گزشتہ کالم میں بات ہو رہی تھی ''مجھے کیا'' والے طرز عمل کی اور میں بتا رہا تھا کہ کس طرح حکمران بیوروکریسی سے اپنے کام نکلوانے کے لیے اصولوں، ضابطوں اور قوانین کی خلاف ورزیاں کرتے ہیں اور اس سے ملک، معاشرے، ریاست اور نظام کو کیا نقصان پہنچتا ہے اس سے انہیں کوئی غرض نہیں ہوتی۔ وزیروں نے اپنا کام کرانا ہوتا ہے گھنٹوں میں اور دنوں میں، چنانچہ فائل کو سپیڈ اپ (Speed up) کرنے کے لیے وہ اپنی کوئی نہ کوئی پاور استعمال کرتے ہیںِ، حاصل اختیارات بروئے کار لاتے ہیں یا پھر خود سے بھی اعلیٰ حکام کی سفارش ڈلواتے ہیں۔
''مجھے کیا'' والا طرز عمل محض حکمرانوں، وزیروں اور بیوروکریسی تک محدود نہیں ہے۔ یہ ہمیں زندگی کے دوسرے شعبوں اور سماج کے دیگر طبقوں میں بھی نظر آتا ہے۔ تعلیم کا شعبہ بھی ان میں سے ایک ہے۔ میں نے کچھ عرصہ پہلے ایک آرٹیکل لکھا تھا جو ایجوکیشن کے موضوع پر تھا۔ میں نے لکھا تھا کہ دنیا میں پہلے نمبر پر جس ملک کی ایجوکیشن آتی ہے وہ فن لینڈ ہے۔ اس حوالے سے دوسرا نمبر سوئٹزرلینڈ کا ہے۔ دونوں ممالک میں طریقہ یہ ہے کہ بچوںکو چھ سال کی عمر کے بعد سکول بھجواتے ہیں۔ اس سے پہلے بچہ گھر میں ہی سیکھتا اور پڑھتا ہے۔ ان لوگوں (فن لینڈ اور سوئٹزرلینڈ والوں) کا کہنا ہے کہ بچہ پہلے والدین سے سیکھے، دادا دادی اور نانا نانی سے سیکھے، چاچے چاچی اور تایا تائی سے سیکھے، بڑے بھائی بہنوں سے سیکھے، اس کے بعد جب معاملات کو سمجھنے لگے تو تب سکول آئے۔
کس عزیزہ کو سکول سے فون آیا کہ آپ کا بچہ رو رہا ہے اسے لے جائیں۔انہوں نے بہت چھوٹی عمر کے بچے کو سکول داخل کرایا تھا ۔ میں نے مولانا طارق جمیل کے بہت سے بیانات سنے ہیں۔ وہ بھی کہتے ہیں کہ بچوں کو سات سال سے پہلے سکول نہ بھیجیں۔ پہلے وہ معاملات کو سمجھنے کے قابل ہو جائیں، انہیں پتا ہو کہ واش روم جا کر اپنی صفائی کیسے رکھی جا سکتی ہے۔بہت چھوٹا بچہ کیا جانے تعلیم کیا ہوتی ہے۔بہت چھوٹی عمر میں سکول جانے سے اس کی خاندان سے جڑت اور گروتھ رک جاتی ہے۔
یہ ساری تمہید باندھنے کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ تعلیم کے شعبے میں بھی ''مجھے کیا'' والا معاملہ چل رہا ہے۔ کہیں کوئی بہتری ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ کوئی ادارہ، کوئی وزارت، کوئی شعبہ، کوئی محکمہ لے لیں، کہیں کچھ اچھا نظر نہیں آتا۔ جہاں منسٹر صرف فارمیلٹی پوری کرنے کے لیے لگایا جائے وہاں اور کیا رہ جاتا ہے؟ اچھے منسٹرز بھی آتے ہیں جو اچھا اور بھرپور کام کرتے ہیں، لیکن باقی جو کچھ ہے آپ کے سامنے ہے۔ ہم دوسرے ممالک میں دوروں پر جاتے ہیں۔ وہاں کے افسروں کو کام کرتے دیکھتے ہیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اپنا حقیقی فرض ادا کر رہے ہوں، جیسے اس میں ان کا ذاتی انٹرسٹ ہو۔ کام بھی اس طرح کر رہے ہوتے ہیں کہ لوگ خوش ہو رہے ہوتے ہیں۔ دنیا کا کوئی ترقی یافتہ، مہذب ملک دیکھ لیں وہاں سرکاری ادارے اور سرکاری حکام ریاست کو اور عوام کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہمارے یہاں پیسے اور دولت کو ترجیح دی جاتی ہے اور صرف اپنی فیملی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ باقی جائیں بھاڑ میں۔
یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کہ حکومت کی ان اہم معاملات میںکوئی پالیسی نہیں ہے۔ حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی رہنمائی نہیں ہے۔سیاسی جماعتیں اس کمی کا احساس بھی نہیں کرتیں ورنہ ایک کمیٹی ضرور بنائیں جو اہل و لائق افراد کو پارٹی میں شامل کرنے کی ترغیب دے ۔ ہمارے جیسے دانشور جو باہر بیٹھے ہوئے ہیں یعنی حکومت اور حکومتی پالیسیاں بنانے میں جن کا کوئی کردار نہیں ہے۔ بے بسی سے یہ سب کچھ ہوتے دیکھتے ہیں اور کچھ کر نہیں سکتے۔جو طاقت میں ہیں وہ دیوار بنے ہوئے ہیں، کسی اہل کو آگے نہیں آنے دیتے ۔لائق لوگ باہر اس لیے ہیں کہ وہ حکمرانوں کی گاڑیوں کے دروازے نہیں کھول سکتے، ان کے لیے نعرے نہیں لگا سکتے، ان کی گاڑیوں کے آگے لیٹ نہیں سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ جو قابل بندہ ہے وہ پیچھے ہے اور جو پروفیشنل نعرے باز ہے جس کا کام ہی صبح اٹھ کر لیڈر کو اپنی شکل دکھانا اور پھر اس کے حق میں جھوٹے نعرے لگانا ہے اور اس کو اپنے کندھے پر اٹھانا ہے وہ جا کر وزیر تعلیم بن جاتا ہے، وزیر صحت بن جاتا ہے۔ مجھے بتائیں کون قابل بندہ ہے جو وزیر بن کر سامنے آیا ہو اور جس نے اپنے محکمے اپنے شعبے کی کایا پلٹ کر رکھ دی ہو۔ یہ ان پڑھ، جاہل چودھری ہیں جن کی بس یہ خواہش ہے کہ میرا بچہ تحصیل دار لگ جائے، انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ یہ ملک کے اچھا ہو گا یا نہیں ہو گا، وہ اچھا کام کرے گا یا نہیں کرے گا۔ فیئرنیس ہی نہیں ہے۔ پتا ہی نہیں ہے کہ فیئرنیس کیا ہوتی ہے۔ یہ پتا دینا، یہ آگہی پیدا کرنا کس کا کام ہے؟ یہ میڈیا کا کام ہے، گورنمنٹ کا کام ہے کہ پالیسی بنائے چیزوں کو دیکھے اور منصوبہ بندی کرے۔ لیکن ہر طرف ''مجھے کیا'' والا ذہن کارفرما نظر آتا ہے۔
میرے ایک دوست گورنمنٹ کے ٹھیکے دار ہیں۔ کتابیں چھاپتے ہیں۔ انہوں نے ایک دفعہ مجھے بتایا کہ وہ یعنی محکمے والے جب چھپی ہوئی کتابیں لیتے ہیں تو کارٹون یعنی ڈبے گن کر لیتے ہیں، اور پھر حساب لگا لیتے ہیں کہ ایک کارٹون میں اتنی کتابیں ہیں تو اتنے ڈبوں میں کتنی ہوں گی۔ میرا دوست بتاتا ہے کہ اگر آپ کے کارٹون یا ڈبے دو سو کے دو سو پورے ہیں تو وہ کہیں گے کہ کارٹون بیس کم دے دو لیکن ہمیں خرچہ دو، ان ڈبوں میں جو مرضی ہے ڈال دو لیکن ہمیں خرچہ دو۔ یونین بنی ہوئی ہے، بغیر خرچے پانی کے وہ لوڈنگ ان لوڈنگ بھی نہیں کرنے دیتے۔ ہر جگہ تو رشوت کا بازار گرم ہے۔ اوپر سے لے کر نیچے تک کرپشن ہے۔ اوپر بیٹھا جو کھا رہا ہے یہ سوچتا ہے کہ میں بھی تو کھا ہی رہا ہوں، چلو اس کو بھی کھانے دو۔
مجھے کیا…؟
09:55 AM, 17 Apr, 2025