اسلام آباد "امن کا عالمی مرکز"؛ ایران امریکہ مذاکرات کے لیے جڑواں شہروں میں سیکیورٹی ہائی الرٹ

09:18 AM, 17 Apr, 2026

اسلام آباد : پاکستان کی میزبانی میں ایران اور امریکہ کے درمیان تاریخی جنگ بندی مذاکرات کا دوسرا اور فیصلہ کن دور شروع ہونے والا ہے۔ اس انتہائی حساس سفارتی مشن کو فول پروف بنانے کے لیے وفاقی دارالحکومت اور راولپنڈی میں سیکیورٹی کے بے مثال انتظامات کرتے ہوئے جڑواں شہروں کو مکمل طور پر محفوظ (Seal) کر دیا گیا ہے۔
حکام کی جانب سے جاری کردہ ہنگامی پلان کے مطابق سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر درج ذیل پابندیاں فوری طور پر نافذ العمل ہوں گی ۔دیگر اضلاع سے جڑواں شہروں میں داخل ہونے والی ہر قسم کی عوامی اور نجی ٹریفک پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ، ٹورازم سروسز اور رینٹ اے کار کے کاروبار کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔حساس سرکاری تنصیبات، سفارتی انکلیو اور اہم داخلی و خارجی راستوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اضافی نفری تعینات کر کے انہیں 'ہائی الرٹ' پر رکھا گیا ہے۔
عالمی سطح پر ان مذاکرات کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ گئی جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک اہم بیان سامنے آیا۔ انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارتی حکمتِ عملی کو سراہتے ہوئے انہیں "عظیم انسان" قرار دیا۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگر ایران کے ساتھ ڈیل کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے تو وہ خود پاکستان کا دورہ کر سکتے ہیں، جو پاکستان کی عالمی ثالث کے طور پر بڑی فتح سمجھی جا رہی ہے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات عالمی مندوبین کی بحفاظت آمد و رفت اور "اسلام آباد امن عمل" کو سبوتاژ کرنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔

مزیدخبریں