لندن / کابل: بین الاقوامی امور کے ماہر جریدے "ماڈرن ڈپلومیسی" نے افغانستان کی موجودہ صورتحال پر ایک چشم کشا رپورٹ شائع کی ہے، جس میں افغان طالبان کے دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر دیا گیا ہے۔رپورٹ میں براہِ راست الزام عائد کیا گیا ہے کہ افغان طالبان اپنی "غیر قانونی حکومت" کو برقرار رکھنے اور داخلی کمزوریوں کو چھپانے کے لیے فتنہ الخوارج اور دیگر ممنوعہ تنظیموں کو بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔ جریدے کے مطابق طالبان رجیم ان گروہوں کو محفوظ پناہ گاہوں کے ساتھ ساتھ عسکری وسائل بھی مہیا کر رہی ہے۔
یورپی جریدے کی اس رپورٹ نے پاکستان کے ان خدشات کو درست ثابت کر دیا ہے کہ افغانستان دہشت گردی کی نرسری بن چکا ہے۔ فتنہ الخوارج کو افغان سر زمین پر مکمل ریاستی تحفظ حاصل ہے۔ افغان انتظامیہ جان بوجھ کر پڑوسی ممالک کے امن کو داؤ پر لگا رہی ہے۔
رپورٹ کے آخر میں خبردار کیا گیا ہے کہ طالبان کی جانب سے دہشت گردوں کی یہ سرپرستی عالمی برادری کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے۔ اگر فوری طور پر ان ٹھکانوں کا سدِباب نہ کیا گیا تو افغانستان سے اٹھنے والی دہشت گردی کی یہ لہر پوری دنیا کے امن کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔
افغان طالبان دہشت گردوں کے سہولت کار بن گئے: یورپی جریدے کی رپورٹ میں سنسنی خیز انکشافات
01:49 PM, 17 Apr, 2026