”ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی“

08:50 AM, 17 Aug, 2026

چوپال میں سب براجمان تھے۔ چپ سائیں کی آمد سے قبل سب لوگ ایسے تھے جیسے کسے استاد کی غیر موجودگی میں کلاس میں بچے آپس میں اٹکھیلیاں کر رہے ہوں۔ چپ سائیں لاٹھی ٹیکتے ہوئے آئے۔ سب احتراماً کھڑے ہو گئے۔۔۔ چپ سائیں نے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ اسی اثنا چاچا عبدالرشید دوبچوں کے ساتھ آئے ان کی عمریں لگ بھگ پندرہ، سولہ برس کی تھیں۔ انہوں نے آتے ہی چپ سائیں کو اسلام علیکم کہا!۔۔ چپ سائیں نے بڑی محبت سے ان کے سر پر ہاتھ رکھا۔۔۔ سائیں جی نے پوچھا کہ بھئی عبدالرشید یہ بچے کون ہیں؟۔۔۔ چاچا عبدالرشید بولے۔۔۔ یہ میرے پوتے ہیں، دونوں ہی اچھے سکول میں پڑھے اب اچھے کالج میں جاتے ہیں۔۔۔ ان کے والدین نے ان کی تربیت اور کالج تک پہنچانے میں بہت محنت کی ہے۔۔۔ یہ مجھے دراصل علامہ اقبالؒ کا ایک شعر
نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشت ویراں سے 
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
 سنا رہے اور ساتھ ہی اس کا مطلب پوچھ رہے تھے، میں نے ان کو کہا کہ بچوں آپ کو میں چپ سائیں جی کی چوپال میں لے کر جاتا ہوں اور وہاں پرآپ کواپنے سوال کا جواب مل جائے گا۔
چپ سائیں زیر لب مسکرائے اورکہا کہ۔۔۔بھائی عبدالرشید ان بچوں سمیت چوپال کے اپنے بھائیوں اور دوستوں کو بھی اس کا بتاتا ہوں۔۔۔ چپ سائیں نے کہا کہ۔۔۔ بھائیو اور دوستو!۔۔۔ بھائی عبدالرشید۔۔۔ کے پوتے علامہ اقبالؒ کے شعر کا مطلب جاننا چاہتے ہیں۔۔ اس شعر میں جس میں مایوسی کے بجائے امید اور عمل کا پیغام دیا گیا ہے۔ علامہ اقبالؒ کے شعر میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ بنجر اور ویران سرزمین سے بھی نااُمید نہیں۔ اگر اس مٹی میں تھوڑی سی نمی پیدا ہو جائے تو یہی زمین بہت زرخیز ثابت ہو سکتی ہے۔ یہاں ”کشتِ ویراں“ قوم یا معاشرے کی موجودہ پسماندگی کی علامت ہے، جبکہ نم ہونا امید، محنت اور بیداری کی طرف اشارہ ہے۔ علامہ اقبال ؒکا یہ شعر محض چند خوب صورت الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک پوری قوم کے لیے امید، عمل اور بیداری کا منشور ہے۔ دوستو! یہ شعر ایسے وقت میں بھی ہماری رہنمائی کرتا ہے جب حالات مایوسی پیدا کریں، معاشرہ بے یقینی کا شکار ہو، نوجوان اپنے مستقبل کے بارے میں سوالات اٹھائیں اور جب ہمیں بظاہر یوں محسوس ہو کہ ہماری اجتماعی زمین بنجر ہو چکی ہے۔ علامہ اقبالؒ اس کیفیت میں بھی نااُمیدی کو قبول نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک مسئلہ مٹی کی زرخیزی کا نہیں، اسے نم کرنے والے جذبے، محنت اور بیداری کا ہے۔
میرے بچوں۔۔ چپ سائیں نے بھائی عبدالرشید کے پوتوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ۔۔۔ اگر ایک طالب علم یہ یقین رکھتا ہے کہ وہ اپنی محنت سے اپنی زندگی بدل سکتا ہے، اگر ایک استاد یہ یقین رکھتا ہے کہ وہ ایک بچے کی سوچ بدل سکتا ہے، اگر والدین اپنے بچوں کو بہتر انسان بنانے کا عزم رکھتے ہیں اور اگر نوجوان یہ فیصلہ کرتا ہے کہ وہ حالات کا شکوہ کرنے کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو بہتر کرے گا، تو یہی امید معاشرے کی تبدیلی کا آغاز بن جاتی ہے۔ ہم اکثر کامیاب لوگوں کو دیکھ کر ان کی کامیابی سے متاثر ہوتے ہیں، مگر اس کامیابی کے پیچھے چھپی ہوئی جدوجہد کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہمیں منزل دکھائی دیتی ہے، راستے کی گرد نہیں۔بھائیوں۔۔۔