لاہور: وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ پاکستان پر دباؤ ڈالا گیا تھا کہ بھارتی طیارے گرائے جانے کے بعد بھارت کے خلاف مزید کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ آرمی چیف نے سعودی وفد کو بتایا کہ بھارت ایک چمکتی ہوئی مرسڈیز کی مانند ہے جبکہ پاکستان ایک بھرا ہوا ڈمپر ٹرک، اور جب دونوں کی ٹکر ہوتی ہے تو نقصان زیادہ کس کا ہوگا، یہ بات خود سمجھ لیں۔ اس پر وفد خاموش رہا۔
لاہور میں سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگ کے دوران ہماری انٹیلی جنس اداروں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، بھارت کی ہر سازش سے ہمیں بروقت آگاہی مل جاتی تھی۔
محسن نقوی نے کہا کہ بھارت کے مار گرائے گئے طیاروں کے شواہد چند لمحوں میں ہمارے ہاتھ آ گئے اور مارے گئے چھ بھارتی طیاروں کی ویڈیوز بھی ہمارے پاس موجود ہیں۔ بھارتی فوج کی ہر نقل و حرکت سے ہمیں قبل از وقت اطلاع مل جاتی تھی اور بھارت کے فائر کیے گئے تمام میزائل ہمارے اڈوں پر نہیں گرے۔
وزیر داخلہ نے پس پردہ کام کرنے والے ہیروز کی تعریف کی جنہوں نے جنگ کے دوران بہترین خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ریڈار پر دیکھ چکے تھے کہ بھارتی طیارے مار گرائے گئے ہیں مگر ثبوت مکمل ہونے تک اعلان نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی کئی اہم جگہیں ہمارے نشانے پر تھیں اور انہیں آسانی سے نشانہ بنایا جا سکتا تھا، تاہم پہلے بھارت کو اپنے نقصان کو قبول کرنا ہوگا۔ محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ اجیت دوول اور امت شاہ اس پورے معاملے کے پیچھے تھے اور بھارتی حکومت کو وہی چلا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں متحد تھیں اور ایک دوسرے کی حمایت کر رہی تھیں۔ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہا ہے اور جب تک کشمیریوں کو ان کا حق نہیں ملتا، چین مذاکرات کی میز پر نہیں آئے گا۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ بھارت کے خلاف کامیابی کا مکمل کریڈٹ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کو جاتا ہے اور جنگ میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی قیادت مثالی رہی۔