور علاقوں کے مسائل کی موثر طور پر نگرانی اور ان کا حل کیا جا سکتا ہے۔ ؟ماہرین کا کہنا ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹوں میں نگرانی اور فیصلہ سازی کرنا نسبتا آسان ہوتا ہے۔ حکمران یا منتظم عوام کے مسائل پر پوری طرح نگاہ رکھ سکتے ہیں۔
تاہم اس بحث کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ کیا واقعتا کم آبادی والا یونٹ ہی مسائل کا حل ہے؟ صوبہ بلوچستان کی مثال لیجئے۔ اس کی آبادی تقریبا ڈیڑھ کروڑ ہے۔ تو کیا اس کے شہریوں کے تمام مسائل حل ہو گئے ہیں؟ خیبر بختونخواہ کی آبادی بھی 4 کروڑ ہے تو پھر آبادی کے لحاظ سے اس کے شہریوں کے مسائل بھی پنجاب یا سندھ کی نسبت کم ہونے چاہییں۔ تاہم ایسا نہیں ہے۔ در حقیقت عوام کے مسائل کا حل اس بات میں پوشیدہ ہے کہ اہل اقتدار گورننس بہتر بنائیں۔ وسائل کا استعمال اس عمدگی سے کریں کہ سرکاری وسائل اور فنڈز اللوں تللوں کے بجائے ، عوام الناس کی فلاح و بہبود پر خرچ ہوں۔کیا گارنٹی ہے کہ نئے صوبوں میں ایسا ہی ہو گا۔ اس بات کو کون یقینی بنائے گا کہ نئے صوبے بننے کے بعد چند سیاسی خاندان، بیوروکریسی کا ایک مخصوص طبقہ، ہی اختیارات کا مالک نہیں بن بیٹھے گا؟
2010 میں اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد وفاقی حکومت کے اختیارات صوبوں کو منتقل کئے گئے تھے۔ ساتویں این۔ ایف۔ سی ایوارڈ کے ذریعے صوبوں کو قابل تقسیم محاصل میں سے حصہ دیا گیا تھا۔ لیکن آج تک ہم یہ بحث کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ صوبوں کو اختیارات اور وسائل ملنے کے باوجود عوام کی حالت زار میں مطلوبہ تبدیلی نہیں آسکی۔چند ماہ پہلے عالمی بینک نے ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اٹھارویں ترمیم کے بعد بھی منتقل ہونے والے وسائل کا بڑا حصہ عوام تک موثر انداز میں منتقل نہیں ہو سکا۔ صوبائی اخراجات کے بارے میں بھی کہا گیا کہ ان کا بڑا حصہ جاری اخراجات پر خرچ ہوا۔ مقامی حکومتوں کے بجٹ میں بھی اضافہ ہونے کے بجائے بتدریج کمی واقع ہوئی ہے۔ کہنے کا مطلب یہ کہ اگر صوبوں کو اختیارات دینے سے عوام کی حالت میں بہتری نہیں آئی تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ نئے صوبے بنانے سے انکے مسائل حل ہو جائیں گے۔
ہمارے ہاں اصل مسئلہ وسائل اور اختیارات کی تقسیم کا ہے۔ مثال کے طور پر آئین کا آرٹیکل 140-A کے مطابق ہر صوبے کیلئے لازمی امر ہے کہ یہ مقامی حکومتوں کا نظام قائم کرئے۔ سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات مقامی نمائندوں کو منتقل کرئے۔ تاکہ عوامی مسائل گلی محلے کی سطح پر حل ہو سکیں۔ ہمارے ہاں ہر کوئی اختیارات چاہتا ہے۔ لیکن انہیں نچلی سطح پر تقسیم نہیں کرنا چاہتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری کم و بیش تمام سیاسی جماعتیں اور حکومتیں لوکل باڈیز کے انتخابات سے گریزاں رہتی ہیں۔
اس بحث کا ایک پہلو مالیاتی بھی ہے۔ نئے صوبے بنانے کا مطلب ہے کہ مزید کئی وزرائے اعلیٰ۔ کئی گورنر،بیسیوں نئے وزیر، کئی چیف سیکرٹری اور وزارتوں کے سیکرٹری، کئی نئی اسمبلیاں، ایوان وزیر اعلیٰ، عدالتیں، پولیس اور دیگر محکمے۔ وغیرہ وغیرہ۔ یہ سارے اخراجات کون پورے کرئے گا۔ پھر ہم یہاں بیٹھے تنقید کریں گے کہ سیاست دانوں اور بیوروکریٹس کے اللے تللے ختم نہیں ہو رہے۔ اس وقت ہم معاشی طور پر نازک صورتحال سے دوچار ہیں۔پاکستان قرضوں میں جھکڑا ہوا ہے۔ ایسے میں نئے صوبوں کے نئے حکمرانوں اور افسر شاہی کے اخراجات کا بھاری بھرکم بوجھ کون اٹھائے گا؟۔ یہاں صورتحال یہ ہے کہ جن سرکاری کالجوں یا جامعات کے کیمپسوں کو جامعات کا درجہ دے دیا گیا تھا۔ وہ اور دیگر سرکاری جامعات مالی بحران کا شکار ہیں۔ اس کے باوجود آئے رو کوئی نہ کوئی اطلاع آتی ہے کہ جامعہ کے سربراہ یا افسران اپنی ذاتی آسائشوں پر بھاری بھرکم اخراجات کر تے ہیں جبکہ اساتذہ اور ملاز مین کو دینے کیلئے جامعہ کے پاس فنڈز نہیں ہوتے۔ یہ محض چند سرکاری جامعات کی کہانی ہے۔ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ آپ صوبے بنا دیں تو منظر اس سے مختلف ہو گا؟
بہتر ہے کہ آپ انتظامی یونٹس بنائیں۔ اپنی کارکردگی اور گورننس کو بہتر بنائیں۔ حکومتیں اور حکمران اپنے خرچے کنٹرول کریں۔ مقامی حکومتوں کا نظام موثر بنائیں اور عوا م کے مسائل حل کریں۔جب عوام کے بنیادی مسائل حل ہو جائیں تب نئی نئی بحثیں شروع کی جا سکتی ہیں۔ فی الحال ہم کسی نئے تجربے اور بحث کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
کیا نئے صوبے عوامی مسائل کا حل ہیں؟
10:49 AM, 17 Aug, 2026