ایک مضبوط معاشرہ وہ نہیں جہاں ہر شخص کامیابی کی خواہش رکھتا ہو، مضبوط معاشرہ وہ ہے جہاں لوگ کامیابی کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہوں۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ صرف امید کافی نہیں۔ خواب اگر محنت سے نہ جڑیں تو محض خواہش بن کر رہ جاتے ہیں۔ انسان اپنی تقدیر کا شکوہ کرنے کے بجائے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے۔محنت کا مطلب صرف جسمانی مشقت نہیں، سوچنا، سیکھنا، سوال کرنا، خود کو ہر روز بہتر بنانا بھی محنت ہے۔بھائیوں۔۔۔ہم اکثر معاشرے کی خرابیوں کی ذمہ داری دوسروں پر ڈال دیتے ہیں لیکن اصل سوال یہ بھی ہے کہ ہم خود کیا کر رہے ہیں؟۔قومیں اس وقت بدلتی ہیں جب تبدیلی کا مطالبہ صرف دوسروں سے نہیں بلکہ اپنے آپ سے بھی کیا جائے لہذا ہم سب کو اس بارے میں انفرادی طور پر سوچنا ہوگا اورآگے بڑھنا ہوگا۔نوجوان ذہن اگر علم، کردار، ہنر اور مقصد سے آراستہ ہوں تو مشکل حالات بھی ترقی کی راہ میں مستقل رکاوٹ نہیں بن سکتے۔ بھائیو اور چوپال کے دوستو ہمیں خود سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ کیا ہم اپنی آنے والی نسلوں کو صرف شکایت کا ورثہ دیں گے؟۔اگر ہر نسل اپنی مشکلات کو اگلی نسل کے لیے جواز بنا دے تو تبدیلی کبھی نہیں آئے گی اور صرف شکوے اور شکایات ہی بچیں گی نتیجہ کچھ نہیں نکلے گا۔ہمیں اپنی مشکلات سے انکار نہیں کرنابلکہ ان کا مقابلہ کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔ امید کا مطلب مسائل کو چھپانا نہیں، بلکہ مسائل کو دیکھ کر یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم ان کے حل کا حصہ بنیں گے۔
بھائی عبدالرشید ہماری نئی نسل کاذہن زرخیز مٹی کی طرح ہے جو بہت کچھ کرنا چاہتی ہے بس ضرورت اس امر کی ہے کہ مٹی کو نرم کیاجائے، اس میں بیج ڈالا جائے، اس پر خوب محنت کی جائے اور فصل کے پکنے کا انتظار کیا جائے۔ قوموں کی زندگی میں بعض اوقات بہت بڑی تبدیلیاں کسی بڑے انقلاب سے نہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی اصلاحات سے آتی ہیں۔اگرہر شخص اگر اپنی جگہ درست کردار ادا کرے تو اجتماعی منظرنامہ بدل سکتا ہے۔ صاحبو! میں اگر علامہ قبالؒ کے شعر کے معنی پر دوبارہ بات کروں تو سب سے بڑا پیغام شاید یہی ہے کہ مایوسی کو اپنی آخری منزل نہ بناؤ۔اگر حالات خراب ہیں تو انہیں بہتر بنانے کی کوشش کرو اور اگرمنزل دور ہے تو سفر جاری رکھو اور تھک کر نہ بیٹھو۔۔بھائیو! یہ نمی صرف وسائل اور دولت کی نہیں بلکہ امید، علم، محنت، کردار، اخلاق، احساسِ ذمہ داری کی ہے۔نتھو پھتو، چوپال کے بچوں جب انسان یہ سمجھ لے کہ حالات کبھی نہیں بدل سکتے تو وہ کوشش کرنا چھوڑ دیتا ہے لیکن امید کا ایک اخلاقی پہلویہ ہے کہ حقیقی امید وہ ہے جو انسان کو مثبت عمل کی طرف لے جائے لیکن یہ سوچ لینا کہ ایک دن سب ٹھیک ہو جائے گا کافی نہیں ہے، محنت، عمل اور امید سے حالات بدلنا ہی ہوں گے۔ بھائیو! میں اپنی بات کا اختتام ان الفاظ پر کروں گاکہ ہم اپنے بچوں کے لیے اچھی تعلیم، اچھی ملازمت، کامیاب مستقبل کے خواہاں ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم ان کے لیے اچھا کردار بھی چاہتے ہیں؟۔۔۔ یہ بہت اہم سوال ہے۔ صرف یہ سکھانا کافی نہیں کہ ”کامیاب کیسے ہونا ہے؟“ انہیں یہ بھی بتانا ہوگا کہ کامیاب ہو کر انسان کیسے رہنا ہے؟۔۔۔ دوستو! امید ہمیں مایوسی سے بچاتی ہے اور محنت ہمیں منزل کا راستہ دکھانے کے ساتھ ساتھ منزل پر پہنچاتی بھی ہے۔۔ میرے بچوں۔۔ مٹی تو آج بھی بہت زرخیز ہے۔۔ بس ضرورت اس میں اپنا حصہ ڈالنے کی ہے۔۔۔ رہے نام اللہ کا!۔

مزیدخبریں