بیانیے کی جنگ اور یروشلم پوسٹ: حقیقت یا تاثر؟

09:06 AM, 18 Apr, 2026


بین الاقوامی صحافت میں رائے کے نام پر پیش کیے جانے والے مضامین اکثر محض تجزیہ نہیں ہوتے بلکہ ایک مخصوص زاویہ نظر کی ترجمانی کرتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں اخبار The Jerusalem Post میں شائع ہونے والا بانی پی ٹی آئی سے متعلق کالم بھی اسی نوعیت کا ایک بیانیہ محسوس ہوتا ہے جس میں حقائق کے بجائے تاثر کو فوقیت دی گئی ہے اور پاکستان کے داخلی و خارجی معاملات کو ایک خاص فریم میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی گرفتاری کو جس انداز میں اس کالم میں پیش کیا گیا وہ نہ صرف یکطرفہ ہے بلکہ اس میں کئی اہم قانونی و آئینی پہلو¶ں کو دانستہ نظر انداز کیا گیا ہے۔ کسی بھی ریاست میں قانون کی بالادستی ایک بنیادی اصول ہے اور اگر کسی سیاسی شخصیت پر مقدمات قائم ہوتے ہیں تو ان کا فیصلہ عدالتوں کے ذریعے ہونا ہی جمہوری روایت ہے۔ اس عمل کو محض ''سیاسی انتقام'' قرار دینا نہ صرف عدالتی نظام پر سوال اٹھانا ہے بلکہ ریاستی خودمختاری کو بھی چیلنج کرنا ہے۔
یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ مذکورہ کالم میں پاکستان تحریک انصاف کے خلاف جاری کارروائیوں کو یکسر جبر سے تعبیر کیا گیا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی غیر قانونی سرگرمی، بدامنی یا ریاستی اداروں پر حملوں کے خلاف کارروائی کرنے کے پابند ہیں۔ اگر کسی سیاسی جماعت کے کارکنان قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کو جمہوریت دشمنی قرار دینا ایک کمزور دلیل ہے۔مزید برآں، کالم میں عالمی شخصیات جیسے ڈونلڈ ٹرمپ، اسحاق لوگ اور Benjamin Netanyahu کا حوالہ دے کر ایک ایسا تقابلی بیانیہ قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو نہ تو زمینی حقائق سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ ہی سفارتی اصولوں سے۔ ہر ملک کا اپنا آئینی اور قانونی نظام ہوتا ہے اور کسی دوسرے ملک کے رہنما¶ں سے اس قسم کی مداخلت کی توقع رکھنا خودمختاری کے اصولوں کے منافی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان اس وقت ایک نہایت حساس اور اہم سفارتی مرحلے سے گزر رہا ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصاً امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ، ایک ایسے ثالث کی متقاضی تھی جو نہ صرف دونوں فریقین کے ساتھ اعتماد کا رشتہ رکھتا ہو بلکہ خطے کی پیچیدہ سیاسی حرکیات کو بھی سمجھتا ہو۔ اس تناظر میں پاکستان کا کردار قابلِ ذکر ہے جہاں قیادت نے دانشمندی اور توازن کے ساتھ مصالحتی کوششوں کو آگے بڑھایا ہے۔خصوصی طور پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی عسکری و سفارتی حکمت عملی کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ یہ وہ پہلو ہے جسے مذکورہ کالم میں مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا گویا مقصد صرف ایک داخلی سیاسی معاملے کو اچھالنا تھا نہ کہ خطے میں امن کے لیے کی جانے والی سنجیدہ کوششوں کو تسلیم کرنا۔
اسی تناظر میں یہ امر بھی بعید از قیاس نہیں کہ ایسے مضامین ایک وسیع تر بیانیہ سازی کا حصہ ہوں، جس کے ذریعے پاکستان کے مثبت عالمی کردار کو کمزور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جب کوئی ملک عالمی سطح پر فعال اور م¶ثر کردار ادا کرنے لگتا ہے تو اس کے خلاف معلوماتی دبا¶ بھی بڑھ جاتا ہے۔ ایسے میں بعض بین الاقوامی میڈیا پلیٹ فارمز غیر متوازن تجزیوں کے ذریعے رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔تاہم یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ پاکستان ایک خودمختار ریاست ہے، اور اس کے داخلی معاملات اس کے آئین اور قانون کے مطابق طے ہوتے ہیں۔ عدالتیں آزاد ہیں اور وہی کسی بھی مقدمے کا حتمی فیصلہ کرنے کی مجاز ہیں۔ کسی بیرونی تجزیہ کار کی رائے نہ تو عدالتی عمل کو متاثر کر سکتی ہے اور نہ ہی ریاستی پالیسیوں کو۔
مزید یہ کہ پاکستان کی حکومت اور ریاستی ادارے اس وقت جس سنجیدگی اور عزم کے ساتھ خطے میں امن کے قیام کے لیے کوشاں ہیں، وہ کسی بھی منفی پروپیگنڈے سے متاثر ہونے والے نہیں۔ چاہے وہ امریکہ-ایران مذاکرات ہوں یا دیگر علاقائی تنازعات، پاکستان نے ہمیشہ ایک ذمہ دار اور متوازن کردار ادا کیا ہے۔ اس ضمن میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یروشلم پوسٹ میں شائع ہونے والا یہ کالم صحافتی توازن سے عاری اور یکطرفہ تاثر پر مبنی ہے۔ اس میں نہ صرف پاکستان کے عدالتی نظام کو مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی بلکہ ایک ایسے وقت میں جب ملک عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے سرگرم ہے اس کے کردار کو بھی پسِ پشت ڈال دیا گیا۔پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ داخلی و خارجی چیلنجز کے باوجود ہمیشہ مضبوطی سے کھڑا رہا ہے۔ آج بھی، جب بیانیوں کی جنگ اپنے عروج پر ہے تو پاکستان نہ صرف اپنے م¶قف پر قائم ہے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ امن، استحکام اور خودمختاری اس کی اولین ترجیحات ہیں۔

مزیدخبریں