کورکمانڈر بلوچستان کا دورہ پنجگور اور جشن آزادی کی خوشیاں 

09:00 AM, 17 Aug, 2026

گذشتہ دنوں کورکمانڈر بلوچستان نے پنجگور کا خصوصی دورہ کیا، جہاں انہوں نے بلوچستان سپیشل ڈویلپمنٹ انشیٹو (BSDI) کے تحت قائم کیے گئے جناح آئی ٹی ہب، یونیورسٹی آف مکران میں ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) پرواز فاؤنڈیشن کے زیرانتظام قائم کیے گئے سرسید احمد خان لاؤنج اور تزئین و آرائش کے بعد فعال ہونے والے علامہ اقبال آڈیٹوریم کا افتتاح کیا۔جناح آئی ٹی ہب کے قیام کا مقصد پنجگور کے نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل تعلیم، پیشہ ورانہ مہارتوں اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرکے بااختیار بنانا ہے۔ اس آئی ٹی ہب میں 50 جدید کمپیوٹرز پر مشتمل آئی ٹی ہال، ڈیجیٹل لائبریری اور فری لانسرز ہب قائم کیے گئے ہیں، جبکہ تیز رفتار انٹرنیٹ کے ساتھ ای کامرس اور فری لانسنگ کی سہولیات بھی فراہم کی گئی ہیں۔ بجلی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے ہیوی سولر سسٹم بیک اپ بھی موجود ہے، تاکہ نوجوان جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی تعلیمی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو مزید نکھار سکیں۔مزید برآں کورکمانڈر نے یونیورسٹی آف مکران میں ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) پرواز فاؤنڈیشن کے زیرانتظام قائم کیے گئے سرسید احمد خان لاؤنج کا بھی افتتاح کیا۔ اس لاؤنج میں طلبہ و طالبات کے لیے علیحدہ اور معیاری تفریحی و کیفے ٹیریا کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں، جبکہ ساتھ ہی مسجد بھی تعمیر کی گئی ہے۔ طلبہ کو بہتر اور معیاری ماحول فراہم کرنے کے لیے قائم کیا گیا یہ لاؤنج تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ مثبت اور صحت مند مشاغل کے فروغ میں بھی معاون ثابت ہوگا۔اسی دورے کے دوران یونیورسٹی آف مکران میں 120 نشستوں پر مشتمل علامہ اقبال آڈیٹوریم کا بھی افتتاح کیا گیا۔ آڈیٹوریم کی تزئین و آرائش کے ساتھ جدید فرنیچر اور ساؤنڈ سسٹم بھی فراہم کیا گیا ہے، جس سے یونیورسٹی میں علمی، تعلیمی اور دیگر تقریبات کے انعقاد کے لیے ایک بہتر سہولت میسر آگئی ہے۔اس موقع پر کورکمانڈر بلوچستان نے نوجوانوں کو جدید تعلیم اور ڈیجیٹل اسکلز کے حصول پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بدلتے دور کے تقاضوں کے مطابق جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ رہنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی ایک اجتماعی ذمہ داری ہے، جبکہ سیکیورٹی فورسز کا مقصد علاقے میں پائیدار امن، عوامی خواہشات کے مطابق ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد اور بہتر عوامی خدمات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔مزید یونیورسٹی آف مکران اور ویمن اسکل ڈویلپمنٹ سینٹر پنجگور کے مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ و طالبات میں لیپ ٹاپ بھی تقسیم کیے گئے۔ یہ اقدام محنت اور قابلیت کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ کی حوصلہ افزائی کے ساتھ انہیں جدید تعلیمی وسائل فراہم کرنے کی جانب بھی ایک اہم قدم ہے۔پنجگور میں ان تعلیمی اور ڈیجیٹل سہولیات کے افتتاح کے بعد جنوبی بلوچستان میں 79ویں یوم آزادی کی تقریبات کا ذکر بھی ایک خوبصورت قومی منظر پیش کرتا ہے۔ جنوبی بلوچستان بھر میں یوم آزادی انتہائی عقیدت، جوش و جذبے اور شایان شان انداز میں منایا گیا۔ ہیڈکوارٹر ایف سی بلوچستان (ساؤتھ) تربت اور ڈپٹی کمشنر آفس کیچ میں پرچم کشائی کی پروقار تقریبات منعقد ہوئیں، جبکہ مرکزی تقریب تربت آڈیٹوریم میں ہوئی۔اس تقریب میں سیاست دانوں، علاقائی عمائدین، طلبہ و طالبات اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ طلبہ نے ولولہ انگیز تقاریر، ٹیبلو، ملی نغموں اور آرٹ نمائش کے ذریعے پاکستان سے اپنی محبت کا اظہار کیا۔ ان سرگرمیوں میں نوجوانوں کی شرکت نے جشن آزادی کی تقریبات کو مزید خوبصورت بنا دیا۔ جشن آزادی کی مناسبت سے تربت شہر میں ایک شاندار ریلی بھی نکالی گئی جس میں تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں پاکستان کے پرچم تھام رکھے تھے، جبکہ شہریوں نے اپنی گاڑیوں پر بھی قومی پرچم آویزاں کیے ہوئے تھے۔ ریلی کے شرکاء نے وطن عزیز سے والہانہ محبت کا اظہار کرتے ہوئے اس کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔جنوبی بلوچستان کے دیگر علاقوں، بشمول دشت، خاران، ماشکیل، ہوشاب، پنجگور، بلیدہ، مند، تمپ، دالبندین اور تفتان میں بھی یومِ آزادی کی مناسبت سے رنگا رنگ تقریبات اور ریلیوں کا انعقاد کیا گیا۔ شہریوں نے قومی پرچم ہاتھوں میں تھامے، مختلف پروگراموں میں شرکت کی اور وطن سے محبت کا اظہار کیا۔ مختلف علاقوں میں کرکٹ، فٹ بال اور فٹسال کے مقابلے بھی منعقد ہوئے جن میں نوجوانوں نے بھرپور جوش و خروش سے حصہ لیا۔ کھیل نہ صرف جسمانی صحت کے لیے اہم ہیں بلکہ نوجوانوں میں نظم و ضبط، ٹیم ورک، برداشت اور مثبت مسابقت کا جذبہ بھی پیدا کرتے ہیں۔ قومی دن کے موقع پر کھیلوں کے انعقاد سے یہ امر بھی نمایاں ہوتا ہے کہ نوجوان نسل کو تعمیری اور صحت مند سرگرمیوں سے جوڑنے کی کوششیں کا اہم حصہ ہیں۔جنوبی بلوچستان میں 79ویں یوم آزادی کی تقریبات نے قومی جذبے، یکجہتی اور حب الوطنی کی بھرپور عکاسی کی۔ شہریوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ وطن عزیز کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے اور پاکستان کی تعمیر و ترقی میں ریاستی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے۔پنجگور میں کورکمانڈر بلوچستان کا خصوصی دورہ، جناح آئی ٹی ہب، سرسید احمد خان لاؤنج اور علامہ اقبال آڈیٹوریم کا افتتاح اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ریاست اور اس کے ادارے بلوچستان کے نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہیں۔ یہ اقدامات اسی عزم کا عملی مظہر ہیں۔ دوسری جانب جنوبی بلوچستان بھر میں 14 اگست کی خوشیاں جس شان و شوکت، جوش و جذبے اور والہانہ انداز میں منائی گئیں، وہ اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بلوچستان میں چند ملک دشمن عناصر جو بلوچیت کا لبادہ اوڑھ کر نسلی اور لسانی فساد پھیلا رہے ہیں، ان کے علاوہ بلوچستان کے عوام پاکستان سے والہانہ محبت کرتے ہیں اور پاکستان ہی ان کی پہچان ہے۔بلوچ ایک محب وطن قوم ہے جس نے قیامِ پاکستان کے لیے بھی گراں قدر قربانیاں دیں۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کو بلوچ قوم سے خصوصی محبت تھی، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری ایام بلوچستان کے شہر زیارت میں گزارے۔ بلوچستان پاکستان کی شہ رگ ہے، اس کے ماتھے کا جھومر اور ملک کا روشن مستقبل ہے۔ 

مزیدخبریں