اسلام آباد:امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے بادل چھٹنے لگے ہیں۔ امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا انتہائی اہم دوسرا دور اس اتوار کو پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے کا قوی امکان ہے۔ یہ مذاکرات ایک ایسے معاہدے کی کڑی ہیں جس کا مقصد خطے میں جنگ کے خطرات کو مستقل طور پر ختم کرنا ہے۔
مذاکرات کے لیے تیار کیے گئے تین صفحات پر مشتمل مسودے میں سب سے اہم نکتہ 20 ارب ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی ہے۔واشنگٹن ایران کو اس کے منجمد فنڈز تک رسائی دینے پر تیار ہے، بشرطیکہ تہران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دستبردار ہو جائے۔
ابتدائی مرحلے میں 6 ارب ڈالر کی رقم انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جاری کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ذرائع کے مطابق مذاکرات میں کچھ سخت شرائط پر بھی بات چیت جاری ہے۔ امریکا نے مطالبہ کیا تھا کہ ایران اپنا تمام جوہری مواد واشنگٹن کے حوالے کرے، جسے ایران نے مسترد کرتے ہوئے ملک کے اندر ہی یورینیم کی افزودگی کم کرنے کی متبادل تجویز پیش کی ہے۔ امریکا نے تمام جوہری تنصیبات کو زمین کے اوپر (Above ground) منتقل کرنے کی شرط رکھی ہے تاکہ بین الاقوامی معائنہ کار ان کی بہتر نگرانی کر سکیں۔ ایران کو طبی ریسرچ کے لیے نیوکلیئر ری ایکٹر رکھنے کی اجازت دینے پر اتفاق پایا جاتا ہے۔
سفارتی ماحول میں بہتری اس وقت آئی جب صدر ٹرمپ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے فیصلے کو سراہا۔ اگرچہ ایران نے 27 ارب ڈالر کی واپسی کا مطالبہ کیا تھا جو فی الحال تسلیم نہیں کیا گیا، مگر اسلام آباد میں ہونے والا اتوار کا اجلاس اس تعطل کو توڑنے میں کلیدی ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستانی میزبانی میں امریکا ایران اہم مذاکرات: 20 ارب ڈالر کا 'امن پیکج' میز پر، بڑی پیش رفت متوقع
07:22 PM, 17 Apr, 2026