بیروت/اسلام آباد: پاکستان کے فعال سفارتی کردار اور اسلام آباد میں ہونے والی پسِ پردہ مشاورت کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کردہ 10 روزہ جنگ بندی معاہدے پر باقاعدہ عملدرآمد شروع ہو گیا ہے، جس سے خطے میں جاری خونریزی تھم گئی ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے اس معاہدے کو امن کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا ہے، جبکہ لبنانی صدر جوزف عون نے اسے لبنان کی سالمیت کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔
حزب اللہ نے بھی تہران کے ساتھ مشاورت اور بعض شرائط کے تحت جنگ بندی کی پاسداری کا عندیہ دے دیا ہے، جس سے سرحدوں پر کشیدگی میں واضح کمی آئی ہے۔ سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جنگ بندی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی اس بڑی سفارتی مہم کا حصہ ہے جس کا مقصد پورے مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن قائم کرنا ہے۔
معاہدے کے اطلاق سے قبل فریقین کے درمیان حملوں کا شدید تبادلہ جاری تھا، تاہم اب لبنان کی سرحدوں پر مکمل سکوت ہے اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی کاموں کی راہیں ہموار ہو رہی ہیں۔
"پاکستان کی امن سفارت کاری کا بڑا ثمر"؛ اسرائیل اور لبنان میں 10 روزہ جنگ بندی کا آغاز
09:25 AM, 17 Apr, 2026