یوں تو ہر انسان انمول ہے، ایک داستان اور کہانی ہے مگر معاشرت میں انمٹ نقوش چھوڑنے والے انسان یاد رکھے جاتے ہیں۔ وقت ایک ایسا نہیں رہتا اور ہر 10 سال بعد زمانہ نئی روش اختیار کرتا ہے۔ حالیہ ایران امریکہ اسرائیل جنگ میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر شاہ کا کردار ہمیشہ یاد رہے گا۔ امریکہ کے وزیر جنگ کا کوئی بیان یا پاسداران انقلاب ایران کے رہنما کا کوئی بیان اگر دنیا کو حیرت میں مبتلا نہیں کرتا تو وطن عزیز کے افواج پاکستان کے ساتھ سربراہ موجودہ فیلڈ مارشل کا کوئی بیان جمہوریت کے لیے کوئی طعنہ نہیں ہونا چاہیے۔ دنیا کی تمام ریاستیں اپنے اپنے انداز میں چلتی ہیں۔ ڈکٹیٹر شپ چاہے دنیا کے کسی بھی ملک میں ہو اس کی حمایت نہیں کی جا سکتی۔ فیلڈ مارشل نے وطن عزیز کے بہت سے قرض اتارے ہیں، امریکہ میں کھڑے ہو کر یہ کہنا کہ اگر ہم گئے تو پھر آدھی دنیا چلی جائے گی (شاید پوری دنیا کا اس لیے نہیں کہا کہ دوست ممالک کی تعداد بہت زیادہ ہے) بھارت کا قرض ساڑھے چار گھنٹے میں اتار دیا ایسا کہ بین الاقوامی سطح پر پاتالوں میں اتار دیا گیا۔ افغانستان میں ٹھکانے بنائے ہوئے دہشت گردوں کے قرض بھی اتارے، اندرون اور بیرون ممالک پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والوں کو بھی بھگتایا اور بنیادوں میں اتار دیا۔
حالیہ ایران امریکہ اسرائیل جنگ میں نیتن یاہو شیطانی قوتوں کا نمائندہ بن کر سامنے آیا ہے۔ حضرت بلالؓ بن رباح کی دعا تھی اللہ کرے کہ ”کبھی ظالم اپنے آپ کو مظلوم کے بدن میں محسوس کرے“۔ نتن یاہو وہ ظالم ہے جس کا کوئی مذہب نہیں کیونکہ وہ انسانیت کے برعکس ہے۔ ٹرمپ کے ملک کے ادارے اور لوگ اس پر شدید تنقید کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، اس کا مطلب
ہے کہ امریکی معاشرت ٹرمپ سے مختلف ہے۔ وطن عزیز کو ایران امریکہ اسرائیل جنگ میں کردار ملا نہیں بلکہ کردار ادا کیا ہے۔ عموماً لوگ طعنہ دیتے تھے کہ موجودہ دنیا میں وطن عزیز کی کنٹریبیوشن ہی کیا ہے؟ آج دنیا نے دیکھ لیا پاکستان کی ریاست نے کنٹریبیوٹ کیا اور دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی ہولناکی سے بچایا۔ وزیراعظم پاکستان کے سفارتی کردار کو پوری دنیا نے سراہا۔ فیلڈ مارشل کا کردار تو تاریخ میں سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔
13 اپریل کو میں نے ویلاگ کیا تھا، جس میں بتا دیا تھا کہ امن معاہدہ دور نہیں۔ ٹرمپ چائنہ کا دورہ جنگ ختم کر کے کرنا چاہتے ہیں تاکہ یہ تاثر نہ جائے کہ وہ جنگ میں کوئی مدد مانگنے آیا ہے اور چائنہ کی تدبیر تھی کہ جنگ کے دوران ہی آئے تاکہ دنیا کو یہ پیغام جائے کہ جنگ کی بات کرنے آیا ہے۔ صدر ٹرمپ کو اداروں نے سمجھایا اور پھر آبنائے ہرمُز کی ناکہ بندی کی وجہ سے چائنہ اور دیگر دنیا کی مشکلات میں اضافہ ایران کی حکمت عملی میں تبدیلی کا سبب بننا لازمی تھا۔ اس وقت جب جنگ کے عروج پر، ظلم کے عروج پر فیلڈ مارشل ایران کی سرزمین پر اُترے تو اس وقت امریکہ اسرائیل اور دیگر دنیا جس میں مودی شرارتی اور دہشت گرد بھی شامل ہیں کہ کوئی حرکت نہ کرنا فیلڈ مارشل ایران میں موجود ہے۔ فیلڈ مارشل کی موجودگی کی وجہ سے ایرانی پاسداران انقلاب کے صوبائی سربراہ بینکروں میں بیٹھے اور اپنی اپنی پوزیشن جس میں وہ ایک دوسرے سے بات بھی نہیں کر سکتے تھے، پاسداران اور سیاسی قیادت کو باہمی مشاورت کا موقع ملا جس وجہ سے فیلڈ مارشل کا دورہ تھوڑا طویل ہو گیا۔ فیلڈ مارشل نے ایران کے کہنے پر ہی امریکی صدر سے لبنان اسرائیل جنگ بندی کرائی۔ ایران امریکہ معاہدہ کی تمام شقوں کو فیصلہ کن موڑ پر لے آئے جو آئندہ دنوں میں معاہدہ کی صورت میں دنیا کے سامنے ہو گا۔ دوسری جانب امریکی صدر نے کہا کہ وہ 10 جنگیں بند کرا چکا، گیارہویں بند کرانے جا رہا ہے۔ مجھے ایک سردار کا واقعہ یاد آ گیا۔ ”ایک سردار صاحب بالکنی میں بیٹھ کر میں نوشی کر رہے تھے، بالکنی سڑک کی طرف 10/12 فٹ اونچی تھی۔ سردار صاحب نے چار چھ پیگ لگا لیے، اپنی ترنگ میں کھڑے ہو گئے اور انگڑائی لی جس کے سبب چکرا کر بالکنی سے نیچے سڑک پر آ گرے۔ لوگ ارد گرد اکٹھے ہو گئے، کیا ہوا سردار جی، کیا ہوا سردار جی، کیہ ہویا سردار جی۔ سردار نے بڑے اطمینان سے اِدھر اُدھر اور سب کی طرف دیکھا، بڑی سادگی سے کہنے لگے، ”پتہ نئیں، میں تے آپ ہُن ای آیا واں“ (پتہ نہیں، میں خود ابھی ابھی آیا ہوں)۔ یہی حالت ٹرمپ کی ہے دس جنگیں بند کرا چکے! کوئی بتائے کہ ٹرمپ صاحب وہ جنگیں چھیڑی ہی آپ نے تھیں۔ یہ جنگیں شروع کرا کے ان میں شریک ہو کر جب انگڑائی کھا کر گرتے ہیں تو کہتے ہیں میں خود ابھی ابھی آیا ہوں۔ شیطانی قوتوں کا نمائندہ نیتن کبھی باز نہیں آئے گا۔ ایران امریکہ معاہدہ ہو کر رہے گا۔ دنیا میں اس وقت سب سے اہم انسان فیلڈ مارشل آف پاکستان ہیں، اللہ تعالیٰ دنیا کے تمام انسانوں کو جنگ کی ہولناکیوں سے بچائے۔ کارل مارکس نے کہا تھا ”ریاست کا کوئی وجود نہیں ہوتا، یہ صرف طاقتور لوگوں کے جتھے کا نام ہے جو اپنے مفادات کے لیے یکجا ہوتے ہیں۔“
ہنری کسنجر نے کہا تھا ”امریکہ کی دشمنی خطرناک ہو سکتی ہے مگر دوستی سیدھی موت ہے“۔ اس کا اندازہ خلیج کی ریاستوں کو ہو چکا، نیتن یاہو کو ہو جائے گا۔ اللہ اپنی مدد عطا کرے، امریکی دوستی سے بھی بچائے، یہ بھارتی منافقت سے زیادہ خطرناک ہے۔ مجھے خوف آتا ہے جب ٹرمپ ہمارے فیلڈ مارشل اور وزیراعظم کی تعریف کرتا ہے۔ اللہ وطن عزیز کو سلامتی اور عافیت میں رکھے اور دنیا کے اہم ترین انسان فیلڈ مارشل کو بھی۔
دنیا کی اہم ترین شخصیت!
09:07 AM, 18 Apr, 2026