واشنگٹن میں خالصتان ریفرنڈم: سرینڈر مودی کی ایک اور شکست۔۔ !

09:02 AM, 17 Aug, 2025

 دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا لبادہ تار تار ہونے لگا۔آخر کار سکھ برادری کی جیت ہو گئی۔ عالمی سطح پر تحریک کے بعد مودی سرکار کا پردہ چاک ہو گیا۔جی ہاں۔۔ سترہ اگست کو سکھوں کا بڑا مظاہرہ بھی ہوگا اور اس کے ساتھ خالصان تحریک کو پھر سے دنیا دیکھے گی۔ واشنگٹن ڈی سی میں 17 اگست کو امریکہ میں مقیم سکھ برادری بڑی تعداد میں شرکت کرے گی۔سترہ اگست کو خالصتان تحریک کےلئے امریکی حکام نے سکھوں کے جمہوری حقوق کا دفاع کرتے ہوے سکھوں کو ریفرنڈم کی اجازت دے دی ہے جسے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جارہا ہے۔ 
امریکی عدالت نے بھارتی ایجنٹ نکھل گپتا اور افسر کو خالصتان رہنما گرپت ونت پنوں کے قتل کی سازش پر ملک بدر کر دیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خالصتان موومنٹ کے رہنما گرپت ونت پنوں کو بزریعہ خط سیکوریٹی کی گارنٹی دی۔ کینیڈا، امریکہ اور آسٹریلیا نے بھارتی خفیہ نیٹ ورکس کو بے نقاب کرتے ہوئے سکھ کارکنوں کی حفاظت کو یقینی بنایا۔ خالصتان ریفرنڈم کا سلسلہ پوری دنیا میں جاری ہے۔ 2021ءسے اب تک8 ممالک میں کامیابی سے منعقد ہو چکا ہے بھارتی پروپیگنڈے کے برعکس بین الاقوامی قوانین کے مطابق سکھ برادری کی پرامن جدوجہد جاری ہے۔ آسٹریلوی انٹیلی جنس ایجنسی نے بھی بھارتی جاسوسی نیٹ ورک کو بے نقاب کرکے سکھ برادری کو تحفظ فراہم کیا۔ بھارتی دباو¿ اور پروپیگنڈے کے باوجود مغربی ممالک کی عدالتوں نے بار بار بھارتی حوالگی کی درخواستوں کو مسترد کیا۔ خالصتان ریفرنڈمز کو اب تک کسی بھی اقوام متحدہ رکن ملک نے غیر قانونی قرار نہیں دیا۔ 
اگست 17 ، 2025ءکو”سکھ فار جسٹس کے زیر اہتمام واشنگٹن ڈی سی میں خالصتان ریفرنڈم کے اگلا مرحلہ منعقد ہو گا۔ دنیا بھر میں سکھ برادری بھارتی تسلط سے آزادی کیلئے پرامن طریقے سے ریفرنڈم کر رہی ہے، جبکہ بھارت اس تحریک کو روکنے کے لیے سرحد پار جبر، قتل، جاسوسی اور جھوٹا پروپیگنڈا سب استعمال کر رہا ہے۔ عدالتوں سے لے کر پارلیمانوں تک، عالمی ردِعمل نے بھارت کے غیر جمہوری ہتھکنڈوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ہزاروں سکھ 17 اگست کو واشنگٹن ڈی سی میں خالصتان ریفرنڈم میں حصہ لیں گے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کی جانب سے سکھ برادری کو خاموش کرانے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ گولی کے مقابلے میں بیلٹ ہی سکھوں کا جواب ہے۔ 
جون 2023ءمیں کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے اعلان کیا کہ ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارت کے ملوث ہونے کے ”قابل اعتبار شواہد“ موجود ہیں۔ اس اعلان کے بعد بھارت اور کینیڈا کے درمیان سفارتی تعلقات سخت متاثر ہوئے۔ کینیڈا میں سکھ سفارتخانے کا قیام، تحریکِ آزادی کو نئی توانائی، عالمی حمایت اور سفارتی محاذ پر مضبوط کامیابی فراہم کرے گا۔ خالصتان کے سرگرم کارکن اوتار سنگھ کھنڈا کی برطانیہ میں نجر کے قتل کے دنوں میں ہی مشکوک حالات میں موت واقع ہوئی۔ سکھ رہنماﺅں نےتشویش ظاہر کی یہ بھی بھارتی خفیہ کارروائیوں کا شاخسانہ تھا۔ امریکی حکام نے بھارتی ایجنٹ نکھل گپتا اور RAW افسر وکاس یادو کو خالصتان رہنما گ±رپتَوَنت سنگھ پَنّوں کے قتل کی ناکام سازش پر چارج شیٹ کیا۔ یہ واقعہ بھارت کے عالمی سطح پر سکھ رہنماو¿ں کو نشانہ بنانے کے منظم منصوبے کو بے نقاب کرتا ہے۔
