کیلیفورنیا:ٹک ٹاک نے اپنے پلیٹ فارم پر مواد کی نگرانی کے لیے انسانی ماڈریٹرز کو ہٹانے اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) ماڈریٹرز کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں کمپنی کے جرمنی میں کام کرنے والے ملازمین نے ہڑتالیں شروع کر دی ہیں۔
کمپنی کے مطابق، جرمنی میں ٹک ٹاک کی ٹرسٹ اینڈ سیفٹی ٹیم کو اے آئی سسٹم سے بدل دیا جائے گا، جس سے تقریباً 150 ملازمین کی برطرفی کا سامنا ہوگا۔ یہ ماڈریٹرز پلیٹ فارم پر ویڈیوز کی نگرانی کرتے ہیں تاکہ غیر مناسب مواد جیسے کہ تشدد، فحاشی اور نفرت انگیز تقاریر کو روکا جا سکے۔
ٹک ٹاک کے جرمنی میں کام کرنے والے ملازمین کی نمائندگی کرنے والی ٹریڈ یونین نے کمپنی کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کی، تاہم کمپنی نے فوری طور پر ملازمین کے مطالبات کو مسترد کر دیا۔ اس فیصلے کے بعد ملازمین نے برلن میں ہڑتال شروع کر دی، جس سے کمپنی کی مقامی سروسز متاثر ہو رہی ہیں۔یہ اقدام ٹک ٹاک کی عالمی پالیسی کا حصہ ہے، جس میں دنیا بھر میں اس نے اپنی ٹرسٹ اینڈ سیفٹی ٹیموں کو کم کرکے اے آئی ماڈریشن سسٹم کو ترجیح دی ہے۔ نیدرلینڈز اور ملائیشیا میں بھی حالیہ برسوں میں اسی نوعیت کی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ فروری 2025 میں بھی کمپنی نے ایشیا اور یورپ میں اپنی اہم ٹرسٹ اینڈ سیفٹی ٹیموں کو کم کر دیا تھا۔
دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی طرح، ٹک ٹاک بھی اے آئی کی طرف بڑھ رہا ہے۔
ٹک ٹاک کی طرح، دیگر سوشل میڈیا کمپنیاں جیسے کہ فیس بک، انسٹاگرام اور ایکس (سابقہ ٹوئٹر) نے بھی اپنی ٹرسٹ اینڈ سیفٹی ٹیموں میں کمی کی ہے اور مواد کی مانیٹرنگ کے لیے زیادہ تر اے آئی سسٹمز کا استعمال شروع کر دیا ہے