اسلام آباد / واشنگٹن: امریکا اور ایران کے درمیان دہائیوں پرانی کشیدگی کے خاتمے اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کی بحالی کے لیے پاکستان کا کردار ایک تاریخی اور فیصلہ کن موڑ پر پہنچ گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ٹروتھ سوشل' پر ایک غیر معمولی اور یادگار پیغام جاری کرتے ہوئے پاکستان کی اعلیٰ قیادت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں واضح الفاظ میں لکھا "پاکستان اور اس کے عظیم وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کا شکریہ، دو شاندار لوگ!!!"
سفارتی حلقے اس بیان کو اتوار کے روز اسلام آباد میں ہونے والے 'اسلام آباد امن مذاکرات' کے دوسرے دور کے لیے ایک انتہائی مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ اس سے قبل پہلے دور میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے شرکت کی تھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مجوزہ معاہدے کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔ امریکا ایران کے 20 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے مرحلہ وار جاری کرنے پر غور کر رہا ہے، جس میں سے 6 ارب ڈالر کی فوری فراہمی شامل ہے۔
اس کے بدلے میں ایران اپنا افزودہ یورینیم (جسے ٹرمپ نے 'نیوکلیئر ڈسٹ' قرار دیا) امریکا یا کسی تیسرے ملک منتقل کرنے اور جوہری تنصیبات کی سخت معائنہ کاری پر رضامند ہو سکتا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مئی 2025 میں وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد سید عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر فائز کیا گیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے انہیں ایک "بہت ہی قابل" اور "غیر معمولی" شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسلام آباد میں حتمی معاہدہ طے پاتا ہے، تو وہ خود پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں۔
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اپنی کامیاب حکمتِ عملی سے نہ صرف خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچایا ہے بلکہ خود کو عالمی سیاست میں ایک ناگزیر 'ثالث' کے طور پر بھی منوا لیا ہے۔ اتوار کو ہونے والے مذاکرات پاک-امریکہ تعلقات اور عالمی امن کے لیے سنگِ میل ثابت ہوں گے۔