گوگل، یوٹیوب، اور ایکس جیسے پلیٹ فارمز نے بھارت کے دباو¿ کے باوجود خالصتان ریفرنڈم کے مواد پر پابندی لگانے سے انکار کر دیا۔ سکھ ان پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی جبر کو دنیا کے سامنے لا رہے ہیں۔آسٹریلیا، امریکہ اور کینیڈا نے بھارتی خفیہ نیٹ ورکس کو بے نقاب کیا جو خالصتان حامی کارکنوں کی ریکی، دھمکیوں اور سازشوں میں ملوث تھے۔ یہ بھارتی اقدامات ان ممالک کی خودمختاری اور شہری آزادیوں کی خلاف ورزی تھے۔ بھارت نے گ±رپتَوَنت سنگھ پَنّوں جیسے رہنماو¿ں کی حوالگی کے لیے کئی بار کوشش کی، مگر مغربی عدالتوں نے ان درخواستوں کو سیاسی قرار دے کر مسترد کر دیا۔ اس سے بھارت کی بین الاقوامی ساکھ مزید متاثر ہوئی۔
2021ءسے اب تک خالصتان ریفرنڈمز برطانیہ، کینیڈا، اٹلی، آسٹریلیا، امریکہ، سوئٹزرلینڈ اور نیوزی لینڈ میں ہو چکے ہیں۔ یہ تمام پرامن اقدامات اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور ICCPR کے آرٹیکل 1 کے تحت قانونی تحفظ میں آتے ہیں ۔ آرٹیکل 1 کے مطابق، ہر قوم کو خود ارادیت کا حق حاصل ہے۔ دنیا بھر میں بسنے والے سکھوں کا کہنا ہے کہ ان کا ریفرنڈم پرامن ہے اور اسے دہشت گردی کہنا بھارت کا جھوٹا بیانیہ ہے۔
11۔ اگرچہ بھارت خالصتان تحریک کو ”انتہا پسند“ قرار دیتا ہے، مگر اقوامِ متحدہ کے کسی بھی رکن ملک نے ان ریفرنڈمز کو غیر قانونی قرار نہیں دیا۔ بیشتر جمہوری ممالک نے انہیں سیاسی آزادی کی ایک جائز شکل مانا ہے۔ آسٹریلیا کی انٹیلی جنس نے بھارتی خفیہ آپریشن بے نقاب کیا جس میں دفاعی معلومات چرائی جا رہی تھیں اور سکھوں کی ریکی بھی جاری تھی۔ بھارتی انکار کے باوجود آسٹریلین انٹیلی جنس نے ٹھوس شواہد سامنے رکھ کر بھارت کی دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی قلعی عالمی سطح پر کھول دی۔ 
اب خالصتان تحریک دنیا بھر میں مقیم کروڑوں سکھوں کی قیادت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ ان کا مو¿قف واضح ہے: ہم گولی نہیں، بیلٹ سے اپنا حق مانگتے ہیں۔ 17 اگست کو واشنگٹن میں ہونے والا ریفرنڈم اس جدوجہد کا ایک اور تاریخی سنگ میل ثابت ہوگا۔ بھارت کا سکھوں پر جبر برطانوی نوآبادیاتی ہتھکنڈوں کی عکاسی کرتا ہے، جو اقلیتوں پر سامراجی کنٹرول کو برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔ خالصتان کا مطالبہ سکھوں کی نوآبادیاتی ظلم کے خلاف جائز مزاحمت ہے۔ بھارت کا منظم طریقے سے اختلافِ رائے کو دبانا اور خالصتان کے کارکنان کو دہشت گرد قرار دینا بڑھتے ہوئے فسطائیت کے رجحان کو ظاہر کرتا ہے، جو جمہوری حقوق کو سلب کر کے ماضی کی آمرانہ حکومتوں کی یاد دلاتا ہے۔ سکھ تحریک کو دبانے کی بھارتی پالیسی اسے عالمی سطح پر تنہا کر رہی ہے، کیونکہ جمہوری ممالک خالصتان ریفرنڈم کی حمایت میں اضافہ کر رہے ہیں، جو سکھوں کی آزادی کی تحریک کی حقانیت کو مزید تقویت دیتا ہے۔

مزیدخبریں