وتعز مَن تشا

09:05 AM, 18 Apr, 2026

مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے
وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے
یہ شعر آج کل وطن عزیز کی صورت حال پر پوری طرح صادق آ رہا ہے۔ ہم قران کریم کی ا±س آیت مبارکہ کو اپنی آنکھوں کے سامنے مجسم صورت میں دیکھ رہے ہیں جس کا ترجمہ ہے "جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کرے، تیرے ہی ہاتھ میں خیر ہے، بے شک تو ہی ہر چیز پر قادر ہے"۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان کا برا چاہنے والوں کی سب تدبیریں الٹی ہو رہی ہیں۔ ان کی پاکستان کو نیچا دکھانے کی مذموم کوششوں نے خود انھی کو ذلیل و رسوا کر کے رکھ دیا ہے جبکہ پاکستان پوری دنیا میں سربلند ہوا ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ ہوں کہ ایوان ہائے سیاست، عوامی اجتماعات ہوں کہ خواص کی محفلیں، دوستوں کی سنگتیں ہوں کہ دشمنوں کے اکٹھ ہر جگہ پاکستان کا نام کا ڈنکا بج رہا ہے اور دشمنوں کو تو چین ہی نہیں لینے دے رہا۔
زیادہ پرانی بات نہیں کہ دنیا میں ہر طرف انڈیا انڈیا ہوا کرتی تھی۔ پوری دنیا بھارت سے اس قدر متاثر تھی کہ اسے نہ جانے کیا بلا سمجھنے لگی تھی۔ اس میں ایک تو وہ ممالک تھے جو خود بھارت کو کسی دیوتا کے سنگھاسن پر بٹھانے میں ج±تے ہوئے تھے تاکہ اسے جنوبی ایشیا میں چین اور پاکستان کے سامنے ایک منی سپر پاور کے طور پر کھڑا کیا جائے۔ ان ملکوں میں امریکہ سمیت دنیا کی بڑی طاقتیں شامل تھیں اور دوسرے وہ ملک تھے جو انھی ملکوں کے پھیلائے ہوئے پراپیگنڈے کے زیر اثر بھارت کو واقعی کوئی سپر پاور سمجھنے لگے تھے۔
وہ دن تو سب کو یاد ہوں گے جب بھارت کی ایما پر امریکہ اور برطانیہ جیسے ملک کہا کرتے تھے کہ پاکستان دنیا میں دہشت گردی ایکسپورٹ کر رہا ہے۔ یہ باتیں بہت پرانی نہیں ہیں، پاکستان کے 
بارے میں ماضی قریب میں عالمی طاقتوں کے رہنماوں کے افکار عالیہ کو گوگل پر سرچ کر کے دیکھ لیں، آپ کو ایسے بہت سے بیانات مل جائیں گے۔ ایک یہ وقت ہے کہ وہی بھارت آج اپنے بال نوچ نوچ کر پاگل ہو رہا ہے کہ یہ ہو کیا گیا ہے ساری دنیا کو، پاکستان ہی کے قصیدے پڑھتی چلی جا رہی ہے۔ وہی عالمی رہنما جو بھارت کے کہنے پر پاکستان کے خلاف زہر اگلتے پھرتے تھے آج اسی پاکستان کی تعریفوں کے پل باندھ رہے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے لیے بہترین سے بہترین القابات استعمال کیے جا رہے ہیں۔
کوئی مانے یا نہ مانے آج پاکستان کی اس تمام تر عزت افزائی کا سہرا فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی تینوں مسلح افواج کے سربندھتا ہے جنہوں نے اپنی بہترین منصوبہ بندی سے گزشتہ سال 10 مئی کو معرکہئ حق میں بھارت کو وہ دھول چٹائی کہ اسے رہتی دنیا تک یاد رہے گی۔ اس معرکے نے نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پوری دنیا میں طاقت کا توازن بدل کر رکھ دیا
آج پاکستان تیسری عالمی جنگ رکوانے کی راہ پر گامزن ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کر رہا ہے اور ثالثی بھی ایسی کہ دونوں فریق اس کے سوا کسی اور کو ثالث ماننے کو ہی تیار نہیں۔ دنیا کی واحد سپر پاور کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان آنے کے امکانات ہیں اگر وہ پاکستان آئے تو جنگ کے دوسرے فریق ایران کے صدر مسعود پزشکیان بھی تشریف لا سکتے ہیں۔ اگر یہ دونوں صدور آئے تو بعید نہیں کہ چین، سعودی عرب، ترکی، مصر اور قطر جیسے ممالک کے سربراہان بھی یہاں پہنچ جائیں اور شاید برطانیہ اور فرانس جیسے اہم یورپی ملکوں کے سربراہ بھی آئیں تاکہ اعلٰی ترین سطح کے ضامنوں کی موجودگی میں جنگ بندی کا ایک مضبوط اور پائیدار معاہدہ طے پا سکے۔
اس مقصد کے لیے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار پہلے ہی متحرک ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے نائب وزیراعظم اور دیگر وزرا کے ہمراہ سعودی عرب، قطر اور ترکی کا دورہ کیا ہے تاکہ وہاں کی قیادتوں کو جنگ بندی کے حوالے سے اعتماد میں لیا جا سکے جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی ایران گئے جہاں انہوں نے ایران کے صدر سمیت وہاں کی اعلی قیادت سے جنگ بندی کی تفصیلات پر گفت و شنید کی ہے۔
 پاکستان آنے سے پہلے امریکی صدر نے ایک اور اہم کام کیا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان دس روزہ جنگ بندی کرا دی اور اسرائیل کو امریکی حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنا پڑا۔ یہ وہی خودسر اسرائیل ہے جو بار بار کہہ رہا تھا کہ ایران امریکہ جنگ بندی کے معاہدے میں لبنان شامل نہیں۔ کیسی دلچسپ بات ہے کہ اسرائیل جو دنیا میں سب سے بڑا بدمعاش بنا پھرتا ہے وہ ایران امریکہ جنگ کا فریق ہونے کے باوجود جنگ بندی کے لیے ہونے والے مذاکرات میں بالکل غیر متعلق ہو چکا ہے جبکہ جنگ بندی کے حوالے سے ہونے والے فیصلے بھی ماننے پر مجبور ہے۔ دوسرے لفظوں میں امریکہ اور ایران کی جنگ کا تیسرا اور اہم فریق جو عملی طور پر اصل فریق ہے، جس نے ایران پر حملہ کر کے جنگ کا آغاز کیا اور جس کی وجہ سے امریکہ کو اس جنگ میں کودنا پڑا، وہ بھی اس وقت عالمی سپرپاور امریکہ کی نظر میں پاکستان کے مقابلے میں بے وقعت ہو چکا ہے۔ اسے صرف اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہی کہا جا سکتا ہے۔
این سعادت بزور بازو نیست
تا نبخشد خدائی بخشندہ

مزیدخبریں