سی ایس ایس : میرٹ کی سیڑھی بدلنے کی ضرورت؟

09:26 AM, 17 Sep, 2026

سی ایس ایس کا امتحان ہمارے معاشرے میں محض ایک امتحان نہیں بلکہ ہزاروں نوجوانوں کے لیے امید، خواب اور میرٹ کی علامت ہے۔ ایسے نوجوان جن کے پاس نہ سیاسی پشت پناہی ہے، نہ جاگیردارانہ اثر و رسوخ اور نہ دولت کی طاقت، ان کے لیے یہ امتحان اس یقین کا نام ہے کہ محنت، قابلیت اور میرٹ کے ذریعے ریاستی نظام میں جگہ بنائی جا سکتی ہے۔ اسی لیے سی ایس ایس کا معاملہ صرف بھرتی کا نہیں بلکہ ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا معاملہ بھی ہے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ امتحانی نظام بدلتے ہوئے پاکستان کی ضروریات کے مطابق بھی ہے؟۔
پاکستان کی آبادی، شہری آبادی، بے روزگاری، مہنگائی، ماحولیاتی تبدیلی، پانی کا بحران، صحت، تعلیم، جرائم، سائبر خطرات اور جدید ٹیکنالوجی جیسے مسائل مسلسل نئی صورت اختیار کر رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل نظام نے سرکاری انتظام و انصرام کے تقاضے بھی بدل دیے ہیں۔ ایسے میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ ہم مستقبل کے افسر منتخب کرنے کے لیے کس نوعیت کی صلاحیت جانچ رہے ہیں۔ سی ایس ایس کا موجودہ ڈھانچہ ایک طویل انتظامی روایت کا تسلسل ہے۔ وقت کے ساتھ اس میں اصلاحات بھی ہوتی رہی ہیں، لیکن آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اسے موجودہ اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔
حالیہ اعداد و شمار بھی اس بحث کو اہم بناتے ہیں۔ 2026ءمیں ہزاروں امیدواروں نے درخواست دی، 17 ہزار سے زیادہ امیدوار کم از کم ایک پرچے میں شریک ہوئے اور تقریباً 476 امیدوار تحریری مرحلے میں کامیاب ہوئے۔ 2025ءمیں بھی درخواست گزاروں اور امتحان میں شریک ہونے والوں کی تعداد کے مقابلے میں کامیاب امیدواروں کی تعداد بہت کم رہی۔ تاہم تحریری امتحان پاس کرنا سرکاری ملازمت حاصل کرنے کے مترادف نہیں؛ نشستوں، کوٹے اور مختلف گروپوں کی دستیابی کے باعث کامیاب امیدواروں میں سے بھی محدود تعداد کو تقرری ملتی ہے۔ یہاں اصل سوال پیدا ہوتا ہے: کیا ہم بہترین افسر منتخب کر رہے ہیں یا صرف بہترین امتحان دینے والے امیدوار؟۔ ایک اور اہم مسئلہ زبان کا ہے۔ انگریزی سرکاری اور پیشہ ورانہ امور میں اہم ہے، اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، لیکن زبان کی روانی کو ذہانت، انتظامی صلاحیت اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت کا واحد پیمانہ بھی نہیں بنایا جا سکتا۔ اردو اور علاقائی زبانوں سے آنے والے ایسے نوجوان بھی ہو سکتے ہیں جو اپنے معاشرے، مسائل اور زمینی حقائق کو بہتر سمجھتے ہوں، مگر زبان کی مخصوص کمزوری ان کی دوسری صلاحیتوں کو پس منظر میں دھکیل دے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ امتحان میں امیدوار کے علم کے ساتھ اس کی سمجھ، تجزیہ، دلیل، مسئلہ حل کرنے اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کو بھی نمایاں اہمیت دی جائے۔ مثلاً کسی شہر میں اچانک ٹریفک کا بحران پیدا ہو جائے، کسی ہسپتال میں بچوں کی اموات بڑھ جائیں، سرکاری اسکولوں میں اساتذہ غیر حاضر ہوں، جرائم میں اضافہ ہو یا سیلاب کسی ضلع کو متاثر کر دے تو ایک افسر کو صرف قوانین اور دفتری طریقہ کار معلوم ہونا کافی نہیں۔ اسے فوری فیصلہ کرنا، ترجیحات طے کرنا، وسائل استعمال کرنا، متعلقہ اداروں کو متحرک کرنا اور متاثرہ شہریوں سے انسانی رویے کے ساتھ پیش بھی آنا چاہیے۔
اسی لیے سی ایس ایس میں چند بنیادی اصلاحات پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔
اول: نصاب کا ہر تین سے پانچ سال بعد باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔ اس مقصد کے لیے آزاد ماہرین پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے جس میں تعلیم، انتظامیہ، معیشت، قانون، ٹیکنالوجی اور سماجی علوم کے ماہرین شامل ہوں۔ رٹنے والے مواد کو کم اور موجودہ قومی و عالمی مسائل، تجزیاتی مطالعے اور عملی علم کو زیادہ جگہ دی جائے۔
دوم: سوالات کے انداز میں تبدیلی لائی جائے۔ امیدوار سے صرف معلومات یاد رکھنے کے بجائے یہ پوچھا جائے کہ وہ کسی مسئلے کا تجزیہ کیسے کرتا ہے، پالیسی کیسے تجویز کرتا ہے اور محدود وسائل میں عملی حکمت عملی کیا اختیار کرے گا۔ اس طرح امتحان کتابی قابلیت کے ساتھ انتظامی سوچ کو بھی جانچ سکے گا۔
سوم: امتحانی جانچ کو مزید شفاف بنایا جائے۔ شناخت مخفی رکھ کر جانچ، دوبارہ جانچ کے مو¿ثر طریقہ کار، نمونہ پرچوں کی نگرانی اور معیار کی مسلسل جانچ جیسے اقدامات سے امیدواروں کا اعتماد بڑھایا جا سکتا ہے۔ مناسب حد تک یہ بھی بتایا جانا چاہیے کہ امیدوار کی کمزوری کس شعبے میں رہی تاکہ ناکامی محض مایوسی نہ بنے بلکہ آئندہ بہتری کا ذریعہ بن سکے۔
چہارم: زبان کے ساتھ سمجھ کو بھی اہمیت دی جائے۔ انگریزی کی عملی ضرورت اپنی جگہ موجود ہے، لیکن صرف زبان کی روانی کو مجموعی قابلیت کا متبادل نہیں بنایا جانا چاہیے۔ امیدوار کی مطالعہ، تجزیہ، دلیل، فیصلہ سازی اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت کو بھی مو¿ثر انداز میں جانچا جائے۔
پنجم: ایسے امیدواروں کے لیے بھی سوچا جائے جو تمام اہم مراحل میں اپنی قابلیت ثابت کر دیتے ہیں مگر محدود نشستوں کے باعث حتمی تقرری حاصل نہیں کر پاتے۔ قواعد اور میرٹ کے دائرے میں ایک قومی سطح کی باصلاحیت امیدوار فہرست یا وفاقی و صوبائی سرکاری اداروں کے درمیان مربوط بھرتی کا نظام بنایا جا سکتا ہے تاکہ قابل افراد کی صلاحیت ضائع نہ ہو۔
وفاقی اور صوبائی سطح پر بھرتی کے نظام میں بہتر رابطہ بھی وقت کی ضرورت ہے۔ ایک امیدوار اگر کسی ایک امتحانی نظام میں مطلوبہ معیار پر پورا اترتا ہے تو اس کی صلاحیت کو وسیع تر قومی ضرورت کے تناظر میں دیکھنے کی گنجائش ہونی چاہیے، بشرطیکہ تقرری کے تمام اصول اور میرٹ برقرار رہیں۔ پاکستان کو ایسے افسر درکار ہیں جو قانون جانتے ہوں، دفتری طریقہ کار سمجھتے ہوں، اعداد و شمار پڑھ سکتے ہوں، ٹیکنالوجی کو سمجھتے ہوں، بحران میں فیصلہ کر سکتے ہوں اور عام شہری کے مسائل کو محض ایک فائل نہیں بلکہ ایک انسانی مسئلہ سمجھتے ہوں۔ اصل امتحان دراصل اس دن شروع ہوتا ہے جب ایک افسر کے سامنے کسی غریب شہری کی درخواست آتی ہے۔ قانون جاننا ضروری ہے، مگر قانون کے ساتھ انصاف کا شعور بھی ضروری ہے۔ اختیار حاصل کرنا اہم ہے، مگر اختیار کے ساتھ ذمہ داری کا احساس اس سے زیادہ اہم ہے۔ زبان آنا مفید ہے، مگر عوام کی زبان اور تکلیف سمجھنا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔
اس لیے سی ایس ایس کو ختم کرنے کی نہیں، اسے وقت کے تقاضوں کے مطابق بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ میرٹ کو کمزور کرنے کی نہیں، میرٹ کی تعریف کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔ انگریزی کو ختم کرنے کی نہیں، اسے قابلیت کا واحد پیمانہ بنانے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے۔ امتحان کو آسان بنانے کی نہیں، اسے زیادہ بامعنی، شفاف، منصفانہ اور عملی بنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو ایسے افسر نہیں چاہئیں جو صرف امتحان پاس کر لیں؛ پاکستان کو ایسے افسر چاہئیں جو پاکستان کے مسائل سمجھیں اور انہیں حل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں۔ سوال صرف یہ نہیں کہ کون امتحان پاس کرتا ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہم بدلتے ہوئے پاکستان کے لیے کس طرح کے افسر تیار کر رہے ہیں؟۔

مزیدخبریں